تازہ تر ین

اوروں پر انحصار چھوڑیں

وزیر احمد جوگیزئی

بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے گزشتہ کالم میں ختم کی تھی ،ہم بات کررہے تھے اسلحہ کی دوڑ کی اور دنیا میں ہونی والی جنگوں کی دنیا میں جاری اسلحہ کی اس ناجا ئز دوڑ سے ہمیں کو ئی فائدہ نہیں ہے ،کسی صورت کوئی فائدہ نہیں ہے ۔جو اسلحہ مسلمان ممالک خود نہیں بنا سکتے جس کی پیدا وار کے ہم قابل نہیں ہیں اس اسلحہ سے ہم کتنی دیر تک لڑیں گے ۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور امت اپنی توانا ئیاں اپنی اپنی عوام کو تعلیم صحت اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں ہی لگائیں اور اپنے عوام کو اس قابل بنائیں کہ وہ دور جدید کے تقاضوں سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرے اور جدید دنیا کے چیلنجز کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے ۔

حال ہی میں کوالا لمپور میںاسلامی ممالک کی ایک ذیلی تنظیم کی میٹنگ ہو ئی ہے ۔یقینا اس اجلاس کے دوران مثبت باتیں ہو ئی ہو ں گی ،اور اس میٹنگ کی داغ بیل ہمارے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے ہی رکھی تھی ۔لیکن اس کے بعد وہ بد قسمتی سے چند ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر اس جلاس میں شرکت ہی نہیں کر سکے ،اگر عمران خان صاحب اس اجلاس میں شرکت کرتے تو ہمیں اس اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت کے حوالے سے زیادہ معلومات ہوتیں ،لیکن گمان یہ ہی کیا جا سکتا ہے کہ اس اجلاس کے دوران اسلامی دنیا کو درپیش مشکلات اور چیلنجز پر سوچ و بچار ضرور کی گئی ہو گی ۔مسلمان اکابرین کو اس بات کا ادراک کرنا پڑے گا کہ یہ دور پرانا دور نہیں ہے جس میں مسلمان اپنی جسمانی قوت اور بہادری کے بل بوتے پر جنگیں جیت لیا کرتے تھے ،لہٰذا اپنی دولت اسلحہ کی دوڑ پر خرچ نہ کریں ،آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور آج کے دور میں مار بھی ٹیکنالوجی کی ہی پڑتی ہے ۔جس ڈرون ٹیکنالوجی نے عراق میں جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا یہ ٹیکنا لوجی ہمارے پاس نہیں ہے ۔مسلمان ممالک کے پاس دولت ضرور ہے لیکن وہ اس دولت سے مغربی ممالک سے اسلحہ اور ہتھیار خرید کر ان کی معیشتوں کو چلانے میں لگے ہوئے ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ پھر مسلمان ملک یہ اسلحہ ایک دوسر ے پر ہی استعمال کرتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں ایک جمہوری سوچ کی کمی پائی جاتی ہے ۔مسلمان ممالک کے معا شروں کے اندر جمہوری سوچ کی کمی کے باعث ایک قیادت کا فقدان سنگین بحرانی کیفیت بھی اختیار کر چکا ہے اور مسلم امت اس گرداب میں پھنسی ہو ئی ہے ۔مسلمان دنیا ابھی تک ایک فرسودہ نظام میں پھنسی ہوئی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ چاہے وہ ایران ہو یا پھر توران ،عرب دنیا ہو یا غیر عرب ہر طرف مسلمان ممالک میں آگ لگی ہوئی ہے اور مسلم ممالک کی سرزمین غیروں کی جنگوں کا اکھاڑا بنی ہوئیں ہے ۔

اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس تمام صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے اس صورتحال کو بہتر کس طرح کیا جا سکتا ہے ،اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام مسلمان ملک مل کر او آئی سی کو موثر بنائیں اور اس پلیٹ فارم کی کہی گئی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے اقدامات کریں اور اس کے علاوہ اسلامی دنیا میں ایک جمہوری سوچ اور جمہوری طرز کی حکمرانی جس کا اسلام نے ہمیں سبق دیا ہے اس کو پھر سے زندہ اور موثر کیا جائے ہم اسلام کا یہ اہم سبق بھلا بیٹھے اس سبق کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے ۔کیا ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ہمیں اللہ کی مار پڑ رہی ہے ؟ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو بھی بھلا دیا ہے ،اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے پیغام کو بھی ۔ ہمیں بطور مسلمان ہر طریقے سے مسلمان معاشروں کے اندر نفاق اور نفرتیں پیدا کرنے والے عناصر کا راستہ روکنا ہو گا ۔مسلمانوں نے کم از کم 6سے 8صدیوں سے ایسا کو ئی قابل ذکر کمال نہیں کیا ہے جس کی بات کی جا سکے ۔اس دور میں بھی بڑے بڑے عالم اور فاضل لوگ سوچنے والے لوگ ،ذہین اور فطین لو گ رہے ہیں لیکن اس کے با وجود ہم ایک جمہوری سوچ کو ڈوویلپ کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا یہ حال ہے ۔

ابھی حال ہی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ہے لیکن عوام کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ بل کو کیوں منظور کروایا گیا ہے اور اس بل کی کیا اہمیت ہے ؟ بل پاس کروانا کیوں ضروری ہے ،بلکہ میرا تو خیال ہے کہ کئی ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی ایسے ہیں جن کو نہیں پتہ کہ ان کی قیادت نے ان کو اس بل کے حق میں یا پھر مخا لفت میں ووٹ دینے کو کیوں کہا ہے ؟ اگر عوامی نمائندوں کا یہ حال ہو گا تو عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔قانون سازی نہایت ہی پیچیدہ عمل ہوا کرتا ہے اور اس پراسیس کے دوران معاشرہ مجوزہ قانون پر سیر حاصل بحث کرے تو ہی عوام کی اس قانون کی ضرورت کو سمجھ سکتے ہیں اور اس پراسیس کے نتیجے میں میں ہی عوام میں قانون کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت بھی آتی ہے اور یہی صلاحیت ہو تی ہے جو کہ عوام کو اس قانون پر عمل درآمد کرنے کا پابند بھی بناتی ہے ۔عوام ہی دراصل کسی بھی قانون کی طاقت ہوا کرتے ہیں ۔اور عوام جب درحقیت درست انداز میں کسی قانون کی افادیت کو سمجھتے ہیں تب ہی اس قانون کی پابندی بھی کرتے ہیں ۔

قانون سازی ایک حساس اور پیچیدہ عمل ہے اور اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے ۔اسمبلی میں قانون سازی کے لیے بہت سی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں ۔اچھی بات ہے کمیٹیاں بنائیں لیکن قانون سازی پارلیمان کی مین باڈی کو ہی کرنی چاہیے ،پارلیمان میں کسی بھی قانون میں جتنی زیادہ بحث کی جاتی ہے اتنا ہی اس قانون میں بہتری آتی ہے ۔لوگوں میں سیاسی شعور پیدا ہو تا ہے ابھی حال میں حکومت نے 10آرڈیننس نہایت ہی جلد بازی میں اور ریکارڈ مدت میں منظور کروالیے لیکن ایسے کروائے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلا کہ ان آرڈیننسز میں تھا کیا ۔اسمبلی کی مدت چار سال یا اس سے بھی کم کرنے سے معاملات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔جب تک کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ محنت کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر 10،10گھنٹے کام نہیں کریں گے تب تک کوئی پارلیمانی معا ملات میں کوئی بہتری نہیں آئے گی ۔

(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved