تازہ تر ین

امریکی سازش!

آغا خالد

ایران برادر اسلامی ملک ہی نہیں ہمارا پڑوسی بھی ہے ۔ بھارت میں مودی حکومت سے پہلے کانگریسی رہنماﺅں کو پاکستان سے لاکھ شکایات کے باوجود ان کا سلوگن تھا ”پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے “ ۔گزشتہ 72برس کے دوران پاکستان اور ایران کے تعلقات کا جائزہ لیاجائے تو اس میں نشیب وفراز آتے رہے ہیں۔ ایران کے متعلق ہم کوئی بھی تبصرہ یا بات کرنے سے پہلے اس سے تعلقات کی تاریخ کو دو حصوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک شاہ ایران کے دور حکومت سے قبل اور دوسرا امام خمینی کے خونیں اسلامی انقلاب کے بعد ۔ ہم ہمیشہ کی طرح شاہِ ایران کے دور میں انکے ایسے گرویدہ ہوئے کہ ایوب خان کے دور حکومت میں جب شاہ ِ ایران پاکستان کے دورے پر آئے تو ہم نے سرخ قالین کی جگہ اپنی عصمتیں پیش کیں کیونکہ اس دور میں شاہ ، امریکہ کے ایشیاءمیں تھانیدار تھے اور ہمیں اپنی نگہداشت سے زیادہ سامراج کی خوشنودی عزیز تھی ۔سو شرمادینے والی اس کہانی کو 60 ءکی دہائی کے عظیم عوامی شاعر حبیب جالب نے اپنی خود نوشت سوانح عمری ” جالب بیتی “ میں یوں قید کیا ہے کہ پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ آپ بھی ”جالب بیتی“ میں شاہ کے استقبالیہ انتظامات سے متعلق چند اوراق ملاحظہ فرمائیں۔

شاعر ، فلمساز ، ناول نگار ، افسانہ نویس اور شاعر ریاض شاہد مرحوم اور اپنے وقت کی معروف اداکارہ اور رقاصہ نیلو کے درمیان محبت کے شگوفے پھوٹنے لگے تھے۔ جالب کہتے ہیں کہ ریاض شاہد بہت ذہین اور مہذب انسان بھی تھے انہیں پتہ چلا کہ اداکارہ نیلو کو شہنشاہ ایران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں ناچنے کو کہا گیا ہے اور نواب آف کالا باغ کا پیغام دینے والوں کا انداز بھی غیر مہذبانہ تھا ۔ ایک ادیب اور شاعر کے لئے یہ ناپسندیدہ فعل تھا مگر نیلو کو براہ راست روکنا بھی انہیں مناسب نہ لگا۔ ادھر نیلو نے بھی اپنی چاہت کے احساسات کو پڑھ لیا اوراپنے پیار کی انانیت کو مقام بلند پر رکھنے کا عزم کرلیا اور نواب آف کالاباغ کے ہرکاروں کو جواب دیدیا جو اپنے وقت کا فرعون تھا ، اسے یہ کیسے گوارہ ہوسکتا تھا ۔سو صاحب کے ماتھے کے بل ہرکاروں کی ہزیمت ٹھہرے ، یہ ہرکاروں کو بھی کیسے برداشت ہوتا، بادشاہت تھی ایوب خان کی اور ون یونٹ کی وجہ سے چاروں صوبوں کے گورنر تھے نواب آف کالاباغ امیر محمد خان‘ جن کے ظلم کی داستانیں میانوالی سے نکل کر اب پاکستان سے بھی کہیں آگے خبروں کی شہ سرخیاں بن رہی تھیں ایسے میں ایک اداکارہ کم رقاصہ ان کے حکم کی سرتابی کرے تو سورج کوگہن نہ لگ جائے۔پس ہرکاروں نے لاہور کے اسٹوڈیومیں عین شوٹنگ کے دوران نیلو کو اغوا کرنے کے دوران مزاحمت پر اسے بالوں سے پکڑکر گھسیٹا اور تھپڑ بھی مارے۔ اس بے عزتی پر نیلو نے خواب آور گولیاں کھاکر خود کشی کی کوشش کی اور یو سی ایچ ہسپتال میں داخل رہیں۔ بقول جالب کے میں اور ریاض شاہد اس کی عیادت کرکے واپس آرہے تھے تو ریاض شاہد سے میں نے کہا نیلو نے بڑا ہی جرات مندانہ کردار ادا کیا ہے کہ برصغیرو ایشیا میں امریکہ کے سب سے بڑے ایس ایچ او شہنشاہ ایران کے حضور ناچنے سے انکار کردیا اور اس کے عوض تشدد برداشت کیا جبکہ یہ سب وقت کے فرعون نواب آف کالا باغ کے حکم پر ہونے جارہاتھا اور اس حکم کی سرتابی کی ہی اسے سزا دی گئی مگر پھر بھی نیلو نے حامی نہیں بھری۔۔پس اس کی اس بہادری پر میں نے ایک نظم کہی ہے۔ ریاض شاہد نے ڈبڈبائی آنکھوں اور رندھے لہجہ میں کہا۔۔سناﺅ، اور میں سڑک پر چلتے چلتے بلند آواز میں گویا ہوا ۔ ع

 توکہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی

رقص زنجیرپہن کر بھی کیاجاتا ہے

تجھ کوانکارکی جرا_¿ت جوہوئی توکیونکر

سایہ_¿ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے

اہل ثروت کی یہ تجویزہے سرکش لڑکی

تجھ کودربار میں کوڑوں سے نچایاجائے

ناچتے ناچتے ہوجائے جو پائل خاموش

پھرنہ تازیست تجھے ہوش میں لایاجائے

لوگ اس منظرجانکاہ کو جب دیکھیں گے

اور بڑھ جائےگا سطوت شاہی کا جلال

تیرے انجام سے ہرشخص کو عبرت ہوگی

سراٹھانے کا رعایا کو نہ آئے گا خیال

طبع شاہانہ پہ جولوگ گراں ہوتے ہیں

ہاں انھیں زہربھرا جام دیاجاتا ہے

توکہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی

رقص زنجیرپہن کربھی کیاجاتا ہے

بعد ازاں ریاض شاہد نے اپنے خیالات کے مطابق فلسطین کی محکومی پر فلم زرقا بنائی تو اس میں ایک فلسطینی مجاہدہ کا کردار ہیروئین نیلو نے ادا کیا اور اس فلم میں دلکش ڈانس پر یہ نظم فلمائی جو امر ہوگئی۔

بات دور نکل جائے گی ورنہ دل تو چاہتاہے حبیب جالب کی آنکھوں دیکھی پوری روئیداد لکھوں جو بہت دلچسپ اور حیرت انگیز ہے مگر وہ کسی اور موقع کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور پلٹتے ہیں ایران اور پاکستان کے تعلقات کی روئیداد کی جانب۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ ایرانی قبول اسلام سے قبل ہی سے اپنے قومی زعم میں مبتلا تھے اور یہ زعم ہنوز برقرار ہے جس کی وجہ ان کے تعلقات کسی بھی ملک سے آئیڈیل نہیں رہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی ان کے تعلقات میں اتار چڑھاﺅ آتا رہا ۔ امام خمینی کے اسلامی انقلاب کو جنرل ضیا کے دور میں بڑی پذیرائی ملی اور گرمجوشی کے اس ماحول میں ایران کے کراچی میں قونصل جنرل کی تجویز پر کلفٹن برج کے اوپر للی برج یا ایرانی برج” لوہے سے یہ تعمیر پل فن انجینئرنگ کا عظیم شاہکار ہے اور اسے ان دونوں ناموں سے پکارا جاتا ہے“ ایرانی حکومت نے تحفتاً بناکر دیا ۔

میرے خیال میں یہ وہ دور تھا جب ملک میں شیعہ سنی فسادات کی بنیاد بھی رکھی جا رہی تھی۔ اس فرقہ واریت کو ہوا دینے میں غیر ملکی طاقتیں بھی ملوث تھیں۔ رپورٹس کے مطابق اسی دور میں سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کی بنیادیں رکھی گئیں قبل ازیں مختلف شیعہ تنظیموں کے وجود میں آنے کی خبریں اس وقت کے اخبارات کی زینت بن رہی تھیں۔ یوں ہم اپنے گلشن کو مذہبی انتہا پسندی کی جہنم میں اپنے ہاتھوں سے دھکیل رہے تھے جس کے نتیجے میں 30 سال ہمارے گلشن میں پھولوں کی جگہ انسانی لہوکی آبیاری ہوتی رہی۔ خون کی اس ہولی کی نذر 30 ہزار لوگ ہوئے پھر کہیں جاکر ہمیں ہوش آیا۔

گزشتہ دنوں امریکہ نے ایک ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو مار دیا۔ ایرانی پاسداران کے سربراہ جنرل سلیمانی نے تین جہادی تنظیمیں قائم کیں جن کے نام تھے زینبیوں، فاطمیوں اور حیدریوں ۔ بعض رپورٹس کے مطابق انہوں نے عراق اور شام کی جنگ میں فرقہ واریت کے کارڈ کو بھی استعمال کیا۔ ایرانی قوم کے اس ہیرو جنرل سلیمانی کی لاش ایران پہنچی تو پوری ایرانی قوم اس کی قومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے لاکھوں کی تعداد میں امڈ پڑی۔ جبکہ امریکی میزائیلوں سے ان کی لاش کے چند اعضاءہی قابل شناخت رہے تھے جن کے تصور سے مجھے ایک جھرجھری کے ساتھ اپنے سابق صدر جنرل ضیاالحق کی لاش یاد آگئی حیرت انگیز طورپر دونوں کے قتل کے پیچھے سازش میں امریکہ ہی سمجھاجاتا ہے۔

(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved