تازہ تر ین

علامہ اقبال کا پیغام

اعجاز احمد بٹر

علامہ اقبال میوزیم پہلے جاوید منزل تھی 1977ءمیں جب علامہ اقبال کا سو سالہ جشن ولادت منایا گیا تو حکومت نے اقبال منزل سیالکوٹ، اقبال کی میکلوڈ روڈ والی رہائش گاہ اور جاوید منزل کو تحویل میں لیا ان عمارتوں کو خرید لیا گیاجس کے بعد یہ تینوں مقام میوزیم میں بدل دئیے گئے 1935ءمیں علامہ اقبالؒ اور ان کے اہل خانہ میکلوڈ روڈ والی کوٹھی سے جاوید منزل میں منتقل ہو گئے۔ علامہ اقبال نے میکلوڈ روڈ والے گھر میں 13 سال گزارے وہ یہاں 1922ءمیں آئے تھے عمر کے آخری حصے میں علامہ صاحب کو اپنا گھر ملا تو اسے اپنے لاڈلے صاحبزادے جاوید کے نام سے منسوب کر دیا اقبال میوزیم، 9 گیلریوں پر مشتمل ہے اس کا رقبہ تقریباً سات کنال ہے میوزیم میں علامہ کی کئی اشیا موجود ہیں علامہ اقبال ؒ سچے عاشق رسول تھے انکی شاعری قرآن کریم کی یدائیت اور عشق رسول سے مزین تھی انسانی تاریخ نے اس صدی اور اسکے بعد فکرکی بلندی پہ فائزایسا شاعر نہیں پایا یہی وجہ ہے کہ ایسا شعر اللہ اور اسکے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے دامن سے لو لگائے بغیر نہیں ہوسکتا ۔

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

علامہ اقبال ؒ عالی رتبوں اور امارت سے بے نیاز فقیری اور قلندری کے قائل تھے شائد یہی وجہ ہے کہ آج اقبال ؒ میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رستم خان خود کو ڈائریکٹر کی جگہ میوزیم کا مجاور کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیںکل ہی ناچیز بزم وارث شاہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک تقریب میں اقبال میوزیم مدعو تھا جہاںپروفیسر انوار لحق بطور مہمان شخصیت راقم السطور کا خصوصی اظہار خیال تھا چادرویلفیئر سوسائٹی کی چیئر پرسن زرقا نسیم ۔بابا حیدری ۔ قاضی منشاءبھی تشریف فرماتھے ریاض احمد ریاض نعت گو شاعر ۔انور عباس انور۔پروفیسر مظہر عالم بھی رونق فرما تھے صفیہ ملک صابری نے کلام اقبال پڑھا ۔ سید نجف علی۔ ڈاکٹر شفقت علی اوربی اے شاکر کی شاعری سے محظوظ ہوئے نظامت کے فرائض نذر بھنڈرچیئرمین بزم وارث شاہؒ پاکستان نے ادا کئے انہی کاتعاون اس تقریب کو حاصل تھا اس تقریب میں جا کر نہ جانے وہ کیا شے تھی جو احساس کا دامن ہلاتی رہی اور میںاقبال ؒ کا لمس محسوس کرتا رہا ایسا لگا جیسے میں کلاس روم میں بیٹھا ہوں اور اقبال ؒ لیکچر دے رہے ہیں ارے یہ مغربی تہذیب کی ہلاکت انگیزیاں تمہیں لے ڈوبیں گی اوروں پر انحصار تمہیں نگل جائے گا ایک خدااور اسکے رسول کے راستوں سے ہٹ کر مٹ جاﺅ گے خود کو پہچانو اپنی غیرت ایمانی سے کام لو مایوسیوں کی روش کو چھوڑو دلوں میں عشق نبی کی شمعیں روشن کرلو اللہ سے مدد مانگو محنت کا تیشہ اٹھاﺅ اور مشکلات کے پہاڑوں کا سینہ چاک کردو وہاں سے مرادوں کا سونا نکلے گا جس سے تم اپنی محرومیوں کا ازالہ کرسکو گے وقت آچکا ہے کہ پاکستان عالم اسلام کی رہنما ئی اور امت کو متحد کرے دنیا ہماری رہین منت ہے علم ۔ ہنر ۔ دانش ۔حکمت سب ہمارے ہیں لیکن ہمیں بھی تو اپنا ہونا ہوگا اپنے اسلاف کی تعلیمات کی روشنی میں بڑھنا ہے دین اور ایمان کی حفاظت ضروری ہے ہم اسلامی ریاست کے مکیں ہیں اسلئے اپنی اقدار کی پاسداری کرنا ہوگی۔

 اپنا جہان اپنی دنیا پیدا کرو تم زندہ قوم ہو

وہی جہاں ہے ترا جسے تو کرے پیدا

یہ سنگ دخشت نہیں جو تیری نگاہ میں ہیں۔

تم سب کو جو امراض لاحق ہیں انکی دوا تمہارے ہی پاس ہے۔

اے طائر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

میں نے جو خواب دیکھا تھا اسکی تعبیر کی تصویر بہت حسین ہے بس تم نے اسے دھندلا دیا ہے اسے جذبوں کی سچائیوں سے صاف کرو اسکی رعنائیاں دنیا کی نگاہوں کو خیرہ کر دیں گی قارئین کرام اس تقریب میں کیا مجھے اپنا خطاب تو یاد نہیں البتہ اقبال ؒ کا دیا لیکچر ازبر ہے آپ فرما ؒرہے تھے ۔

زمین و آسمان و عرش و کرسی

خودی کی زد میں ہے ساری خدائی

زندگانی ہے صدف قطرہ ءنیساں ہے خودی

وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

اقبال ؒ میوزیم میں تقاریب کا اہتمام کرانے والوں کو وہاں اپنے خطابات کے ساتھ اقبال ؒ کا لیکچر لینے کی بھی ضرورت ہے۔

(سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved