تازہ تر ین

بندہءخاکی سے اسکی خاک بھی خطرے میں ہے

اسرار ایوب
غیر معمولی سردی پڑ رہی ہے ، موسم بدحواس ہو رہے ہیں،پاکستان ان 6ممالک میں شامل ہے جنہیں کلائمیٹ چینج سے شدید ترین خطرات لاحق ہیں،کلائمیٹ چینج کس بلا کو کہتے ہیں اور یہ کیا قہر برپا کر سکتی ہے آج اسی پر بات کریں گے لیکن اس سے پہلے میرے ایک قطعے پر غور فرمائیے کہ
بد نصیبی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی بھلا
بندہ ءخاکی سے اس کی خاک بھی خطرے میں ہے
عاقبت بھی ساتھ دھرتی کے لگی ہے داﺅ پر
تُو بھی خطرے میں ترا دراک بھی خطرے میں ہے
کلائمیٹ چینج پر کچھ کہنے سے پہلے ذرا اس بربادی کو ذہن میں لائیے جو ہیروشیما پر گرنے والے ایٹم نے لائی جب درجہ حرارت 70ہزار فارن ہیٹ(یعنی38ہزار871سینٹی گریڈ) تک بڑھ گیااور اسکے ساتھ ہی ہوائیں ایک ہزار پانچ کلومیٹر فی گھنٹہ(1005Km/h) کی رفتار سے چلنے لگیں،اور ایک لاکھ 40 ہزارلوگ جھلس کردم توڑ گئے۔ لیکن آج کا ایٹم بم تو کل کے ایٹم بم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے ۔توجوہری ہتھیاروں کے ماہر ”رس ویلن“ ایٹم بم کی موجودہ طاقت کو سامنے رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرپاک بھارت ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو 2کروڑ لوگ تو دھماکے کے براہِ راست اثر سے ہلاک ہو جائیں گے اور2ارب اُس تابکاری کے طفیل سسک سسک کر لقمہءاجل بنیںگے جو ان دھماکوں کے بعد برسوں تک پوری دنیا کو جھیلنی ہو گی۔ وہ اس طرح کہ 50لاکھ ٹن دھواں فضا میں بھر جائے گا جس سے سورج کی حرارت زمین تک ایسے نہیں پہنچ سکے گی جیسے ابھی پہنچتی ہے، قطب شمالی میںدرجہءحرارت اتنا گرجائے گا جتنا برفانی دور(Ice Age)میں ہوا کرتا تھا، یہی نہیں بلکہ اس دھوئیں سے ہماری ozoneکا 50فیصد حصہ تباہ ہو جائے گاجس کے سبب سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں ہم تک بآسانی پہنچ جایا کریں گی جن سے ایک طرف تو جلد کے کینسر جیسی موذی بیماری عام ہو جائے گی اور دوسری طرف کئی پودے اور دیگر جاندار بالخصوص ”فائٹو پلینکٹن“جو سمندری خوراک کا بنیادی ذریعہ ہے صفحہ ءہستی سے مٹ جائیں گے، زراعت بری طرح سے متاثر ہو گی، صرف چین کی زرعی پیداوار میں ہی 50فیصد کمی واقع ہو جائے گی ، انسان اناج کے دانے دانے اور پانی کے قطرے قطرے کو ترسے گا لیکن مداوے کی فوری صورت بعید از قیاس ہو گی۔
رس ویلن کا تجریہ تو آپ جان چکے لیکن کیا یہ بھی جانتے ہیں کہ کلائمیٹ چینج سے وہ تباہی آ سکتی ہے جو بین الاقوامی جوہری جنگ سے بھی نہیں آ سکتی؟ ”کلایمیٹ چینج“کیا ہوتی ہے اسے سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کششِ ثقل کی وجہ سے کچھ گیسیں ایک دوسرے میں گھُل مل کر ایک کمبل کی طرح ہماری زمین کے اردگرد لپٹی ہوئی ہیں،گیسوں کی اس تہہ کو ”ایٹماسفیئر“ (Atmosphere) کہتے ہیں جس میں نائٹروجن کا تناسب 78.09 فیصد،آکسیجن کا 20.95فیصد،کاربن کا 0.39فیصد اور میتھین کا0.00018فیصد ہے۔اس خاص تناسب کی وجہ سے ”ایٹماسفیئر“ایک خاص قسم کے برتاﺅ کا مظاہرہ کرتا ہے،یہ برتاﺅ مختصر مدت میں کیسا ہو گا اسے موسم کہتے ہیں جبکہ موسم کے اعداد و شمار طویل عرصے تک کیسے ہوں گے اسے ”کلائمیٹ“ کہتے ہیں۔مثلاً حالیہ گرمی ،حالیہ سردی،حالیہ بارش،حالیہ نمی وغیرہ موسم ہے جبکہ گزشتہ سو دوسو سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کی اوسط گرمی ،اوسط سردی،اوسط بارش،اوسط نمی وغیرہ ”کلائمیٹ“ ہے۔
کلائمیٹ میں تبدیلی یوں آ رہی ہے کہ 1750 میں آنے والے صنعتی انقلاب کے بعدمشینوں کو چلانے کے لئے مرے ہوئے جانداروں کے گلنے سڑنے سے پیدا ہونے والے توانائی کے ذرائع (Fosil Fuels)یعنی پٹرول،ڈیزل،کوئلہ،گیس استعمال کیے جانے لگے جن کے طفیل ہمارے ایٹماسفیئرمیں کاربن،میتھین اور نائٹروجن کی مقدار میں بالترتیب 35فیصد،148فیصد اور 18فیصد اضافہ ہوا جس سے ایٹماسفیئر کا برتاﺅ تبدل کا شکار ہو گیا ،اور یوں موسم بھی تبدیل ہونے لگے اور کلائمیٹ بھی۔اس تبدیلی کہ وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں اتنی قدرتی آفات آئیں جتنی پہلے کی ساری تاریخ میں کبھی نہیں آئیں۔
اگر کلائمیٹ چینج پر قابو نہ پایا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب کاربن سمندروں میںمل کرپانی کو تیزاب (Carbonic Acid)میں تبدیل کر دے گی جو آبی حیات کومار کرہم پربھی بارش کی صورت برسے گا۔موجودہ صدی کے آخر تک ہی سطحِ سمندر کی بلندی 3فٹ بڑھ جائے گی، شہر زیرِ آب نہیں بلکہ زیرِ تیزاب آجائیں گے۔انواع و اقسام کے جان لیوا جراثیموں کی بھر مار ہو گی۔زلزلے ،طوفان،خشک سالیاں ، قحط وغیرہ روزمرہ کامعمول بن جائیں گے۔متاثرین کے پاس ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا لیکن انہیں پناہ دینے کا حوصلہ کسی میں نہیں ہو گا ۔انسان اناج کے دانے دانے اورصاف پانی کے قطرے قطرے کے لیے ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگیں گے۔اور پھرایک دن زمین اتنی گرم ہوجائے گی کہ اس پر زندگی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے گا۔
اس ہولناک تباہی و بربادی سے بچنے کا آسان سا طریقہ یہ ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں کیونکہ وہ ایک جانب تو کاربن ڈائی آکسائیڈکو چوس لیتے ہیں جس پرکلائمیٹ کو بگاڑنے کی 72فیصد ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور دوسری طرف آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو زندگی کا دوسرا نام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ” رینیوایبل“ توانائی کے ذرائع یعنی پانی، سورج اور ہوا کو زیرِ تصرف لا یا جائے اور میگا واٹس کے بجائے کلوواٹس میں بجلی پیدا کی جائے۔اس طرح ہم توانائی کے بحران پر فوراً قابو پاکر نہایت سستی بجلی حاصل کرنے کے علاوہ کلائمیٹ چینج کے خلاف بڑے ہی موثر طریقے سے جہاد بھی کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر میرایہ قطعہ غور سے پڑھ لینا چاہیے کہ
دیکھ حد سے نہ گزر جائے تپش سورج کی
تیرا سایہ بھی تری دھوپ میں جل جائے گا
سُن ہواﺅں میں دھواں کوٹ کے بھرنے والے
تُو نہ پگھلا تو ترا جسم پگھل جائے گا
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved