تازہ تر ین

پاکستان اور عالمی سکیورٹی چیلنجز

طلعت مسعود

دنیا کے اہم ممالک کے زیادہ تر رہنما سلامتی سے جڑے فوری نوعیت کے نمایاں معاملات سے نبٹنے میںمنہمک رہتے ہیں لیکن وہ ایسے معاملات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کے زیادہ دور رس اور سنجیدہ اثرات ان کے اپنے ممالک اور پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان معاملات میں سب سے اہم موسمیاتی تبدیلیوں کا سر پر منڈلاتا خطرہ ہے جس کا تمام اقوام نے مل جل کر ہنگامی بنیادوںپر سدباب نہ کیا تو یہ پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق براعظم ایشیاءکے دریاﺅں کو پانی فراہم کرنے والے ہندو کش ہمالیہ خطے کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ انتہائی بدشگونی والا معاملہ ہے کیونکہ یہ جنوبی ایشیاءکے متعدد ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے‘ کے عوام کی زندگیوں کو وسیع پیمانے پربراہ راست متاثر کرے گا۔ جیسا کہ مذکورہ رپورٹ میںبھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اب اجتماعی طور پر مربوط انداز میں اس کے تدارک کے لئے کوششیں نہ کی گئیں تو کروڑوں افراد کی زندگیاں داﺅ پر لگ جائیں گی۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ہمیں اس امکانی تباہی کے متعلق آگاہ کیا گیا ہو۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کا ایک اہم جزو کیوٹو پروٹوکول ہے جوخود پر دستخط کرنےوالے ممالک کو اس امر کا بین الاقوامی طور پر پابند بناتا ہے کہ وہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی کے اہداف کو پورا کریں۔ ہر ملک اس پروٹوکول پر عمل درآمد کا اپنے طور پر ذمہ دار ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جو زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے ہدف کے حصول میں ابھی پیچھے ہے۔ یہ تو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات محسوس کر رہا ہے جن میں غیر متوقع موسمی حالات‘ آبی وسائل کی کمیابی اور ڈیلٹا کے علاقوں کا سکڑنا شامل ہے۔ وزیراعظم کے انتہائی قابل مشیرملک امین اسلم اور ممتاز سفارت کار شفقت کا کا خیل اعدادو شمار کے ساتھ اس معاملے کو اجاگر کرتے رہے ہیں مگر ان کی یہ کوششیں حکومت اور حزب اختلاف کی غیر متوازن ترجیحات میں کہیں کھو کر رہ گئیں۔

مزید برآں بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات اس قدر معاندانہ ہیں کہ جنوبی ایشیا کے عوام کے مشترکہ مفاد میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تعاون کی توقع عبث ہے تاہم یہ صورت حال ہمارے لئے اپنے ملک کے اندر ہنگامی طور پر اقدامات اٹھانے میں مانع نہیں ہونی چاہیے۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ”کروڑوں افراد کا انحصار دریائی ایندھن پر ہے۔ ان میں زراعت‘ پانی سے پیدا شدہ بجلی اور صنعتیں بھی شامل ہیں“۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں جو ان خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کی رپورٹ میں نشان دہی کی گئی ہے۔ سلامتی کو لاحق ایک اور بڑا خطرہ دنیاکی آبادی بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی آبادی میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ تعلیم کی کمی اور جہالت نے بھی آبادی میں اضافہ کی رفتار کو تیز کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ جن ممالک میں حکومتوں نے مثلاً چین اور جنوبی کوریا‘ وسیع البنیاد تعلیم کو اپنی ترجیح بنا لیا ہے اور خواتین کو کام کرنے کے مواقع فراہم کر دیئے ہیں جیسا کہ بنگلہ دیش میں تو وہاں آبادی میں اضافے میں استحکام آ گیا ہے۔ چین نے ابتداً ایک بچے کی پالیسی اپنائی تھی مگر اسے یہ ترک کرنا پڑی کیونکہ اس کے باعث آبادی میں بڑا عدم توازن پیدا ہو رہا تھا کیونکہ والدین لڑکیوں پر لڑکوں کو ترجیح دینے لگے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بڑھاپے میں لڑکا انہیں بہتر سہارا مہیا کر سکتا ہے۔

پاکستان کا شمار ان چوٹی کے ممالک میں ہوتا ہے جہاں آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 فیصد ہے۔ پاکستان کے وسائل کے پیش نظر یہ اضافہ ناقابلِ برداشت ہے۔ اس اندھا دھند اضافے کے خلاف بلند کی جانے آوازوں پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور پارلیمنٹ اس مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ غربت کا شکار لوگ بڑے خاندان کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں بچے روٹی کمانے کا ذریعہ اور ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوتے ہیں۔ حکومتوں کی طرف سے آبادی میں اضافے کے مسئلے کو مسلسل نظر انداز کرنے کی وجہ سے سکولوں اور ہسپتالوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ رش ہوگیا ہے اور کچی آبادیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کے آبی وسائل اور بنیادی ڈھانچے پر شدید دباﺅ پڑ رہا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور موجودہ شرح پیدائش سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2050ءتک اس کی آبادی چالیس کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ اگرچہ حکومتوں نے چھوٹے خاندان کے فوائد بارے عوام کی تعلیم کے لئے مذہبی شخصیات کا تعاون حاصل کیا ہے تاہم عمومی طور پر اس پیغام کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اس کے اثرات محض شہری علاقوں تک محدود ہیں۔ اگر آبادی کو اس حد تک کم کرنا ہے جہاں اس کی اچھی طرح دیکھ بھال ممکن ہو تو پھر اس کے لئے کئی سالوں پر محیط ایک وسیع البنیاد مہم کا آغاز کرنا پڑے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ امر واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ان مہیب مسائل سے ایک ایک کر کے نبرد آزما نہیں ہوا جا سکتا بلکہ ان سے نمٹنے کی خاطر ایک اجتماعی لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا مگر ابھی تک کسی بھی حکومت نے اس سمت میں کام نہیں کیا۔ جب نوجوانوں کو موزوں تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا تو اس بات کا غالب امکان ہوگا کہ وہ صحت کے بارے زیادہ باشعور ہوں گے اور ایسے چھوٹے خاندان کے خواہشمند ہوں گے جس کا وہ مالی لحاظ سے بہتر انتظام و انصرام کر سکیں ۔

اقوام عالم کے مابین سنجیدہ تصادم کا ایک اور ذریعہ سائبر سپیس ہے۔ اس وقت امریکہ اور روس اس میدان میں سب سے آگے ہیں جبکہ چین اور اہم یورپی طاقتیں ان کے تعاقب میں ہیں۔ امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی روس پر یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ اس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچانے کی غرض سے امریکی انتخابات میں مداخلت کی ہے۔ امریکہ نے ایران اور شمالی کوریا کو اپنا بنیادی ہدف بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کو زیادہ تر بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے شدید انتشار کا سامنا ہے۔ بھارت کے جنگجو وزیراعظم کے باعث پاکستان کی سالمیت کو زبردست خطرہ لاحق ہو گیا ہے جس کے تدارک کے لئے پاکستان کو حفاظتی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اسے ہمہ وقت چوکنا رہنا ہو گا اور بھارت کی طرف سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد خبروں اور اطلاعات کا سدّباب کرنا ہو گا۔ مستقبل میں دشمن ممالک کو عدم استحکام اور انتشار کا شکار بنانے کے لئے سائبر وار فیئر کو ایک اہم ہتھیار کی حیثیت حاصل ہو گی۔

اس بات کا امکان ہے کہ القاعدہ‘ اسلامک سٹیٹ‘ طالبان اور ان سے الگ ہوئے متعدد جنگجو گروہ جو اب اپنے طور پر سرگرم ہیں‘ جنگ زدہ مسلم ممالک مثلاً شام‘ یمن‘ لبنان اور افغانستان میںسرگرم رہیں گے۔ پاکستان کے اندر بالخصوص خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میںاسلامک سٹیٹ کی موجودگی کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میںبلوچ لبریشن فرنٹ اور داعش سرگرم ہو چکی ہیں اور پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اپنی مغربی سرحد پر اپنی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہو گا۔

پاکستان پر سعودی ایران آویزش کے اثرات کا بھی لازماً تدارک کرنا ہو گا۔ توازن برقرار رکھنے کی یہ کوشش پاکستان کے لئے سفارتی اور سلامتی کے لحاظ سے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران میں اگر طویل عرصہ تک سیاسی اور اقتصادی بے چینی اور اضطراب برقرار رہتا ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوںگے۔ غیر یقینی مستقبل کے حامل افغانستان کے ساتھ ایران کی صورتحال اس خطے کے ساتھ ہمیں بھی مزید پیچیدہ اور خطرناک صورتحال سے دوچار کر دے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی پاکستان کو علاقائی اور عالمی جھگڑوں سے دور رکھنے کی پالیسی دانشمندانہ ہے تاہم یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہماری معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو گی‘ ہم سیاسی طور پر مستحکم ہوں گے اور اقوام عالم میں ہم ایک ممتاز مقام کے حامل ہوں گے۔یہ حقیقت اس وقت بڑی واضح ہو کر سامنے آئی جب عمران خان نے ملائشیا کا اپنا طے شدہ دورہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہم مالیاتی نکتہ نظر سے اپنے محسن سعودی عرب کو ناراض کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔  ( ترجمہ : نعیم احمد )

(مضمون نگار سابق لیفٹیننٹ جنرل اور سابق وفاقی سیکرٹری ہیں)

٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved