تازہ تر ین

سر زمین ہماری ، فیصلہ بھی ہمارا

اکمل شاہد
ایران امریکا تنازعہ پاکستان کو ایک نئی جنگ کا ایندھن بنا سکتا تھا مگر وزیر اعظم عمران خان نے امریکا پر واضح کر دیا کہ پاکستان امن عمل کا حصہ بننے کے لیے تو تیار ہے لیکن کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا جبکہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اس پر یہ کہہ کر مہر ثبت کر دی کہ نہ تو کسی کو یہاں فوجی اڈے دئیے جائیں گے اور نہ ہی اپنی سر زمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور عالمی سیاست کے تقاضوں کو بھی مدِ نظر رکھنا ہوتا ہے، امریکا اِس خطے میں عشروں سے اپنے معاشی مفادات کے حصول کی خاطر اپنی فوجی برتری کے ذریعے سر گرم ہے، سابق سوویت یونین سے ویت نام میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے اس نے افغانستان میں جہاد کی سر پرستی کا داﺅ کھیلا ، سعودی عرب بھی اس کھیل کا حصہ بنا کیونکہ ایران میں شہنشا ہت کا تختہ اُلٹا جا چکا تھا کہ پُرانا سیاسی حریف مشرق ِ وسطی میں اپنا اثرورسوخ بڑھائے گا۔ پاکستان کی اپنی مجبوریاں تھیں،اُس وقت ملک پر بر سر اقتدار جنرل ضیاءالحق کو بھی عالمی حمایت در کار تھی، گویا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا اور افغانستان میں جنگ کا میدان گرم ہو گیا ، پچاس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پاکستان کے حصے میں آئے، اُن کے ساتھ کلاشنکوف آئی ، ہیروئن آئی اور سب سے بڑھ کر مذہبی شدت پسندی آئی، فرقہ وارانہ قتل و غارت گری نے سر اُٹھایا ، ہزاروں گھر اُجڑ گئے درحقیقت ہماری سر زمین پر یہ سعودی ایرانی پراکسی وار تھی ، سو ویت یونین کو شکست ہوئی ، امریکا اپنا مطلب نکال کر چلتا بنا اور پاکستان نتائج بھگتنے کے لیے اکیلا رہ گیا۔
اب یہ راز راز نہیں رہا کہ القاعدہ کا ماسٹر مائنڈ کون تھا اوراس دہشت گرد تنظیم کے قیام کے پس پردہ مقاصد کیا تھے، کمیونزم کا خوف ختم ہوا تو امریکا اور یورپ نے اسلام کو نشانے پر رکھ لیا، مسلمانوں کو بد نام اور دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے نائن الیون کا ڈرامہ رچایا گیا جس میں یہودی دماغ، عیسائی مہارت اور اسلامی افرادی قوت کے استعمال سے بین المذاہب ہم آہنگی کا بد ترین منفی نمونہ پیش کیا گیا تاہم بربادی صرف امت مسلمہ کے حصے میں ہی آئی۔
امریکا نے اپنے عرب اتحادیوں کے ذریعے پہلے عراق ایران جنگ کرائی ، لاکھوں بے گناہ مسلمان اس کی بھینٹ چڑھے، امریکا اور یورپ نے اسلحہ بیچ کر پیشہ کمایا، سنی اور شیعہ دونوں بر باد ہو گئے، اس چال کو صدام حسین سمجھنے میں نا کام رہے ، بعد میں امریکی سازش کا شکار ہو کر کویت پر قبضہ کیا اور پھر امریکا اپنی فوجیں مقدس سر زمین پر لے آیا، تباہ کن ہتھیاروں کے جھوٹے پروپیگنڈے کی بنیاد پر عراق کو کھنڈر بنانے والے امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے تعمیر نو کے نام پر ہاتھ رنگے اور پھر افغانستان پر چڑھائی کر دی۔
پاکستان کو دھمکی دے کر اس جنگ میں گھسیٹ لیا گیا، ماضی کے مجاہدین جو طالبان کے نام سے افغانستان پر حکومت کر رہے تھے اُن کے خلاف پاکستان کے ہوائی اڈوں سے امریکی بمباری شروع ہو ئی تو پاکستانی طالبان اپنے ہی ملک کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے، قبائلی علاقوں میں پاکستان کا ریاستی اختیار چیلنج ہوا تو اندرونی سلامتی کو لا حق خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان آرمی اور فضائیہ کو دہشت گردی کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑنا پڑی۔
سفاک دہشت گردوں نے فوجی تنصیبات ، چھاﺅ نیوں، مساجد، امام بارگاہوں، گرجا گھروں اور بزرگان دین کے مزاروں کو خود کش حملوں اور بم دھماکوں کا نشانہ بنایا ، سیکیورٹی فورسز اور عام نہتے شہریوں پر حملے کیے، ستر ہزار سے زائد باوردی اور بے وردی پاکستانی شہریوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے، پشاور میں آرمی پبلک اسکول پرحملے کے بعد پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور پاک فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا صفایا کر دیا۔
طویل جنگ اور لا زوال قربانیوں کے نتیجے میں ملک کی اندرونی سلامتی کو لاحق خطرات اب باقی نہیں رہے، مسلح افواج یکسو ہو کر بری، بحری اور فضائی حدود کی حفاظت کر رہی ہیں، پاک افغان بارڈر پر حفاظتی باڑ تکمیل کے مراحل میں ہے جس کے بعد پاک ایران بارڈر پر بھی ایسی ہی حفاظتی باڑ لگائی جائے گی، ازلی دشمن بھارت ہمیشہ ہمارا دشمن ہی رہے گا جب تک کہ ہندُتوا کے ہاتھوں خود ہی اپنے ٹکڑے نہیں کر لیتا۔
اب بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں اپنا یہ فرض نبھانا ہے کہ اپنی اپنی مسلکی وابستگیاں ایک طرف رکھ کر اپنی سر زمین نہ تو کسی کو اُس کی پراکسی وار کے لئے استعمال کرنے دیں اور نہ ہی ریاستی سطح پر ایسی کمزوری کا مظاہرہ کیا جائے کہ کوئی ملک اپنے مقاصد کے لیے ہمیں بلیک میل کر سکے۔ شدت پسندی کو شکست دینے اور امن بحال کرنے کی ملک و قوم نے بڑی بھاری قیمت چکائی ہے، اب اسے کسی اپنے یا پرائے کے مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی گنجائش نہیں ، شام، عراق، لیبیا، صومالیہ ، سوڈان اور افغانستان کا حال ہمارے سامنے ہے، رہا ایران تو اُس کے اپنے ملکی مفادات ہیں ، وہ اگر عراق، شام، یمن، فلسطین اور لبنان کو اپنے حلقہ اثر میں رکھنا چاہتاہے تو یہ اُس کی اپنی ہمت پر منحصر ہے اور اگر سعودی عرب اُس کی پیش قدمی روکنے کے لیے امریکا کی فوجی طاقت کا سہارا لیتا ہے تو یہ عالمی سیاست کا کھیل ہے، ہمیں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہمارے لیے پاک سر زمین ہی سب کچھ ہے، ہمیں پرائی آگ سے اپنا دامن ہر قیمت پر محفوظ رکھنا ہے اور غیر جانبدار رہنا بہترین حکمت عملی ہے۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved