تازہ تر ین

اتحادیوں کا حکومت مخالف گٹھ جوڑ

عبدالقدوس منہاس

سیاسی افق پر پیدا ہونیوالا ارتعاش اگرچہ وقتی طور پر دھیما پڑگیا ہے مگر ابھی اسکے خطرناک طوفان میں تبدیل ہونے کا خطرہ ٹلا نہیں، حکومت کی 6اتحادی جماعتوں میں 5اپنی ناراضی ظاہر کرچکی ہیں، ایک شیخ رشید کی عوامی پارٹی ہے جو راضی بہ رضا ہے، ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی وزارت سے استعفیٰ دے چکے ہیں، مگر وزارت سے علیحدگی کے باوجود ابھی حکومت کا حصہ ہیں، ایم کیو ایم کراچی میں اپنے ووٹرز کو راضی رکھنے کیلئے بے تحاشا فنڈ اور میئر کراچی وسیم اختر کو بااختیار بنانا چاہتی ہے تاکہ نچلی سطح پر گلی محلوں میں ترقیاتی کام کراکے ووٹرز کی حمایت حاصل کی جاچکے، ایم کیو ایم کا دوسرا مسئلہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ہیں، انکو کابینہ میں ایم کیو ایم کے کوٹہ پر نمائندگی ملی، مگر ایم کیو ایم انکو اپنا بندہ مانتی ہے نہ فروغ نسیم خود کو ایم کیو ایم کے نظم کا پابند سمجھتے ہیں، ایم کیو ایم ان کی جگہ ایک اور وفاقی وزارت کی خواہش مند ہے ایک اطلاع کے مطابق فروغ نسیم کو گورنر سندھ کی ذمہ داری سونپی جارہی ہے ، ایم کیو ایم کی قیادت کو اس پر بھی اعتراض ہے کہ ایم کیو ایم ڈاکٹر عشرت العباد جیسا گورنر دوبار ہ نہیں چاہتی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) بھی اکھڑی اکھڑی ہے، اختر مینگل کو شکوہ ہے کہ حکومت سازی کے مرحلہ پر ہونیوالے اتحاد کے وقت کئے گئے وعدے پورے نہیں کیے جارہے، ترقیاتی فنڈز کے علاوہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ ہے، بلوچوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں پر اعتراض ہے، بلوچستان سے دوسری اتحادی جماعت بلوچ عوامی پارٹی بھی اختر مینگل کی ہم آواز ہے، سندھ سے حکومت کا اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بھی حکومت کیلئے مسئلہ بنا ہوا ہے، حکومت کی سب سے بڑی اتحادی مسلم لیگ ق ان جماعتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اگرچہ وہ اختلافات کی گرد کو ہٹانے کیلئے سرگرم دکھائی دیتی ہے، مگر اسکے بھی حکومت سے اختلافات اور بعض معاملات میں تحفظات ہیں، خبر کے مطابق چوہدری برادران حکومت کی اتحادی جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور مطالبات تسلیم کرانے کیلئے مشترکہ اور متفقہ آواز بلند کرنے کیلئے کوشاں ہیں، فضل الرحمان کا دھرنا ختم کرانے میں اہم کردار اداکرنےوالے چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی نے اس تناظر میں فضل الرحمن سے ملاقات کی، فضل الرحمان جو خود شش و پنج میں ہیں کہ گذشتہ دھرنا انہوں نے اس اعلان کےساتھ ختم کیا تھا کہ دسمبر 2019میں حکومت کو گھر کی راہ دکھادی جائیگی، اور نئے الیکشن ہونگے مگر ایسا نہ ہوسکا اب وہ کارکنوں کو دوبارہ دھرنے کی کال دینے میں تامل کررہے ہیں کہ کارکنوں کو کیا کہیں ، دھرنا ختم کرتے وقت انہوں نے جو کہا تھا وہ سچ ہے یا اب جو مطالبات وہ پیش کرینگے وہ درست ہیں، اس تناظر میں چوہدری برادران فضل الرحمن کی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں جو خود پارلیمنٹ کا حصہ نہیں مگر انکی جماعت کے 15ارکان پارلیمنٹ میں انکی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ بات مگر ریکارڈ پر ہے کہ فضل الرحمن نے چوہدری برادران کی درخواست پر آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حمایت نہیں کی تھی، جماعت اسلامی دوسری جماعت تھی جس نے اس ترمیم کی مخالفت کی تھی، چوہدری برادران کبھی بھی احتجاجی سیاست کا حصہ نہیں رہے اس لیے انکی کوشش ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سواتمام اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کی اتحادی جماعتوں پر مشتمل ایک پریشر گروپ وجود میں لایا جاسکے جو پارلیمنٹ میں لہجہ نرم رکھے، بیانات میں میانہ روی کا مظاہرہ ہو مگر حکومت سے ہونےوالے بند کمرہ اجلاسوں میں مذاکرات کے دوران اپنی بھڑاس نکال کر حکومت سے مطالبات تسلیم کرائے۔

ق لیگ کو پنجاب کے علاوہ بلوچستان میں بھی ایک خاص حیثیت حاصل ہے مگر چوہدری برادران کی نظر پنجاب پر ہے ، ق لیگ اگر ن لیگ سے تعاون کرکے مرکز میں شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے اور شرط یہ عائد کرتی ہے کہ پنجاب میں اسے وزارت اعلیٰ دی جائیگی اور اسکے لئے حکومت کی تمام اتحادی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حکومت کیلئے مشکلات سے نبردآزما ہونا مشکل نہیں ناممکن ہوجائیگا، اگرچہ سیاست میں کچھ ناممکن نہیں اگر ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں اتفاق رائے ہوسکتا ہے تو ق اور ن لیگ میں بھی اشتراک کار ممکن ہے مگر بظاہر اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے کہ مرکز میں اگر شہبازشریف وزیراعظم آئے تو وہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کےلئے مشکلات کھڑی کرینگے، اور پرویز الٰہی شہباز شریف کیلئے ڈراو_¿نا خواب بن جائینگے، اس لئے دونوں جماعتوں میں شراکت اقتدار ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

اس صورتحال کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ حکومتی مشکلات میں کمی آئیگی ، اگر اتحادی جماعتیں بھی حکومت سے علیحدگی اختیار کرلیتی ہیں تو مرکز اور صوبوں میں انکی کوئی سیاسی حیثیت نہیں رہے گی، اور اب جو تھوڑا بہت مل رہا ہے اس سے بھی ہاتھ دھونے پڑینگے، مگر اتحادی جماعتوں کی اس کمزوری کو حکومت کی طاقت تصور نہیں کیا جاسکتا ، حکومت کو بھی کسی نہ کسی سٹیج پر اتحادیوں کو مطمئن کرنا پڑیگا، اور اسکا بہترین راستہ کچھ لو کچھ دو ہے ورنہ سیاسی سطح پراٹھنے والا یہ ارتعاش وبال میں تبدیل نہ ہو تک حکومت کی مشکلات میں اضافہ کا سبب ضرور بنے گا۔

(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved