تازہ تر ین

اردو زبان کے مستقبل کاسفر

طاہر محمود
انسانی زندگی میں زبان اظہار کا سب سے بڑا اور مو¿ثر ذریعہ ہے۔ علاقائی زبانوں سے قومی زبانوں تک، سب کا اپنا اپنا مقام اور استعمال ہے۔ علاقائی زبانوں کا اپنا ایک حسن، چاشنی اور شناخت ہے۔ اس طرح کسی ملک کی قومی زبان ایک بڑے کینوس پر شناخت، رابطے اور کام کی زبان کے طور پر عوام کی زندگیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ کسی بھی ملک کی قومی زبان کو اتنا وسیع اور جامع ہونا چاہئے کہ وہ نہ صرف علاقائی اور ملکی سطح پر رابطے کا مو¿ثر ذریعہ ہو بلکہ وہ دنیا کی دوسری زبانوں میں موجود علم و ہنر کو اپنے الفاظ کے ذریعے عوام تک پہنچا سکے۔ خاص طور پر وہ تمام علوم جو انسان کی زندگی کے مادی پہلوﺅں سے تعلق رکھتے ہوں ان کا قومی زبان میں ہونا اشد ضروری ہے۔ اس کے بغیر ترقی کا سفر جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ زبان کا استعمال صرف احساسات اور جذبات کی ترجمانی تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے معاشیات، سیاسیات، سائنس و ٹیکنالوجی، جغرافیہ، طب، نفسیات غرض ان تمام علوم کو اپنے اندر سمونے کی گنجائش ہونی چاہئے۔ خاص طور پر آج کے دَور میں جب دنیا کے تمام خطے اور ان کے علوم ایک ہی وقت میں موجودہ دنیا کے ”گلوبل وِلیج “بننے سے ہماری زندگیوں سے علیحدہ نہیں کئے جاسکتے، تو ان علوم کا قومی زبان میں آسان و عام فہم انداز میں شامل ہونا وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے۔ یہاں ہمیں یہ بات مدِنظر رکھنی چاہئے کہ عام انسان اپنے ذاتی مفاد کی تکمیل اورتسکین کےلئے ہمیشہ تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔انسانی فطرت کے اِس بنیادی نقطے کی روشنی میں دوسرے شعبوں کے علاوہ ہماری زبان کو بھی ایک عام انسان کی ضروریات کے حوالے سے جڑی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔ اگر ہماری قومی زبان ان علوم پر اپنی گرفت مضبوط نہیں کرتی جن کی بدولت مستقبل کے نوجوان خصوصی طور پر اپنے معاشی مسائل کا حل کرسکیں تو ان کا دوسری زبانوں کی طرف متوجہ ہونا فطری عمل ہوگا۔ اب اگر دنیا کی دوسری زبانیں خصوصی طور پر معاشیات، سائنس و ٹیکنالوجی (جن میں طب، فزکس، کیمسٹری، میتھ اور کمپیوٹر کا علم نہایت تیزی سے آگے بڑھ چکا ہے اور لگا تار بڑھ رہاہے) ،سیاسیات بشمول بین الاقوامی تعلقات وغیرہ میں ترقی کی کئی منازل طے کرچکی ہیں تو اردو زبان میں ان علوم کا سمونا ہمارے حال اور مستقبل کےلئے بے حد ضروری ہے۔ اگر ہم ترقی اور اپنی قومی شناخت کو جدا جدا نہیں دیکھتے تو ہمارے بچوں کو ماڈرن علم کا حصول اپنی زبان میں ہی کرنا ہوگا۔
اگر ہم پاکستان کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیں توہمیں دو ٹرینڈز (Trends) بہت واضح دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مختلف صوبے اپنی علاقائی زبانوں کی ترویج وترقی میں کافی متحرک دکھائی دیتے ہیں اور دوسرا ہمارے ملک میں ایک طبقہ انگریزی زبان کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکا ہے۔ خاص طور پر پرائیویٹ سکولوں میں جن کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے، پرائمری لیول سے ہی تمام مضامین ماسوائے اردو، انگریزی زبان میں ہی پڑھائے جارہے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کی اردو زبان میں دلچسپی اور استعداد میں زوال بہت نمایاں نظر آتا ہے۔اگر یہی صورت حال جاری رہی تو آنے والے سالوں میں اردو کا سٹیٹس ایک غیر ملکی زبان کی طرح ہو جائے گا اور انگریزی زبان نیٹو(Native)زبان کے طور پر اپنی گرفت مضبوط کرلے گی۔ ظاہر ہے جب اسلامیات، تاریخ، پاکستان سٹڈیز، سائنس کے تمام مضامین وغیرہ انگریزی میں پڑھائے جائیں گے تو انگریزی ہمارے خیالات، نظریات اور استعداد کا ذریعہ بن جائے گی اور اردو جو کہ ہماری قومی زبان ہے، ہماری زندگیوں کا ایک ثانوی جزو بن کر رہ جائے گی۔ ایک ایسی صورتحال ہماری آنےوالی نسلوں کےلئے بطورِ قوم بے حد خطرناک ہوگی اور اس سے ہماری قومی شناخت کے متاثر ہونے کا انتہائی خطرہ موجودہے۔ یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ انسان کا وجود ذاتی شناخت و ترقی کے ساتھ ساتھ قومی شناخت، ترقی و فخر کا محتاج رہتا ہے۔ ان دونوں پہلوﺅں میں سے کسی ایک کا اگنور (Ignore) ہونا ہماری آنے والی نسلوں کےلئے آزمائش کے نئے پہاڑ کھڑے کردے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال میں کیا لائحہ عمل اختیارکرناچاہئے کہ ہماری قومی زبان اردو نہ صرف ہماری شناخت کا مو¿ثر ذریعہ بن کر موجود رہے بلکہ اس کا دامن اتنا وسیع کیا جائے کہ یہ موجودہ زمانے کے تمام علوم کو اپنے اندر سمو سکے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی اشد ضروری ہے کہ اس بات سے ہر گز یہ مطلب نہ اخذ کیا جائے کہ ہمیں دھڑا دھڑغیرملکی زبانوں میں موجود علم کے اردو میں تراجم شروع کردینے چاہئیں۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ تراجم انتہائی مشکل اور غیرمستعمل اردو الفاظ میں کئے جاتے ہیں جو طالب علموں کی مشکلات میں اضافہ بھی کرتے ہیں اور ان کے تمسخر کا نشانہ بھی بنتے ہیں۔یقینا یہ برتاﺅ ہماری قومی زبان کے شایانِ شان نہیں ہے۔مثال کے طور پر کچھ عرصہ پہلے گاڑی کے انڈیکیٹر (Indicator) کا ترجمہ اردو زبان میں ’برقی قمقمہ برائے تبدیلی سمت‘ کیا گیاتھا جو نہ صرف استعمال میں مشکل بلکہ تفننِ طبع کا باعث بھی بنا ‘ اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو زبان کا دامن وسیع کیا جائے تاکہ وہ نہ صرف علاقائی زبان کو اپنے دامن میں سمو سکے بلکہ موجودہ دنیا میں مستعمل علوم کو انتہائی عام فہم اور سہل انداز میں لوگوں تک پہنچا سکے۔ اس صلاحیت میں اضافے سے اردو زبان صرف احساس و جذبات کی ترجمانی سے بڑھ کرایک اہم یوٹیلٹی فیکٹر کے طور پر ہماری زندگیوں میں شامل رہے گی۔مفکّرِ پاکستان علامہ اقبالؒ جن کی شاعری صرف زبان و بیان کے محاسن کا نمونہ نہیں بلکہ عمل، حرکت اور ارتقاءکی قوت کا فلسفہ ہے۔ زبان کے ارتقاءکے حوالے سے فرماتے ہیں : ”زبان کو میں ایک بت تصور نہیں کرتا ، جس کی پرستش کی جائے، بلکہ اظہارِ مطالب کا ایک انسانی ذریعہ سمجھتا ہوں۔ زبان انسانی خیالات کے انقلاب کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور جب اس میں انقلاب کی صلاحیت نہیں رہتی تو مردہ ہو جاتی ہے۔ “
اوپر دیئے گئے دومقاصد یعنی (ا) اردوزبان کا علاقائی زبانوں کو اپنے دامن میں جگہ دینا اور پاکستان کے تمام لوگوں کے رابطے کا ذریعہ بنتے رہنا، اور (ب) موجودہ علوم جو تقریباً سارے کے سارے انگریزی زبان میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں، سے استفادے کےلئے ہمیں سوچ اور عمل کے نئے زاویئے تلاش اور استعمال کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں چند تجاویز امید واثق ہے کہ ممد ومعاون ثابت ہوں گی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے کہ اردو اپنے دامن کو وسیع کرتے ہوئے اپنے اندر پاکستان کی چاروں صوبائی زبانوں اور انگریزی کو جگہ دے سکے، پرائمری کلاسز سے لے کر میٹرک تک ایک نئے مضمون کو انٹروڈیوس (Introduce) کرانے کی ضرورت ہے۔اس مضمون کے چند چیدہ چیدہ خدوخال ایسے ہونے چاہئیں۔
پہلی کلاسوں میں طالب علموں کو اردو کے حروفِ تہجی کے مقابل و مترادف انگریزی اور صوبائی زبانوں میں متعارف کرائے جائیں۔ درجہ بدرجہ ، زبانوں کے اس ملاپ (Confluence) کوبڑھایا جائے۔ تاہم اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایسے الفاظ، جملے، مضامین اور کہانیاں پڑھائی جائیں جوآپس میںرابطے اور جدید علم کے ایکسچینج (Exchange) میں فائدہ مند ہوں۔ اگر طالب علموں کو زبان کی قدیم شاعری یا صرف و نحومیں الجھا دیاگیا تو طالب علموں کی اکثریت اس مضمون سے اکتا جائے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ آسان گفتگو اور ضروری علم جو اِس دَور کے تقاضوں کے عین مطابق ہو، تک ہی محدود رکھاجائے۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس مضمون کی کتاب کا سائز شروع کی کلاسز کے لئے مختصر رکھاجائے، تاہم دلچسپی اور معلومات کے پہلو سے تمام زبانوں اور علاقوں کی ثقافت کی تصاویروغیرہ کو بھی شامل کیاجائے اور اسے لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔ اس مضمون کی بدولت نہ صرف اردو کا دامن وسیع ہوگابلکہ اس کے ساتھ ساتھ جب ایک صوبے کے رہنے والے دوسرے صوبے میں جائیں گے تو ان کےلئے بات چیت کرنا یا فرائض کی تکمیل میں آسانی ہوگی۔ اس کا ایک بالواسطہ فائدہ قومی یکجہتی کی صورت میں بھی ہوگا۔ یہاں اِس بات کا اِمکان بھی ہے کہ طلباءکے سیلیبس میں ایک نئے مضمون (Subjcet) کے اضافے کی مخالفت کی جائے۔ تاہم یہ بات مدِنظر رہے کہ قومی شناخت اور بقاءکےلئے ہمیشہ لگاتار کوششیں اشد ضروری ہوتی ہیں۔
جہاں تک انگریزی زبان کا تعلق ہے، اس کو ہم پرائمری سے لے کر میٹرک تک ایک لازمی مضمون کے طور پر پڑھائیں۔ انگریزی کوخصوصی ترجیح بھی دیا جاسکتا ہے۔ انگریزی زبان کو تین مضامین یعنی انگریزی، میتھ اور آئی ٹی تک محدود رکھا جائے۔ مگر اسلامیات ، پاکستان سٹڈیز، جغرافیہ، تاریخ، سیاسیات اور معاشیات وغیرہ میٹرک تک اردو میں ہی پڑھائے جانے چاہئیں۔ کتابوں کے تراجم کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ا±ردو زبان کے متروک ، پیچیدہ اورمشکل الفاظ کے بجائے انگریزی کے آسان الفاظ کو استعمال کیا جائے۔ انگریزی الفاظ کے ساتھ جو کہ اردو میں لکھے جائیں، بریکٹ میں انگریزی زبان کا اصل لفظ بھی لکھاجاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ تمام ادارے جن کے ذمے اردو زبان کا فروغ اور تراجم وغیرہ ہوں ان میں متعین سربراہان اور افراد کو یہ تاکیدکی جائے کہ ان کا مقصد غیر ملکی زبان کے ہر لفظ کو ’مشرف بہ اردو‘ کرنا نہیں ہے بلکہ اردو کا دامن وسیع کرنا ہے۔ تاکہ اردوموجودہ اور آنےوالے زمانوں میں ایک فنکشنل (Functional) زبان کے طور پر استعمال ہوسکے اور کہیں عدمِ استعمال کی وجہ سے متروک ہی نہ ہوجائے۔ ایسی کسی صورت حال کا ہماری قومی شناخت اور قومیت پر بہت شدید منفی اثر پڑے گا۔
غرضیکہ موجودہ دور اور مستقبل کےلئے اردو زبان کو تیارکرتے ہوئے ہمیں ٹرپل اے سٹریٹیجی اپنانی پڑے گی۔ اس سٹریٹیجی میں پہلاA انگریزی کا لفظ Adapt ہے۔ یعنی ہمیں اپنی کسی ایک مخصوص شکل میں مقید رہنے کے بجائے حالات کے مطابق مناسب تبدیلیوں کو جگہ دینی ہوگی۔ اس سٹریٹیجی کادوسرا مرحلہ Adopt کرنا ہے۔ یعنی ہمیں ان تمام الفاظ و اظہار کو کھلے دل سے اپنے ہاں جگہ دینی ہوگی اور اس سٹریٹیجی کا تیسرا مرحلہ درجہ کمال حاصل کرنا ہماری منزل ہوگا۔ جہاں Adapt اور Adopt کے مراحل سے گزرنے کے بعد ہم Adept کی منزل تک پہنچیں گے۔ Adept کی سٹیج پر پہنچ کر یہ تمام نئے علوم ہمارے روز مرہ معاملات سے لے کر ہماری قوم کے عروج وترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ شروع میں دیئے گئے مقاصد اور تجویز شدہ نئے مضمون کا سیلیبس میں شامل کرنا اور دیگر ضروری اقدامات کرتے ہوئے ہمارے ذہن میں ایک بنیادی نقطے کا ہونا اشد ضروری ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اردو شروع سے ہی ’لشکری‘ زبان ہے۔ اور کسی لشکر میں تمام طبقات اور گروہوں کا آپس میں مو¿ثر رابطہ، فرائض کی بجا آوری میں کم وقت اور کم الفاظ میں بہترین استعداد، اور عام فہم ہونا ضروری ہے۔ ایک لشکری زبان کو ایک خاص طبقہ اشرافیہ یا آداب و تسلیمات کے اظہار جس میں استعدادِ کار کے بجائے نمو دو نمائش ہو، زیادہ عرصہ زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ اسی لئے ’لشکری زبان‘ کے جذبے، اصول اور ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کسی ڈر اور خوف کے بغیر دوسری زبانوں کے الفاظ اور اظہار کو اپنے ہاں جگہ دینی ہوگی۔ یقینِ واثق ہے کہ ہمارے حروفِ تہجی میں لکھے ہوئے دوسری زبانوں کے الفاظ آہستہ آہستہ ہماری زبان اور کلچر کا حصہ بن جائیں گے۔ ہمیں اردو کے مستقبل کو 2020ءسے2120ء،2220ءاور اس کے بعد آنے والے زمانوں کے مطابق وسیع کرنا ہوگا۔ بحیثیت ایک زندہ قوم ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں آنےوالے زمانوں کے تمام ضروری علوم جن میں کمپیوٹر، بینکنگ، اکانومی، طب، فزکس، کیمسٹری وغیرہ اپنی قومی زبان یعنی ا±ردو میں پڑھیں۔ بقول اقبال
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
(بشکریہ:ھلال)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved