تازہ تر ین

یادوں کی کہکشاں

انجینئر افتخار چودھری

اللہ تعالیٰ لاہور شہر اور یہاں رہنے والے میرے دوستوں کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ بڑا خوبصورت شہر ہے اور یہاں کی رونقیں بھی قابل دید ہیں ۔گزشتہ دنوں لاہور آیا تومتعدد تقریبات میں شرکت کا بھی موقع ملا۔ مسرت جمشید چیمہ اور جمشید چیمہ کی جانب سے ایک بڑے ہوٹل میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، کافی دوست وہاں اکٹھے تھے جن میں صحافی حضرات بھی شامل تھے۔ صوبائی وزیر فیاض چوہان کے ساتھ منسلک مسرت بہن نے کمال لوگ بلائے، ویسے ان میں پندرہ بیس میری جانب سے بھی شریک محفل ہوئے ۔ یہاں دوستوں کے ساتھ بڑی گپ شپ ہوئی ،تصویریں بنیں ۔مختصر سی تقریریں تھیں ۔فیاض چوہان کو صحافیوں سے معاملات کرنے آ گئے ہیں۔کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے یہاں ایم پی اے اور میڈیا ایڈوائزر مسرت کے پیچھے جمشید بھائی کا ہاتھ ہے۔ یہ ایک یادگار تقریب تھی۔ لاہور سے بڑے جذبے کے ساتھ واپس آ رہا تھا۔ آخری رات اس شہر دل فریب میں خالد منہاس کے ساتھ گزاری۔ جدہ کے پیارے دنوں کے ساتھی کے ساتھ فیملی تعلق ہے ۔جدہ کے ننھے منے علی مریم اور میمونہ اب بڑے ہو گئے ہیں۔ خالد نے بڑے مشکل حالات میں بچوں کو اعلی تعلیم دی ہے۔ کہتے ہیں ایک کامیاب انسان کے کے پیچھے ایک خاتون ہوتی ہے نعیمہ کا نام ان بچوں کی کامرانی میں لکھے دیتا ہوں ۔وہیں اظہار الحق واحد سے ملاقات ہوئی جو تین دن کے ریمانڈ پر زیر حراست ہے، بڑا پیارا نوجوان ہے۔ مجھے نہیں علم کہ اس سے کون سا جرم سر زد ہوا کہ سائبر کرائم ایکٹ اس کے گلے پڑ گیا ہے۔ لگتا ہے ریاست کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی سختی کی جا رہی ہے۔پی ٹی آئی اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور اس قسم کی گرفتاریوں کو پسند نہیں کرتی۔ اپنے بچے ہیں اگر فیض کی نظموں اور حبیب جالب کے اشعار نے انہیں اکسایا ہے تو پھر گرفتاری جالب و فیض کی ہونی چاہئے ۔ مجھے تو اس رات اظہار کے ساتھ گزرے لمحات نہیں بھولتے دبنگ ہے اوپر سے سونے پہ سہاگہ گجر بھی ہے ،کچہری میں وہ للکار رہا تھا ۔اپنے بچوں پر رحم کھائیے، میں فیاض الحسن چوہان اور فردوس عاشق اعوان سے درخواست کروں کا کہ کسی صحافی پر تادیب کی کاروائی نہیں ہونی چاہئے۔ہم اظہار کو تو پکڑتے ہیں مگر مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ میں سولہ تاریخ کی سہ پہر کو ہوا اس کو کون دیکھے گا۔ خالد نے کہا آج ظفر علی خان ٹرسٹ مسلم ٹاﺅن میں ہے وہاں چلتے ہیں جہاں صحافی رﺅ ف طاہر جو اس ادارے کے روح رواں ہیں۔ انہوں نے کسی مفکر کو بلایا ہے۔ہم نے کہا دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں کہ اس شہر کے دانشوران کرتے کیا ہیں۔وہاں کوئی صاحب شبلی نام کے ملے جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے ،وہ خاص مقرر تھے۔مجھے بھی امتیازی کرسی دی گئی کوئی تیس چالیس لوگ تھے سب نے تعارف کرایا بڑے وزن دار لوگوں کا یہ اکٹھ تھاجس میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کشمیریات کی سر براہ بھی اپنی بیٹی کے ساتھ تشریف رکھتی تھیں۔ کچھ اور بزرگ جن کے چہروں سے پتہ چل رہا تھا بندے ٹھیک ٹھاک ہیں ۔ موصوف کے تعارف سے پہلے ان کا تعارف کرایا گیا ۔ ان کا تعارف یہ تھا کہ شبلی صاحب اقوام متحدہ کے اداروں میں کام کرتے رہے ہیں ،موجودہ حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ہم نے بڑی چاہ سے انہیں بلایا ہے بڑی دھانسو قسم کی چیز ہیں۔ ہمارا بھی تعارف کرایا گیا کہ ڈکٹیٹر کے دور میں سکول ایشو پر وہاں بند کئے گئے ،سفیر پاکستان کی چیرہ دستی کا ذکر ہوا، جنرل درانی اور مشرف دور میں مشکل زندگی کا بتایا گیا ۔بھائی بتانا بھول گئے کہ اپنے مہربانوں نے جدہ میں مقیم نواز شریف کے ساتھ بیٹھک کچھ تحریروں پر ارباب اختیار کا بھڑک اٹھنا بھی شامل تھا۔ خیر یہ چلتا رہتا ہے اصل بات کی طرف آتا ہوں جب اس شعلہ بیان کے ایک ایک لفظ سے اس ملک کےخلاف نفرت نکل رہی تھی دیوار پر لگی تصویریں پتہ نہیں کیوں دھڑام سے نیچے نہیں گریں، میں نے دیکھا وہ تواتر سے پاکستان اور ریاستی اداروں کے بارے میں اول فول بکے جا رہا تھا ۔

اس شخص کے منہ سے شعلے نکل رہے تھے۔ میں اس کی بائیں جانب بیٹھا سنتا رہا تقریر منع تھی لیکن اپنی بار ی پر اجازت لی اور کہا حضور معاف کرنا‘ جو تصویر آپ نے کھینچی ہے اس سے تو لگا کہ میں پنڈی نہیں پہنچ پاﺅں گا اور نہ ہی وہ گاﺅں سے آئی مکئی کی روٹی اور ساگ کھا پاﺅں گا جو بیگم نے بتایا کہ آپ کا منتظر ہے ،اس لئے کہ میں محسوس کر رہا ہوں کہ آزاد کشمیر کو بھارت نے آئندہ چند گھنٹوں میں قابو کر لیا ہو گا، موٹر وے کلر کہار پر انڈیا کے پاس ہو گی۔میں انتہائی غصے میں تھا۔ میں نے کہا او بھائی دانش ور‘ تجھے ویزہ کس نے دیا ہے اور تو کہہ کیا رہا ہے۔ یہ ملک خداداد ستائیس رمضان کو معرض وجود میاں آیاہے ،اس کی حفاظت اللہ کرے گا اور ہم اپنی فوج کے پشتیبان ہیں جو جذبہ جہاد پر کھڑی ہے۔ ہم دہشت گردوں کو کراچی ،وانا، سوات، بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں شکست دے چکے ہیں۔وہ سہم سے گئے جب میں نے کہا کہ بائیس کروڑ عوام میں ہر شخص انجینئر افتخار چودھری ہے جو سینے پر بم باندھ کر دشمنوں کے چیتھڑے اڑا دے گا۔مہمان تو چپ ہو گیا مگر رﺅف بھائی نے میری گفتگو کو کاٹ کر کہا‘ افتخار بھائی آپ جانتے ہیں کہ میں جمعیت میں تھا اوربنگلہ دیش نامنظور موومنٹ، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفی میں کام کیا لیکن افتخار بھائی ستائیس رمضان کا پاکستان ٹوٹ چکا ہے اور آگے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔میں ان کا منہ دیکھ رہا تھا اور سہم سا گیا ۔میرے جسم میں ارتعاش سا تھا ۔میں نے کہا رﺅ ف طاہر کا پاکستان ختم ہو سکتا ہے لیکن انجینئر افتخار کا زندہ ہے۔ہم بولیں کوئی اور بولے یہ ہوتا نہیں یقین کیجئے مجھ پر ایسے جذبات جدہ میں بھی گزرے تھے۔ جب ایک انڈین شاعر نے ایم کیو ایم کے جوبن کے دور میں کراچی کے لوگوں کے نام ایک شعر کیا تھا چھ سو لوگوں میں سے کھڑے ہو کر میں نے اسے ٹوک دیا تھا۔ اعجاز رحمانی اور پروفیسر عنائت علی خان نے خاموش کرایا مگر یہاں تو ایک پاکستانی تھا جس سے میرے تیس سالہ پرانے تعلقات تھے۔ اس دن میں نے سوچا شاید ن لیگی ہونا ایک کیفیت کا نام ہے۔ ویسے بھی جمعیت کے سب کہاں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔حسین حقانی بھی جمعیت کا ہی تھا ۔ رﺅف پر بھی نونی کیفیت طاری رہتی ہے جو طاری ہو جائے تو مودی یار لگتا ہے اور عمران غدار۔میں اگر وہاں بیٹھتا تو یقینا گیارہ نمبر کے پشاوری جوتے سے اس انڈین مسلم کا سر نشانے پر لے لیتا ۔غصے سے اٹھا اور بڑبڑاتے ہوئے میں نے کہا یہ بے ہودہ محفل میرے کام کی نہیں۔ ایک سفید بالوں والے نے کہا تمہیں کس نے کہا آﺅ۔جواب تو ادھار رکھنا آتا نہیں‘ میں نے اسے کہا کہ مجھے کیا علم تھا کہ آپ ظفر علی خان کے نام پر مودی حرام خور کی مدح کرتے ہو۔قد چھ فٹ ہے ہاتھ بھی لمبے ہیں اوپر سے چوہان گجر ہوں۔ وہ سہم گیا اور میں مولانا ظفر علی خان کی تصویر کو الوداعی نگاہ ڈال کر سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔

 بس دل میں ایک بات رہی کہ کیا ہمارا ملک ففتھ وار میں مار کھا چکا ہے، کیا بیرونی ایجنٹ ہمارے قومی ہیروز کے نام پر بنے اداروں میں جگہ لے چکے ہیں؟یہ سوال میں ان ایجنسیوں پر چھوڑتا ہوں جو اس ملک کی قومی سلامتی کی ذمہ دار ہیں۔

ہمارا کوئی بندہ ہندوستان چلا جائے تو اس کو ہر شام تھانے بلایا جاتا ہے، میرے نزدیک یہ تقریر کرنیوالا بھی ایک انڈین ایجنٹ تھا جو آپ کے شہروں میں لیکچر دیتا پھر رہا ہے۔ اظہار الحق کو چھوڑو‘ اسے ملک دشمن نہ بناﺅ اس شبلی کا پیچھا کرو جو پاکستان کے شہروں میں بیٹھ کر پاکستان کیخلاف تقاریر کر رہا ہے۔پتہ کریں اسے کون سپانسر کر رہا ہے ؟کیا ہمارے بعض نجی ادارے اس حد تک گر چکے ہےں کہ وہ ملک دشمنوں کو بلا کر لیکچر کے نام پر فکری نشست کے نام پر ایک ڈرامہ کر رہے ہےں۔مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ کسی بندے کے ساتھ میرے تعلقات کتنے پرانے ہیں۔ میں نے یہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ بندہ اپنے عمل سے میرے اس وطن کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔خالد منہاس میرے پیچھے آئے اور میں وہیں سے کینال روڈ پکڑ کے موٹر وے کا راستہ لیا۔سوچتا رہا کہ اس قسم کے کتنے شبلی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ ہم اپنے ان اظہار الحقوں کی سر کوبی میں لگے ہیں اور دوسری جانب شبلی جیسے ایجنٹ ہمارے لوگوں کو پاکستان سے بے زار کر رہے ہیں۔شہر لاہور کے طوفانی دورے میں مجیب الرحمن شامی کو دیکھا ، ان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے ان کی رہائش گاہ پر جا کر پھول پیش کئے ۔برادر کرنل اعجاز منہاس سے ملا جو اپنے تئیں پارٹی کے پرانے کارکنوں کی ڈھارس بندھانے میں لگے ہیں ۔گھس پیٹھ تو چلتی رہتی ہے لیکن اس بات کا انتہائی دکھ ہے کہ اکیسویں صدی میں برادری ازم کی سیاہ سوچ اصل اور حقیقی کارکنوں کی موت بن چکی ہے۔اللہ ہدائت دے ایسے جدید دنیا کے باسیوں کا۔

الطاف حسن قریشی کی زیارت کرنے جوہر ٹاﺅن گیا ۔ گوگل نے پہلی بار دھوکہ دیا ۔ خدا خدا کر کے ان تک رسائی ہوئی انہوں نے بڑی تواضح کی انجینئر کامران نے میزبانی کی ۔ لاہور میں بڑے پرانے دوست ملے جن میں حامد ولید،ذوالفقار راحت،سلمان عابد،ارشد ضیاء،کاشف جاودانی،منشاءطاہر، عثمان سعید بسراء۔لاہور ایسا لگ رہا تھا جیسے چالیس سال پہلے تھا۔اسی شہر سے اٹھا اور راستہ بناتا گیا۔ کبھی ہوا کے پروں پر آشیانہ بنایا تو دنیا دیکھ لی۔ایک بار پاﺅں میں خارش کر رہا تھا بے جی نے کہا کہ میرا بیٹا سفر میں رہے گا اور واقعی دنیا دیکھی پاﺅں کی خارش ابھی ختم نہیں ہوئی ،مسافر ہوں یارو۔

(تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شمالی پنجاب ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved