تازہ تر ین

لہو ہمارا بھلا نہ دینا

ضمیراحمدقریشی
جنت نظیر ریاست جموں و کشمیر بنیادی طور پر بڑے ریجنوں وادی کشمیر و جموں‘ کارگل‘ لداخ‘ بلتستان‘ پونچھ اور درجنوں چھوٹے ریجنوں پر مشتمل ہے۔ یہ ریاست 84 ہزار1 47 مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس ریاست کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ آج دنیا جس ریاست کی بات کرتی ہے وہ 15 اگست 1947ء کو قائم ہوئی تھی ۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی کل آبادی ایک کروڑ 70 لاکھ سے کچھ زائد ہے۔ یہ ریاست دنیا کے تینوں پہاڑی سلسلوں قراقرم‘ ہمالیہ‘ ہندوکش میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس وقت یہ ریاست 7 حصوں میں تقسیم ہے۔ اس کے حصے تین بڑے ممالک پاکستان‘ بھارت اور چین کے کنٹرول میں ہےں۔ پاکستان کے پاس 28 ہزار مربع میل گلگت‘ بلتستان اور پانچ ر ہزار مربع میل آزاد کشمیر کا علاقہ ہے۔ گلگت‘ بلتستان کی آبادی تقریباً 20 لاکھ جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً40 لاکھ سے زائد ہے۔
بھارت کے زیر قبضہ علاقوں میں وادی کشمیر جموں اور لداخ وغیرہ شامل ہیں جن کی مجموعی آبادی تقریباً ایک کروڑ سے زائدہے۔
چین کے پاس 10 ہزار مربع میل کے علاقے اقصائے چن کا علاقہ ہے۔ چین کے اس علاقے میں کوئی آبادی نہیں ہے۔ یہ علاقہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سینک کیانگ کا حصہ ہے۔ چین نے کچھ علاقہ 1963ءکی جنگ میں بھارت سے چھینا تھا جبکہ 1900 مربع میل کا علاقہ پاکستان سے 16 مارچ 1963ءمیں پاک چین معاہدے کے تحت عارضی طور پر حاصل کیا ہوا ہے۔
اہل کشمیر کی مظلومیت کی طویل شبِ تار کا آغاز 16 مارچ 1846ءکو ہوا۔ جب معاہدہ امرتسر طے پایا تھا۔ معاہدے کے مطابق گلاب سنگھ نے انگریز سے 75 لاکھ نانک شاہی میں جموں و کشمیر اور ہزارہ کا علاقہ خرید کر غلام بنا لیا تھا جبکہ گلگت بلتستان‘ کارگل‘ لداخ ریجن کے علاقوں پر قبضہ کر کے ایک مضبوط اور مستحکم ریاست قائم کر لی۔ شیخ عبداللہ کی کشمیر چھوڑو تحریک اور دیگر تحریکوں نے کشمیر کے مسلمانوں کو ڈوگرا راج کے خلاف جدوجہد کرنے پر تیار کر لیا۔ 24 اکتوبر 1947ءکو موجودہ آزادکشمیر میں آزاد حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مجاہدین نے سری نگر کی طرف رخ کیا اور سری نگر تک کے علاقہ پر قبضہ کر لیا۔ مہاراجہ کشمیر دارالحکومت سے بھاگ کر جموں چلا گیا اور اس نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق کا اعلان کر دیا۔
بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی ہوئی تھی جبکہ پاکستان نے آزادکشمیر میں 1947ءہی میں آزاد ریاست کشمیر قائم کر دی تھی۔80ءکی دہائی کے آخر میں باقاعدہ طور پر کشمیر میں عسکری جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں یکم جنوری 1989ءسے 31 دسمبر 2019ءتک ایک لاکھ سے زائدکشمیری نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں 6 ہزار 982 نوجوانوں کو حراست میں لے کر شہید کر دیا گیا۔ دو لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ ایک لاکھ سے زائد مکانات اور عمارتیں تباہ کر دی گئیں۔ 22 ہزار 749 خواتین بیوہ ہوئیں اور ایک لاکھ 7ہزار 400 بچے یتیم کر دیئے گئے۔ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔
بھارت کے اس ظلم و ستم میں جنوری 2020ءتک کوئی کمی نہیں آئی۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی ایک کروڑ آبادی کو مکار‘ ظالم‘ فاشسٹ نریندر مودی نے اپنے ایک لاکھ 80 ہزار بھارتی فوجیوں کے ذریعے 175روز سے زائد لاک ڈاﺅن کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں کو ہر قسم کی سہولت سے محروم کر رکھا ہے۔ وہ جمعہ کی نماز تک نہیں پڑھ سکتے ،خورونوش کی اشیاءان کی دسترس سے دور ہیں۔ اگر وہ باہر نکلتے بھی ہیں تو بھارتی فوجیوں کی پیلٹ گنوں کا نشانہ بنتے ہیں۔
آج تاریخ ہم سے یہ تقاضا کر رہی ہے کہ نہ صرف ہم کشمیریوں کی اخلاقی اور عسکری حمایت کا اعلان کریں بلکہ ہم اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں اور اپنے آپ سے سوال کریں کہیں ہم کشمیریوں کے خون سے غداری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے۔ جونوجوان مرد و زن بوڑھے اور بچے کشمیر کی آزادی کے لیے اب تک اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں وہ سب کے سب شہید ہیں اور شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اہل پاکستان پر ان شہداءکشمیر کے خون کا قرض موجود ہے جس کے چکانے کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم جدوجہد کشمیر اور اہل کشمیر کی کھل کر عسکری حمایت کریں اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو مانند نہ پڑنے دیں ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی نہ ہی ان شہیدوں کا لہو جو اہل دنیا سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے:
لہو ہمارا بھلا نہ دینا
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved