تازہ تر ین

ہندو انتہاپسندی کی لہر اور پاکستانی آپشن

عاقل ندیم

وزیر اعظم نریندر مودی کا ہندو انتہا پسندی کا ایجنڈا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ اپنے منشور میں بھارت میں ہندو برتری کے سارے وعدے نبھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کشمیر کے مسلمان تشخص کو ختم کرنے کی مذموم کوششوں کے بعد اب بھارت میں مسلمانوں پر مذہبی بنیادوں پر شہریت کے حقوق ختم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ شہریت کے نئے قانون نے جو کہ درجہ بندی پر مشتمل ہے، مذہبی بنیادوں پر تقسیم کے علاوہ نسلی اور طبقاتی تقسیم کو بھی ہوا دی ہے اور یہ بھارتی آئین کے بنیادی اور سیکولر ڈھانچے پر سوچا سمجھا حملہ ہے۔ نیا قانون ناصرف مذہب کو شہریت کی بنیاد بناتا ہے بلکہ آسام جیسی ریاست میں نسلی بنیادوں پر بھی شہریت کے فیصلے ہوں گے جس میں بنگالیوں کو شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قانون غریب طبقے کو بھی شدید متاثر کرے گا جن کے پاس بھارت میں اپنی پیدائش کا ثبوت دینے کے لیے کسی قسم کی دستاویزات نہیں۔ یہ قانون بھارتی آئین سے بھی براہ راست متصادم ہے جو کہ شہریت کو مذہب، زبان اور نسل سے علیحدہ رکھتا ہے۔ دبے الفاظ میں سہی، لیکن عالمی سطح پر بھی ان قوانین پر خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جن میں امریکہ، اقوام متحدہ اور او آئی سی سرفہرست ہیں۔

کشمیر پر آئینی قبضے کے مقابلے میں اس قانون پر بھارت میں احتجاج میں فطری طور پر زیادہ شدت ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ احتجاج سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم کی بجائے درجنوں جامعات میں بیک وقت شروع ہوا ہے۔ بھارتی حکومت اس احتجاج سے سختی سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پرتشدد کوشش میں بھارتی حکومت نے شہری آزادیوں کو پامال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور احتجاج کرنے والوں پر تشدد کے علاوہ شہری املاک کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا۔

بھارت میں اس وقت دو مختلف سیاسی نظریات میں ایک تصادم کی سی کیفیت ہے اور بھارتی ریاست ایک مطلق العنان ریاست کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے جہاں پر اب بنیادی حقوق، مذہبی اور سماجی درجہ بندیوں کی بنیاد پر دیے جائیں گے اور سیاسی اختلافات سے نمٹنے کے لیے تشدد کا راستہ اپنایا جائے گا۔ اس لیے احتجاج کو مزید پھیلا سے روکنے کے لیے پانچ بھارتی ریاستوں میں انٹرنیٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک پولیس کے تشدد سے 25 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ حکومت کے حکم پر پولیس ہسپتالوں اور لائبریریوں پر بھی حملے کرنے سے گریزاں نہیں ہے اور بچوں تک کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے طلبہ کی مصروفیات پر نظر رکھیں اور حکام کو کسی قسم کے اختلافی بیانیات کے بارے میں آگاہ رکھیں۔ ان مشکلات اور تشدد کے باوجود طلبہ اپنے احتجاج میں پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ بالی ووڈ فنکار جو عموما سیاست سے دور رہتے ہیں انہوں نے بھی قانون شہریت میں ترامیم اور طلبہ پر حملوں کے خلاف اپنی ناپسندیدگی اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

بھارت میں جاری احتجاج، ریاستی تشدد اور قانون شہریت نے بھارت کے بین الاقوامی تشخص، جو کہ جمہوریت اور سیکولر نظریات پر مبنی تھا، سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اب بھارت کا حقیقی چہرہ بطور ایک متشدد ریاست، جو اپنی اقلیتوں پر مظالم کی بلا تامل اجازت دیتی ہے، کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے دفاع کی خاطر دنیا بھر میں بھارت کی جمہوریت اور سیکولرزم کے نقاب کا پردہ چاک کرنا ہر فرد، انسانی حقوق کے ادارے اور ہماری حکومت پر لازم ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ بھارت میں فسطائی ہندو حکمرانی کر رہے ہیں اور سیکولرازم کے اصولوں کے خلاف مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کی حالت زار اور اس ظالمانہ امتیازی قانون کے مسلمانوں پر منفی اثرات کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہر فورم پر زوردار طریقے سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس میں حقوق انسانی کونسل، اقتصادی و سماجی کونسل اور اس نوعیت کے دیگر ادارے شامل ہیں۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ہماری تگ و دو ہونی چاہیے کہ اقوام متحدہ کے ان اداروں کے خصوصی اجلاس بلائے جا سکیں جن میں بھارتی اقدامات کے اصل اثرات و مضمرات کو بے نقاب کیا جاسکے۔

حقوق انسانی کے اداروں نے پہلے ہی اس قانون کو امتیازی قانون قرار دیا ہوا ہے۔ عالمی برادری کو یہ بھی باور کرانے کی ضرورت ہوگی کہ اس قانون سے صرف پاکستان اور ہمسایہ ممالک کو ہی تشویش نہیں بلکہ بھارت میں حزب اختلاف بھی اس کے خلاف متحد ہے اور انہوں نے بھی مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔ مختلف حقوق انسانی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ہماری یہ بھی کوشش ہونی چاہیے کہ اس معاملے کا تفصیل سے جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے ایک خصوصی نمائندہ تعینات کیا جائے جو کہ حقوق انسانی کونسل کو اس قانون کے بارے میں مفصل رپورٹ دے سکے۔

اس مسئلے پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے، کمیشن برائے خاتمہ نسلی تعصب سے بھی رجوع کرنے کی ضرورت ہے جو اس قانون کے بنگالی مسلمانوں پر اثرات کے بارے میں تحقیقات کر سکے۔ اس سلسلے میں ہمیں قانونی طور پر یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہوگی کہ نسلی تعصب کے خاتمے کے بین الاقوامی معاہدے کے، جس کا بھارت بھی ممبر ہے، آرٹیکل 11 کے مطابق بھارت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر کس طرح مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں بین الاقوامی طور پر یہ سوال اٹھانے کی بھی ضرورت ہے کہ حقوق انسانی کے علم بردار کب تک بھارت کے ان فسطائی اقدامات کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں گے۔

مزید برآں، ہمیں دوسرے متاثرہ مسلمان ممالک بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھی رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہمارے تینوں ملکوں میں اقلیتوں کے حقوق کو آئینی ضمانت حاصل ہے اس لیے سفارتی چینلز کو استعمال کرتے ہوئے حقوق انسانی کی تنظیموں اور حکومتی سطح پر ایک متحدہ لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ کام یقینا آسان نہیں ہوگا لیکن اگر اسے خاموشی سے سفارتی سطح پر سرانجام دیا جائے تو ناممکن نہیں۔ اس کام میں کامیابی ہوئی تو اس مسئلے پر بھارت کو علاقائی تنہائی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

بھارتی سپریم کورٹ اسی ماہ اس مسئلہ پر دائر مختلف مقدمات کی سماعت کرے گی۔ بھارتی حکومت پر دبا ڈالنے کے علاوہ اس مسئلے کو بین الاقوامی طور پر زندہ رکھنے کے لیے دہلی میں تعینات پاکستان کے کسی سفارت کار کو سپریم کوٹ میں اس کیس کی سماعت میں شرکت کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ میں ہمارے سفارتی نمائندہ کی محض موجودگی ہی بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس مسئلہ پر مرکوز رکھنے کے لیے کافی ہوگی۔ اگر ہمارے سفارت کار کو سپریم کورٹ میں جانے سے روکا گیا تو یہ مسئلہ اور زیادہ قوت سے بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہو گا۔

کشمیر کا مسئلہ آہستہ آہستہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ سے ہٹتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو اس قانون کو کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے جس سے یہ واضع پیغام دیا جائے کہ بھارت ایک سیکولر ریاست کا دعوی کرنے کے باوجود ایک اقلیت کے ساتھ ظالمانہ سلوک جاری رکھے ہوئے ہے اور مسلمانوں کے خلاف بربریت کا سلسلہ صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں جاری ہے۔ مہذب دنیا کو ان فسطائی اقدامات کی طرف آنکھیں بند نہیں رکھنی چاہیے۔

(کالم نگار پاکستان کے سابق سفیر ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved