تازہ تر ین

سیاست پر پھیلتے ہوئے سائے

چوہدری ریاض مسعود

پاکستان کی موجودہ سیاست میں ان دنوں ڈرامائی تبدیلیاں آرہی ہیں، حکمران جماعت کی تقریباً تمام اتحادی جماعتیں کچھ خفاخفا اور ناراض ناراض سی لگتی ہیں، خاص طور پر ایم کیو ایم کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے اچانک استعفے نے ملکی سیاست میں طوفان برپا کردیاہے، اس پر وزیراعظم کے حکم پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو منانے کیلئے اسد عمر کی قیادت میں حکومتی وفد کراچی جاپہنچا لیکن ایم کیو ایم کے سخت موقف کی وجہ سے انہیں فوری طور پر کوئی کامیابی نہیں ملی، دوسری طرف بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ اور سندھ کے گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (GDA) کے خدشات، تحفظات اور مطالبات کے حوالے سے حکومتی ٹیمیں سرگرم عمل ہیں، وزیراعظم نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہم تمام اتحادیوں کے تحفظات دور کرینگے، انہوں نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ تاثر دینا کہ حکومت ختم ہورہی ہے ، اپوزیشن کی خام خیالی ہے، وزیراعظم اور حکومتی ترجمانوں کے بیانات ایک طرف لیکن یہ حقیقت ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں نامناسب رویے اور ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کی اکثر و بیشترشکایات کرتی رہتی تھیں لیکن کسی نے بھی انکے مطالبات کی طرف توجہ دینے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی لیکن اب اتحادی جماعتیں ان کیلئے بے حد اہمیت اختیار کرچکی ہیں، خاص طور پر حکومت کی مضبوط اور اہم اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماو_¿ں کے حکومتی کارکردگی اور رویوں پر تنقید نے اس برفانی ہواو_¿ں میں بھی حدت اور شدت پیدا کردی ہے ، جماعت کے ایک سینئر رہنما سنیٹر کامل علی آغا نے ایک ٹی وی پروگرام میں حکومت پر خاصی کڑی تنقید کی جس پر حکومتی حلقے بھی حیران رہ گئے، ادھر وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے ایک ٹی وی پروگرام میں میز پر بوٹ رکھ کر اپوزیشن پر جو سخت تنقید کی ہے اس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں بھی یقینا اضافہ ہوا ہے، حکومت کی طرف سے اپوزیشن اور اپنے ہی اتحادیوں کیخلاف کسی معقول وجہ کے کھولے جانے والے محاذوں کی وجہ سے ملکی سیاست میں سخت سردی کے باوجود گرما گرمی کا ماحول ہے، یقینا ایسے ماحول میں ہرسیاسی جماعت اپنے سیاسی مفادات کو مقدم رکھتی ہے جس سے قومی مفادات پس پشت چلے جاتے ہیں، حالانکہ ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم سیاسی مفادات کو کسی صورت میں بھی قومی مفادات پر حاوی نہیں ہونے دینگے، لیکن اسکے بالکل برعکس حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی سیاسی بازی دھڑلے سے کھیل رہے ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے۔

 آپ خود اندازہ کریں کہ مسلم لیگ ق کے رہنما نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں اور ہماری جماعت میں ایک سابق وزیراعظم اور ایک سابق وزیر اعلیٰ بھی ہے لیکن ہم سے کبھی بھی مشاورت نہیں کی گئی بلکہ جب چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی بات کرتے ہیں تو حکمران ناراض ہوجاتے ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے حکمران جماعت اور اسکے اتحادیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج بڑھتی ہی جارہی ہے، موجودہ سیاسی حالات بتارہے ہیں کہ سیاسی دھوپ چھاو_¿ں کا یہ سلسلہ آگے ہی آگے بڑھے گا اگرچہ حکومت کی یہ پوری کوشش ہے کہ اپنی اتحادی جماعتوں کے تمام تر تحفظات جلد سے جلد دور ہوں اور اپوزیشن کے باہمی اختلافات کا بھی بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے، وزیراعظم نے منتخب نمائندوں کو یہ حکم دیاہے کہ وہ عوام سے اپنے رابطوں کو مضبوط بنائیں۔

 میں نے اپنی 43سال کی صحافتی زندگی میں جہاں بارہا سیاسی بحران دیکھے ہیں وہاں رات کے اندھیروں میں ، دن کی روشنی پھیلتے ہی اور سہ پہر کے وقت حکومتوں کو ٹوٹتے ،تخت الٹتے، حکمرانوں کو معزول ہوتے حتیٰ کہ گرفتار ہوتے بھی دیکھا ہے، عوامی نمائندوں کو چھانگا مانگا ،مری ،نتھیاگلی سمیت کئی علاقوں میں پابند سیاست اور پابند ریاست ہوتے بھی دیکھا ہے، مسلح افواج جیسے معزز اور قومی ادارے کو جس سے ہماری عوام دلی محبت کرتی ہے اور ان شاندار خدمات کی قدر کرتی ہے اسے سیاست میں کھینچ لانے کی باتیں یقینا ہمارے سیاستدانوں کے کھاتے میں ہی جاتی ہیں، ہماری بہادر افواج نے جس جرا_¿ت کےساتھ دہشتگردی کا خاتمہ کیا اور ہمارے دشمن بھارت کے ناپاک عزائم اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اس پر پوری قوم انکی احسان مند ہے ، اور انہیں اس بہادری جرا_¿ت اور شجاعت پر خراج تحسین بھی پیش کرتی ہے۔

ہمارے سیاستدانوں کی یہ خوبی ہے کہ وہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ہمیشہ عدلیہ اور دیگر اداروں پر کاٹھی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوتے ہیں یا محروم کردیئے جاتے ہیں تو پھر اسی عدلیہ میں انصاف کی دہائیاں دیتے ہیں، یہ بات بھی نہایت افسوسناک ہے کہ اگر انہیں عدلیہ سے اپنی خواہشات کے مطابق فیصلہ مل جائے پھر انکی نظر میں عدلیہ آزاد ہے اگر انکی خواہشات کےخلاف فیصلہ آجائے تو پھر انہیں عدلیہ پر الزام تراشی کا موقع مل جاتا ہے ، ہمارے سیاستدانوں کے ان رویوں کی وجہ سے ہماری سیاسی ڈکشنری میں کئی نئے الفاظ محاورے ڈائیلاگ اور فقرے شامل ہوچکے ہیں جن کو ہر کوئی اپنے اپنے مخصوص مفادات اور ضرورت کے مطابق استعمال کرتا ہے، ایک دور ایسا بھی گذرا ہے کہ جس میں گورنر اسمبلی کو توڑتا تھا اور عدلیہ اسے بحال کردیتی تھی ابھی عدالتی حکم کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوتی تھی کہ گورنر ہاو_¿س سے دوبارہ ویسا ہی پروانہ جاری ہوجاتا تھا، چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک قدآور سیاستدان نے صوبائی اسمبلی کی حفاظت کیلئے گاو_¿ں سے مسلح افراد بسوں میں بھر کر لے آئے جنہیں دیکھ کر پولیس بھی حیران رہ گئی، یاد رہے کہ اس وقت پنجاب میں سیاست کی ڈوریاں گورنر ہاو_¿س سے ہلائی جاتی تھیں، آج کے نوجوان سیاست دانوں کو اس بات کا علم بھی ہونا تھا کہ پاکستان میں ڈکٹیشن دینے والے اور ڈکٹیشن نہ لینے والوں کو بھی اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں،ہماری سیاست میں گلوبل وارمنگ جیسی کیفیت پائی جاتی ہے، جس میں خاص طور پر حکمرانوں کو بدلتی ہوئی صورتحال کا کبھی علم نہیں ہوتا، انکے مہربان قدردان اور ترجمان انہیں ہر وقت سب اچھا ہے کہ رپورٹس دےکر ملا دو پیازہ اور بیربل کی روحوں کو تڑپاتے رہتے ہیں، اقتدار کی کرسی کھسکتی دیکھ کر انہیں سیاسی شہید ہونے کی تمنا اور خواہش پیدا ہوتی ہے ، انکی حرکتیں دیکھ کر انکا سیاسی بھگوان شخصی جمہوریت کا جن اور عوام الناس سب محظوظ ہوتے ہیں۔

 آج دنیا میں معاشی بالادستی کی جنگ ہورہی ہے اور ہم غیر ملکی اور ملکی قرضوں کے سہارے اپنی معیشت کو چلانے کی کوششیں کررہے ہیں، عوام مہنگائی بیروزگاری سمیت مسائل کے سمندر میں ڈوبتے جارہے ہیں، ہمارے حکمران اور سیاستدان یہ بھول جاتے ہیں کہ قوم کو معاشی طور پر مضبوط بنانے اور انہیں مسائل سے نکالنے کیلئے متحدہ جدوجہد کرنے کو ہی سیاست اور جمہوریت کہتے ہیں، ہمارے سب سیاستدانوں کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا چاہیے ورنہ انکے اپنے ہوش بھی ٹھکانے لگ سکتے ہیں۔

(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved