تازہ تر ین

بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں

مریم ارشد

بیٹیوں کو رخصت کرنا واقعی ہی بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے آپ کی رگوں میں سے جیسے کوئی جان نکال کر لے گیا ہو۔ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ ماں کے دل پہ کیا گزرتی ہے۔ ایک طرف تو اچھے لوگ مل جانے پر دل خوشی سے باغ باغ ہوجاتا ہے تو دوسری طرف اُداسیاں دل کے درو دیوار پر ڈیرے ڈال لیتی ہیں۔ آج احساس ہوا کہ اسم محبت کا طلسم درِ دل پر کیسے دستک دیتا ہے۔ سردیوں کے ٹھٹھرتے جنوری میں نئے سال کی ایک برفیلی شام کو میں نے اپنی دُلاری بیٹی کو رُخصت کیا۔ اِن دنوں جاڑوں کی خاموشی کا سکوت ہر چیز پر طاری ہے۔ بیٹی کے گھر سے چلے جانے کے بعد میرا دل بھی اُداسی کی بُکل اوڑھے ٹھٹھرتا جارہا ہے۔ کچھ تو ٹھنڈ کی وجہ سے اور کچھ جابی بابا کے چلے جانے کی وجہ سے۔ میری دُعا ہے کہ دُودھیا سویرے اور سنہری شامیں تمہارا مقدر ہوں۔ تتلیاں جگنو اور چٹکتی کلیاں تمہارے آنگن میں جھلمل ستاروں کے سنگ ہر روز اُترا کریں۔ جب تم صبح کاذِب میں ربّ کے حضور سجدہ ریز ہو تو تمہارے دل سے سچائیوں کی خوشبو میں ڈوبی دعائیں تمہاری زندگی میں ہر سُو ریشمی سر سراتے پُھول ہی پُھول کھلائیں۔ میرا پروردگار تم کو پانیوں پر روشن چراغوں کی مانند چلنے کے آداب بخشے۔ اس وقت رات کے پچھلے پہر میں مجھے یادوں نے آن گھیرا ہے۔ وہ دن یاد آتا ہے جب میں Cease section کے لیے ہسپتال جارہی تھی۔ لگ بھگ صبح ساڑھے سات بجے مجھے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا۔ شاید 45 منٹ بعد مجھے ہوش میں لایا گیا تو میں نے سب سے پہلے سوال کیا۔ کیا ہُوا؟ ڈاکٹر شاہینہ آصف نے کہا بیٹی ہوئی ہے۔ میں نے فوراً پوچھا ”اُس کے بال کیسے ہیں؟ اس کی آنکھیں کیسی ہیں؟ ڈاکٹر کہنے لگی۔ اس کے بال بہت کالے ہیں اور نہایت پیاری بچی ہے۔ ساتھ ہی کہنے لگی: ”تمہیں اپنی کوئی فکر نہیں بیٹی کی پڑ گئی ہے“۔ میں جو پہلے ہی غنودگی اور درد میں مُبتلا تھی مجھے دوبارہ نیند کا انجکشن لگا دیا گیا۔ سہ پہر ہوئی تو مجھے کمرے میں شفٹ کیا جاچکا تھا۔ کچھ ہوش میں آنے کے بعد اس ننھی سی پری کو میری گود میں ڈالنے کی کوشش کی مگر بے سُود کیونکہ میں اتنی تکلیف میں تھی کہ بیٹھا نہیں جارہا تھا۔ میری ماں نے اُسے اپنی گود میں لے کر مجھے دکھایا تو میں خوشی سے نہال ہوگئی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے میری بیٹی کی پیدائش پہ میرے سُسرال والوں نے عام روایتی لوگوں کی طرح کا رویہ اپناتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔ میں نے اپنے شوہر کو اشارے سے بیڈ کے پاس بُلا کر کہا۔ مجھے بیٹی کی کسی نے مبارک باد نہیں دی یہ سُن کر سب نے مجھے مبارک دینا شروع کی۔ ان نادانوں کو کیا پتہ تھا کہ یہ ”کُن“ کا معاملہ ہے۔ میں نے تو اپنی پہلی اولاد کی صورت میں حضرت سیّدہ فاطمہؓ کے صدقے میں بیٹی ہی کو مانگا تھا۔ یہ تو وہ دُعا تھی جو مستجاب ہوگئی۔ میں خوشی سے باغ باغ ہوگئی۔ میرے جسم کا رُواں رُواں تو کیا میری روح تک خوشی سے سرشار تھی۔ تمہارا نام میں نے حجاب فاطمہ رکھا اور بی بی فاطمہؓ کے صدقے میں ربّ نے تمہیں خوش بخت بنایا۔ تمہارا پیار کا نام جابی بابا ہے۔ بیٹیاں گھر کی رونق اور اساس ہوتی ہیں۔ ان کی ایک مسکراہٹ گھر بھر کو روشن کر دیتی ہے۔ بیٹیاں اُداس ہوں تو سب کے منہ لٹک جاتے ہیں۔ بیٹیوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات ماں باپ جی جان سے پوری کرتے ہیں۔ سچ ہی ربّ نے بیٹی کو رحمت کہا ہے۔

اگر گھر میں کوئی دعوت ہو تو بیٹیاں سب کام خوش اسلوبی سے ماں کے ساتھ کھڑے ہو کر نمٹا لیتی ہیں۔ اگر کبھی کوئی کام بگڑ جائے تو بیٹیاں ماں باپ کی ڈھال بن جاتی ہیں۔ ایسے میں گھر پھر سے امن کی خوشبو سے مہکنے لگتا ہے۔ ہمیں بھی بچپن میں ہمارے ابّا نے خود اعتمادی کی کاٹھی پر بٹھا کر زندگی کے گھوڑے پہ سوار کیا۔ وہ بھروسہ زندگی کے ہر موڑ پر میرے کام آیا۔ میں اپنے ابّا کا یہ احسان کبھی اتار نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!ماں سے میں نے سلیقہ وفا اور رشتوں کو نبھانا سیکھا۔ بھلا کبھی ماں باپ کا احسان اتارا جاسکتا ہے؟ جواب ہے نہیں۔ پھر وہی اعتماد وہی بھروسہ وہی سلیقہ وہی وفا اور روا داری میں نے اپنے تینوں بچوں میں منتقل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی۔ اب جب کہ میں اپنے دل کے ٹکڑے کو اس کے نئے سفر نئے گھر روانہ کر چکی ہوں تو چاہوں گی کہ ستارے رنگ روشنی، محبت کے گیت رم جھم پڑتی نرم پُھواریں امیدوں کے چمکتے دُودھیا موتی اور کامیابیوں کی سنہری ریشمی لڑیاں تمہارا مقدر ہوں۔ یہ سب لکھتے ہوئے بے ربط خیالات کے دھارے میرے ساتھ بہے چلے جارہے ہیں۔ کہیں اپنا بچپن ساتھ چلنے لگتا ہے تو کہیں اپنی شادی کے دن یاد آنے لگتے ہیں۔ کبھی اپنی بیٹی کے بچنے کے دن یاد آتے ہیں۔ بس مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی جو خیال آرہے ہیں کاغذ پہ اتارتی جارہی ہوں۔ پتہ ہے مجھے چیزوں کو اختیار کرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔ میں نے جب بھی اپنی کسی پینٹنگ پر کام شروع کیا اور اس کے بیچ میں کہیں وقفہ آگیا تو دوبارہ شروع کرنے میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ کوئی کہانی کوئی کالم کے تسلسل میں رکاوٹ آجائے تو دوبارہ جُڑنے میں بہت دن درکار ہوتے ہیں۔ میری بیٹی کی شادی میری زندگی کی خاص بے حد خاص خوشی کا لمحہ تھا جو آکر میرے میں ٹہر سا گیا ہے۔ جابی بابا! تمہارے جانے سے خوش گوار سے جھونکے دل کو اب نہیں گُد گُدا رہے۔ تمہارا وجود اک ریشمی سرگوشی کی طرح ہے۔ تمہارا چہکنا، ہمکنا، چھوٹی چھوٹی خواہشات کے لیے لڑنا جھگڑنا کتنا اچھا لگتا تھا یہ سب۔ کہا جاتا ہے کہ اس دنیا میں بھی آپ کو جزا ملتی ہے۔ میری دُلاری بیٹی کو یقینا میری کسی معتبر نیکی کے صلے میں ربّ العزت نے عطا کیا۔

بیٹیاں تو معصوم سی جذباتی سی ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر کا سب تقدس تمہارے دم سے ہے۔ جب تم نے بولنا سیکھا تو اپنے ابّا کو کہیں خود سے ہی Dadda کہنا شروع کیا تو تمہارے پیچھے پیچھے تمہارے بھائی بھی Dadda ہی کہنے لگے۔ تم نے ہمیشہ اپنے باپ کا مان بڑھایا۔ ماں کی عزت میں اضافہ کیا۔ تم ہمارے گھر کی آن ہو! شان ہو۔ حضور بی بی فاطمہ زہراؓ کی تکریم میں کھڑے ہوجایا کرتے ،اسی لیے تو بیٹیاں رحمت ہیں۔ بیٹیاں تو چھوٹے گھروں کو بھی محل بنا دیتی ہیں۔ بس دعا ہے خوشیاں کامیابیاں اور ستارے تمہارے ماتھے کا جُھومر ہوں۔ مجھے ہمیشہ تو تم سے بے پناہ محبت ہے اور مجھے یہ شکوہ رہا کہ تم مجھ سے زیادہ اپنے Dadda سے پیار کرتی ہو۔ اب مجھے معلوم ہوا تمہارا باپ تمہارا مان ہے۔ تمہارے جانے کے بعد Dadda بھی کہتے ہیں۔ ”گھر سُونا ہوگیا ہے۔“ وہ بھی جو اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتے تمہاری کمی بہت محسوس کر رہے ہیں۔ تمہارے لیے محبت کی ایک چھوٹی سی نظم:

تیرا ذکر بھی عطر جیسا ہے

تیری یاد سے پہروں مہکتی رہتی ہوں

تیرا چاند سا روشن چہرہ

کُھلی کُھلی ذہانت سے بھری آنکھیں

تجھ کو محبت اور وفا کی مٹی سے

گُوندھا ہے میرے ربّ نے

تُو اپنا پیار سب پہ لُٹاتی ہے

خدا تیرا روشن مقدر کرے

تیری پیشانی پر خوش بختی کے پھول کھلیں

تیرے آنچل میں بادِ صبا اور خوشبو کی بارش

نئے نئے پُھول کھلاتی رہے

تُو سَدا شاد آباد رہے!

خدا تجھ سے راضی ہوجائے میری بِٹیا

اور تجھ کو جہانوں کی رانی بنائے!

(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved