تازہ تر ین

حقائق اوربیانیے

چوہدری ریاض مسعود
وزیراعظم عمران خان نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے سو فیصد سچ کہا ہے کہ امن و استحکام کے بغیر معیشت کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتی ، انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ماضی میں حکمرانوں نے معیشت کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیاتھا، ہم نے جب معیشت کی ترقی کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے اور اصلاحات کیں تو میڈیا نے اس پر شدید تنقید شروع کردی، یہ سچ ہے کہ موجودہ حکومت نے نہ جانے کیوں میڈیا کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے، اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہماری شرح نمو اس خطے کے ممالک سے کہیں کم ہے اور ہماری مجموعی قومی پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی ہے ، زرعی شعبہ اور کاشتکار بے پناہ مسائل کا شکار ہیں، صنعتی شعبے کا پہیہ بھی آہستہ آہستہ گھوم رہاہے، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری توقعات سے کہیں کم ہے، منافع کی شرح کم اور افراط زر اور سود کی شرح زیادہ ہے، ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے صنعتکاروں کی پیدواری لاگت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، رہی سہی کسر بجلی، پٹرول ،ڈیزل اور گیس کی آئے دن بڑھتی ہوئی قیمتوں نے نکال دی ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں زبردست بحران کا شکار ہیں ، حکومت سٹیل ملز سمیت دیگر بیمار صنعتوں کی بحالی کی بجائے انکی نجکاری میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے، صنعتی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے برآمدات کم اور درآمدات بڑھ رہی ہیں جسکی وجہ سے توازن تجارت بگڑ چکا ہے، اگر حقائق پر مبنی ان امور کو میڈیا سامنے لاتا ہے تو اس پر حکومت کیوں معترض ہے، یہ سچ ہے کہ اس وقت ملک میں بیروزگاری ہے مہنگائی ہے ، سمگلنگ ،کرپشن لاقانونیت ،سیاسی افراتفری، سیاسی رسہ کشی کے ساتھ ساتھ عوام کے دیگر مسائل اور مشکلات بڑھ رہی ہیں۔
یہ سچ ہے کہ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کا سیلاب آیا ہے، یہ بھی سچ ہے کہ گندم اور چینی کا بحران بھی موجودہ حکومت کے کھاتے میں ہی جائیگا، اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ہی ایک ہمسایہ ملک کو 40ہزار ٹن گندم دی گئی اور ذرائع کہتے ہیں کہ ہر ماہ تقریباً 40ہزار ٹن گندم سمگل ہوکر افغانستان چلی جاتی ہے، اگر ملک میں گندم کی کمی ہونے کا خدشہ تھا تو پھر گندم کی سمگلنگ کو کیوں نہیں روکا گیا، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے اپنے کاشتکاروں سے سستی گندم خریدلی گئی تھی اور اب 3لاکھ ٹن گندم اس سے کہیں زیادہ قیمت پر خرید کر قومی خزانے پر اندازاً ۹ سے ۱۰ ارب روپے کا اضافی بوجھ کس کھاتے میں ڈالا جارہاہے، آخر اسکی ذمہ داری کسی پر تو عائد ہوتی ہے، یہ سچ ہے کہ آپ کے چند وزراءبھی گندم کے بحران پر حقیقت پسندانہ مگر حکومتی ترجمانوں سے مختلف آراءرکھتے ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے بیج، کھاد، زرعی ادویات ، زرعی مشینری ، ڈیزل اور بجلی کی آئے دن بڑھتی ہوئی قیمتوں اور زرعی پیداوار کی فروخت میں بے پناہ مسائل اور مشکلات کی وجہ سے زراعت اب 100فیصدگھاٹے کا سودا ہے، یہ سچ ہے کہ زرعی معیشت کی بدحالی کا اثر ملکی معیشت پر لازمی پڑیگا، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے صنعتکار اور تاجر طبقہ بیشمار مسائل کا شکار ہے،اچھا ہوا کہ وزیراعظم پاکستان نے خود اس بات کا نوٹس لیا او ر مختلف اقسام کے 74لائسنس ختم کرنے کیلئے عملی قدم اٹھاتے ہوئے 30دن کا ٹائم فریم دیا، جسکی کاروباری برادری نے بیحد تعریف کی ہے ،یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ بجلی کے بلوں میں استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے زیادہ مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں جسکی وجہ سے عوام بے حد پریشان ہیں، ان غیر ضروری ٹیکسوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی شرح نمو اس خطے میں سب سے زیادہ اور پاکستان کی شرح نمو3.1کے دوگنا سے بھی زیادہ ہے، اس رپورٹ کے مطابق آئندہ سال پاکستان کی شرح نمو 3.1سے بھی کہیں کم ہوگی ، سیاست سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں شرح نمو 6فیصد سے بھی زیادہ تھی، یعنی موجودہ شرح 3.1فیصد سے دوگنی ، جب ہم سچ کو سچ کہنا شروع کردینگے اور حقیقت کو تسلیم کرلیںگے۔ ڈیووس میں وزیراعظم نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ سابقہ حکومتوں کی کرپشن کی وجہ سے انکی فوج کیساتھ کشیدگی ہوئی، یہ سچ ہے کہ عالمی فورم پر اپنے ہی ملک کا کچا چٹھا کھولنے سے ملک کی ساکھ خراب ہوتی ہے ، اس سے اجتناب کرنا ملکی مفاد میں ہے، یہ سچ ہے کہ افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی ہم سے توقعات ”ڈومور“ سے بھی بڑھ کر ہیں، لہٰذا اس حوالے سے ہمیں مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے ، وزیراعظم نے ایران کو بتا دیا ہے کہ جنگ ہمارے لئے مہلک ہوگی اور بھارت سے فوری جنگ کا کوئی خطرہ نہیں ہے، موجودہ حکومت اکثر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کی کوششیں کررہے ہیں اور ادھر ملک کے اندر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہر سطح پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جس میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، سیانے سچ ہی کہتے ہیں کہ ”دوجیاں دی چھڈ پہلے اپنی نبیڑ“ ، یہ سچ ہے کہ اگر ملک کے اندر حکومت او راپوزیشن اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے جمہوری اصولوں کے مطابق کام کرینگے، ملکی معیشت مضبوط ہوگی، خارجہ پالیسی آزادانہ اور حقیقت پسندانہ ہوگی تو ہماری مصالحتی کوششیں بھی ضرور کامیاب ہونگی، ہم مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر لانے اور مضبوط کرنے میں اہم کردار اداکرنے کی پوزیشن میں ہونگے وگرنہ زبانی جمع خرچ سے کچھ حاصل نہ ہوگا، یہ سچ ہے کہ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پر 3برادر اسلامی ممالک ملائشیا، ترکی اور ایران نے ہماری بھرپور حمایت کی ہم نے اپنے مفادات کی خاطر ملائشیا کی اسلامی کانفرنس میں نہ جاکر اپنی جانبداری ثابت کردی، اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ہمیں مسلم امہ میں اتحاد و اتفاق اور باہمی ترقی کیلئے اپنا بھرپور کردار اداکرنا چاہیے۔
اپنی آواز اور کردار کو مضبوط اور موثر بنانے کیلئے ہمیں پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا ، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اور سیاسی رسہ کشی کو ختم کرنا ہوگا ، عوامی مسائل کو حل کرنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر غیر ملکی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرکے ملکی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا، اگر ہم نے یہ مقاصد حاصل کرلئے تو یقینا دنیا اور خاص کر اسلامی دنیا ہماری بات کو ضرور سنے گی اور ہم مسلم امہ میں اتحاد و اتفاق قائم کرنے میں یقینا کامیاب ہونگے، ہمیں وعدوں دعوو¿ں اور نعروں سے آگے نکل کر ملک میں جمہوریت او ر معیشت کو مضبوط بنانا ہے اس قومی مقصد کے حصول کیلئے اپوزیشن کو دیوار کیساتھ لگانے کی بجائے انہیں ہر معاملہ میں ساتھ لیکر چلنا ہے، یہ سچ ہے کہ اس وقت حکومت کی چند اہم اتحادی جماعتیں حکومت سے ناراض ناراض سی ہیں، صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے اندر خود پریشر گروپ یعنی ناراض گروپ وجود میں آچکے ہیں، یہ سچ ہے کہ اس معاملے میں حکومتی ترجمان آئے دن نئی نئی تاویلیں دیتے رہتے ہیں، لیکن معاملہ یقینا گڑبڑ ہے، حکومتی مذاکراتی ٹیمیں اپنے تمام اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کیلئے ان کے پاس خود چل کر جارہی ہیں، لیکن ابھی تک معاملات جوں کے توں ہی ہیں، ادھر مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر اسلام آباد پر چڑھائی کا عندیہ دے رہے ہیں، یہ سچ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اور صدر میاں شہباز شریف کے اس اہم موڑ پر بیرون ملک ہونا پارٹی کی ساکھ کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہاہے، ہر فیصلے کیلئے پارٹی رہنماو¿ں کو لندن سے کال کا انتظار کرنا پڑتا ہے ، یہ سچ ہے کہ اپوزیشن کی دو اہم سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات کا شکار بھی ہیں ، ادھر حکومت بھی اپوزیشن پر بھرپور چڑھائی کیے ہوئے ہے ، ان پر بڑے بڑے لیڈر پہلے ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور بقول شیخ رشید احمد اور فردوس عاشق اعوان مزید کئی لیڈر بھی احتساب کی زد میں آنے والے ہیں، یہ بھی حیران کن سچ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے مفادات اور خواہشات کے مطابق نیب کے قوانین میں تبدیلی چاہتے ہیں، سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ 3ماہ کے اندر اندر نیب کا نیا قانون لایا جائے وگرنہ عدالت قانون اور میرٹ کے مطابق فیصلہ کریگی، چیف جسٹس صاحب نے صحیح فرمایا ہے کہ نیب کے ریفرنس کا فیصلہ 30دن میں آنا چاہیے نہ کہ اسے طویل عرسے تک لٹکایا جائے، یہ سچ ہے کہ پاکستانی عوام کرپشن کےخلاف ہے اور کرپشن کرنیوالوں کا بلا امتیاز سخت احتساب چاہتی ہے، عوام کی رائے میں احتساب اور انصاف ہوتا ہوا نظر آناچاہیے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی ترقی و خوشحالی اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے مشترکہ طور پر کوشش کریں۔
ہمیں عالمی چیلنجز اور دھمکیوں کا سامناہے، ایف اے ٹی ایف کی تلوار ابھی ہمارے سر پر لٹک رہی ہے، اس معاملے میں بھی بھارت اپنی روائتی پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کررہاہے، دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پاکستانی فوج کے فوری ایکشن اور حکومت کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، یہ سچ ہے کہ پاکستانی فوج کی پیشہ وارانہ مہارت ہمارے ایٹمی پروگرام اور کامیاب میزائل ٹیکنالوجی کی وجہ سے جہاں ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہوا ہے وہاں عالمی سطح پر ملک کا وقار بھی بلند ہوا ہے ، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی معیشت کو مضبوط کریں ،اندرونی سیاسی حالات کو بہتر بناتے ہوئے اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کریں، وزیراعظم کا حالیہ بیان کہ ” میری حکومت شفاف ترین ہے لوگ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی ٹاک شو دیکھیں ، سب ٹھیک ہوجائیگا، “ واقعی حیران کن اور دلچسپ بھی ہے ، ادھر کرپشن کا خاتمہ کرنیکا دعویٰ کرنیوالی حکومت کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کرپشن انڈیکس ایک درجے بڑھا ہے جبکہ عالمی ریکنگ میں ہم مزید نچلے درجے پر چلے گئے ہیں، یہ سچ ہے کہ ہر حکومت عالمی ادروں کی صرف انہیں رپورٹس اور سرے کو حقیقت پر مبنی قرار دیتی ہے جو انکے حق میں جارہی ہو، خلاف رپورٹ اور سروے انکے وارے میں ہی نہیں ہے ، یاد رہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانے کیلئے جہاں قوم کے درمیان اتفاق و اتحاد پیدا کرنیکی ضرورت ہے وہاں سیاسی رسہ کشی کا خاتمہ اور سیاسی ہم آہنگی کی اہمیت بھی مسلمہ ہے، اس مقصد کے حصول کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو اپنے سیاسی اختلافات اور سیاسی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے باہمی مشاورت اور باہمی اتحاد سے سرگرم عمل ہونا پڑیگا۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved