تازہ تر ین

جوتری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا

خضر کلاسرا
تحریک انصاف کی حکومت کے ڈیڑھ سال بعد قوم کو تبدیلی کا اندازہ تو آٹا ، ٹماٹر سے لیکر ڈیزل اور پٹرول کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی شکل میں اچھی طرح ہوچکا ہے ۔ عوام کی مہنگائی اور بیروزگار ی سمیت دیگر ایشوز سے نکلتی چیخوں کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کا جواب یوں آتا ہے کہ گھبرانا نہیں ‘اور ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل کا بم عوام پر گرادیا جاتا ہے۔ ادھر چاروں اطراف مہنگائی کی آگ عوام کو گھیر لیتی ہے ۔ ڈیڑھ سال سے عوام اور حکومت کے درمیان گلے اور ناراضگی چلتی چلی آرہی ہے لیکن اب عوام اورتبدیلی حکومت کے درمیان جاری اس تلخ کھیل میں سونے پہ سہاگہ یہ ہوگیا ہے کہ حکومت کے اتحادی بھی میدان میں آگئے ہیں۔ مطلب حکومت سے فاصلہ کرنے کے علاوہ پالیسیوں پر تنقید بھی شروع کردی ہے ۔ پہلی کارروائی حکومت کے اتحادی متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے یوں ڈالی گئی کہ ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے وزرات سے استعفیٰ دے دیا اورکابینہ کے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے ۔ دلچسپ صورتحال یوں بھی پیدا ہوگئی ہے کہ ایم کیوایم نے اپنی تنقیدی توپوں کا رخ بھی حکومت کی کارکردگی کی طرف کرلیا ہے۔ ایم کیوایم کی کاروائی سے تحریک انصاف کی قیادت ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ دوسری طرف حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی طرف سے ناراضگی اور تنقیدی حملوں کا سلسلہ ٹی وی پروگراموں میں شروع کردیاگیا ۔ اس کیلئے چودھریوں نے ٹاسک مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی و وفاقی وزیرطارق بشیر چیمہ کو دیاجوکہ اس نعرے کیساتھ میدان میں آگئے ہیں کہ عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہے، مطلب ان کا جینا حرام ہوچکا ہے ۔ بے روزگاری ہو گئی ہے ۔ حکومتی غلطیوں کی سزا ہم کیوں بھگتیں؟ حکومت میں شامل ہوئے تھے تو تحریری معاہدہ ہوا تھا ۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی تحریک انصاف حکومت پر تنقید معلوماتی یوں تھی کہ موصوف عمران خان کی کابینہ میں وزیرجو ہوئے، ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ عوام کو کیسے حکومتی پالیسیوں نے دیوار کیساتھ لگایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ‘یہی کچھ طارق بشیر چیمہ کی گفتگو سے لگ رہا تھا ۔اور ایسا ہی حکومت کے دیگر اتحادی کررہے ہیں۔طارق چیمہ نے ہوسکتا ہے حکومت کے حوالے سے سارے سچ بولے ہوں لیکن موصوف نے ایک وجہ حکومت سے ناراضگی کی عوام کو نہیں بتائی ، وہ یہ کہ وزیراعظم عمران خان نے چودھریوں کے فرزند مونس الٰہی کو کابینہ میں نہیں لیا ہے ۔
حکومت اور اتحادیوں کے درمیان مذاکرات اور جاری لفظی جنگ میں ایک بات زور دے کر کہی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ معاہدہ ہواتھا۔ ایک طرف ایم کیوایم کے فیصل سبزواری اور دوسری طرف مسلم لیگ ق کے طارق چیمہ تکرار کررہے ہیں کہ معاہدہ ہواتھا ۔ یوں لگتاہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زبانی کلامی یقین دہانی پر کوئی اعتبار کرنے پر تیار نہیں تھا ۔ مسلم لیگ ق اور ایم کیوایم کے علاوہ دیگر اتحادیوں کی طرف سے بھی ناراضگی اور گلے شکوے شروع ہوگئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اتحادیوں سے بات چیت کیلئے کمیٹی بنادی گئی ہے ، لیکن ابھی کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی بلکہ حالیہ کابینہ کے اجلاس میں خالد مقبول صدیقی اور طارق بشیر چیمہ شریک نہیں ہوئے ہیں۔ سمجھدار لوگوں نے جب وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر اتحادیوں جماعتوں کی طرف سے تنقید اور فاصلے دیکھنے کو مل رہے ہیں ، اس وقت سیاسی جماعتوں کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی جمع تقریق شروع کردی ہے تاکہ پتہ چلے کہ حکومت کے اتحاد سے اتحادی نکلتے ہیں تو وزیراعظم عمران خان کی حکومت اکثریت برقرار رکھ پائے گی؟۔ اس وقت حکمران جماعت تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 156نشستیں ہیں ،مسلم لیگ نواز 84 جبکہ پیپلزپارٹی کی اسمبلی میں 56 نشستیں ہیں۔ اسی طرح متحدہ مجلس عمل کی 16، مسلم لیگ ق کی 5 ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی 3 ، عوامی مسلم لیگ ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی 4 ، بلوچستان عوامی پارٹی5 اور آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے۔ حکمران اتحاد پر نظردوڑائیں تو اس کے پاس 183 کا نمبر ہے جبکہ حزب اختلاف کے پاس 158نشستیں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے آنے بعد اپوزیشن 165 پر پہنچ جائے گی اور حکومت 176پر آجائے گی ۔ قومی اسمبلی میں حکومت بنانے کیلئے 172ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر ایم کیوایم کے بعد دیگر اتحادی جماعتوں کے پانچ ارکان کی جانب سے حزب اختلاف کی حمایت پر حکومت کیلئے سادہ اکثریت بچانا مشکل ہوجائیگا ۔ آخری اطلاعات تک مسلم لیگ ق کی طرف سے حکومت کے بحیثیت اتحادی ایک ہفتہ کی مہلت ملی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ جو کام ڈیڑھ سال میں نہیں ہوسکاہے وہ ایک ہفتہ میں کیسے ممکن ہوگا ؟لیکن پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘کے مصداق مثبت رپورٹنگ کرنی ہوگی۔ ویسے اتحادی اور حکومت عوام کی مشکلات کی بجائے ایک دوسرے کو ریلیف دینے کیلئے مذاکرات کررہے ہیں ، یوں کہانی یوٹرن بھی لے سکتی ہے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی معاہدوں کی کہانی ایم کیو ایم ، مسلم لیگ ق اور دیگر اتحادیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ تحریک انصاف نے اپنے لیڈر عمران خان کی موجودگی میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں کیساتھ بھی الگ صوبہ بنانے کا تحریری معاہدہ کیا تھا ، امید ہے وزیراعظم عمران خان اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والوں کو وزراتوں کے جھنڈے والی کاروں اورپروٹوکول کی موجودگی میں بھی سب یاد ہوگا ، وگرنہ عوام کو تو سب یاد ہے ۔ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے معاہدہ کرتے وقت کی تصاویر موجود ہیں۔ اس معاہدہ کے تحت سرائیکی قوم کو نوازشریف اور آصف علی زرداری سے آگے کی کہانی ڈال کر تحریک انصاف کی قیادت نے ، جنرل الیکشن 2018ءمیں حمایت حاصل کی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کو اس وقت تحریری معاہدہ کی خوشی میں نیلی اجرک بطور خاص پہنائی گئی تھی تاکہ سند رہے ۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور تحریک انصاف کے معاہدہ کے نتیجہ میں تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد سو دن کے اندر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اچھی ڈیل تھی جوکہ عوام میں مقبول ہوئی ، پھر الیکشن ہوئے تو نتیجہ تحریک انصاف کے حق میں رہا ، اس کے پیچھے ساری سائنس صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کی یقین دہانی تھی۔ تحریک انصاف کے اقتدار میں آتے ہی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پیاروں کو وزراتین ملیں ، ان کے وارے نیارے ہوگئے ہیں لیکن افسوس ناک صورتحال جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے وہی رہی جوکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگی قیادت کے اقتدار میں آنے کے بعد رہی تھی، مطلب جنوبی پنجاب صوبہ کی فائل تحریک انصاف کی حکومت نے بھی پچھلی حکومتوں کی طرح دبالی اور جنوبی پنجاب صوبہ کے حوالے سے سو دن گزرنے کے بعد یہ بیان دیا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے ، سیکرٹریٹ بنارہے ہیں ، ادھر جارہے ہیں اور ادھر سے آرہے ہیں ۔ اور پھر چاروں اطراف خاموشی چلی آرہی ہے ۔ جس سیاسی گروہ نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا نعرہ لگایا تھا، اور عوام کو یقین دلایاتھا کہ اس بار جنوبی پنجاب صوبہ، تحریک انصاف بنائے گی ، تحریری گارنٹی تحریک انصاف کے قائد عمران خان سے لے لی گئی ہے، لیکن تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد وعدہ وفا نہیں ہوا ہے۔ یہاں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جس وقت مسلم لیگ ق اور ایم کیوایم حکومت کی طرف سے وعدے پورے نہ کرنے پر احتجاج کے علاوہ کابینہ اجلاس میں نہیں جارہی ہے۔ اس وقت جنوبی پنجاب صوبہ محاذ جن کے پاس وزیراعظم عمران خان کے دستخطوں سے جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کیلئے تحریری معاہدہ موجود ہے ، وہ خاموش کیوں ہیں؟ وہ کابینہ اجلاس سے بائیکاٹ کے علاوہ وزیراعظم عمران کو وعدہ یاد دلانے کیلئے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھار ہے ؟ کیا وہ سب ڈرامہ تھا جوکہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ اور تحریک انصاف کی طرف سے تحریری معاہدہ کی شکل میں جنرل الیکشن 2018 ءسے پہلے کیا گیا تھا۔ کیا عوام کوایک بار پھر سیاسی میدان میں دھوکہ دیاگیاہے ؟ اس بات کی وضاحت ان سب کرداروں کو کرنی ہوگی جوکہ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم پر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی عوام کو یقین دہانی کروارہے تھے ؟ ویسے اتحادیوں اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان جاری محبتوں سے جدائیوں کی کہانیوں میں غالب کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔
بوئے گل ، نالہ دل دود چراغ محفل
جوتری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved