تازہ تر ین

آٹا بحران۔گورننس کی ناکامی

وزیر احمد جوگیزئی
دنیا ایک ترتیب سے چلنے کی عادی ہے اور اسی طرح چلتی آرہی ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے موجودہ دنیا ایک عجیب سے مخمصے کا شکار ہو چکی ہے ۔دنیا کی موجودہ قیادت پر نظر دوڑائیں تو امریکہ میں ہمیں صدر ٹرمپ ،انگلستان میں بورس جانسن ،ہندوستان میں نریندر مودی اور کئی ممالک میں اسی طرح کی قیادت دیکھنے کو ملتی ہے جو کہ غیر روایتی اور ایک مخصوص نظریہ کے حامل ہیں ۔کئی اور بھی ایسے ہی نمونے موجود ہیں لیکن سب کے نام نہیں لینا چاہتا اس سے گریز ہی کرنا چاہیے ۔مسلم دنیا میں شاید ملا ئیشیا اورکسی حد تک ترکی کے علا وہ اور کوئی ایسا مسلمان ملک نہیں ہے جس کے عوام کسی حد تک جمہوریت سے آشنا ہوں ۔لیکن ہمارے ہاں بھی جمہو ریت کسی حد تک تو موجود ہے لیکن اس پر مکمل طور پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آرہا ۔
ہمارے معاشرے میں بھی ایسے بہت سارے لکھنے والے اور بولنے والے ،شاعر ،دانشور ،سائنس دان گزرے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے طریقوں سے ہمیں سمجھانے کی کو شش کی اور ہر طرح سے سمجھانے کی کو شش کی اور ہمارے لیے جمہوریت کی راہ متعین کرنے کی کو شش کی اور ہمیں سمجھایا کہ عوام کی فلاح و بہبود جمہوریت میں ہی ہے ۔عوام کی دیکھ بھال اور فلاح و بہبود ،عوام کی خواراک اور ان کی فنی تربیت اور اس دنیا میں موجود 150سے زائد پیشوں میں ان کو کام کرنے کے قابل بنانا ۔ریاست کی ذمہ داری ہے جس میں ہم بری طرح سے ناکام ہو تے دکھائی دے رہے ہیں ۔یہ ریاست ،حکومت اور حکمران جماعت کا فرض ہو ا کرتا ہے کہ وہ عوام کو ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے ۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہمارے ملک میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے لیکن اس کے با وجود اگر عوام گند م اور آٹا مل ہی نہیں رہا اور اگر مل رہا ہے تو قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،اور کئی شہروں میں لوگ لائنیں لگا کر کھڑے ہیں ،اب ان حالات کو کیا کہا جائے اور کیا سمجھا جائے ؟ یہ ہمارے ملک میں گورننس کی ناکامی کی نشانی ہے جو کہ اس بد ترین بحران کے نتیجے میں ہما رے سامنے آئی ہے ۔کیا یہ ایسی حالت حکومت کی کا میابی ہے ؟ کیا اس حکومتی کا رکر کردگی کو تسلی بخش سمجھا جا سکتا ہے ؟ اس کا فیصلہ تو بہر حال عوام نے ہی کرنا ہے ۔
پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں گند م کی پیدا وار وافر مقدار میں ہو تی ہے ۔لیکن ہمارے پاس ان گندم کے ذخا ئر کو مناسب انداز میں ذخیرہ کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے ۔ہمیں چاہیے کہ اس سلسلے میں اور کچھ نہیں تو حضرت یوسف کی مثال سے ہی کچھ سیکھ لیں ۔ہماری گندم پڑے پڑے سٹر جاتی ہے ۔اس گندم کو چوہے کھا جاتے ہیں ،اور یہ سب کچھ مناسب سٹوریج کی سہولیات نہ ہو نے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔اگر ہم گندم سمیت دیگر اجناس کو مناسب انداز میں ذخیرہ کرنے کا بندوبست ہی کرلیں تو نہ صرف ہمارے عوام کا بہت بھلا ہو سکتا ہے بلکہ حکومت اس گندم کو باہر بیچ کر زر مبادلہ بھی کما سکتی ہے اور اپنا خزانہ بھر سکتی ہے ۔ہمارے حکمرانوں کو اجناس کی حفاظت ایک قومی فریضہ سمجھ کر کرنی چاہیے ۔پاکستان کے ہر ضلع میں کم از کم 3ماہ کی خوراک کی ضروریات کے مطابق اجناس ہر وقت محفوظ رہنی چاہیے ۔اس کام کو سر انجام دینے کے لیے پاسکو کا ایک ادارہ موجود ہے جو کہ کسی حد تک یہ کام کرتا ضرور ہے لیکن یہ بالکل بھی کا فی نہیں ہے اس سلسلے میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے ۔اور اس سلسلے میں میری تجویز ہے کہ پا سکو کے ادارے کو صرف اور صرف گندم کے معاملا ت تک محدود کر دینا چاہیے اور اس ادارے کو وہیٹ بورڈ کا نام دے دینا چاہیے اور اس ادارے کا کام یہ ہونا چاہیے کہ صرف پورے ملک سے گندم کی خرید اری کرے اور جہاں جہاں ملک میں گندم پیدا ہوتی ہے وہاں پر سائنسی بنیادوں پر سائیلوز ( cilos) کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں پر نہ گندم خراب ہو گی ،اور نہ اس کو چوہے کھا ئیں گے ۔اس سے مڈل مین کا کردار بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی اور با ردانہ بھی درمیان میں سے غا ئب ہو جائے گا اور ان سا ئیلوز سے براہ راست گندم کاشت کار کو ملے گی اور اس سے کاشت کار کی مالی حیثیت بھی بہتر ہو گی ۔اس وقت گندم کی خرید اری کی وجہ سے ایک ہنگامہ ہو تا ہے ،منصوبہ بندی کی جاتی ہے ،لمبے چوڑے مراحل ہو تے ہیں اور با ردانہ کے معا ملات میں کر پشن بھی ہوتی ہے ۔اس سارے معاملے کو سر انجام دینے کے لیے ایک اچھی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے ۔جتنی گند م پیدا کی جاتی اگر اتنی ہی مارکیٹ میں آجائے تو نہ صرف اس سے کسانوں کو بہت فائدہ ہو گا بلکہ عام صارفین کو بھی گندم مناسب دام میں ملے گی اور گندم کی قیمتوں میں استحکام بھی آ جائے گا ۔
ہمارے لیے یہ نہایت ہی شرم کی بات ہے کہ ایک زرعی ملک ہو نے کے بعد بھی ہم کپاس بھی درآمد کر رہے ہیں اور گندم بھی اس صورتحال پر ہمارے حکومتی حکام کے سر شرم سے جھک جانے چاہئیں۔اس صورتحال کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔جہاں پر ہمارے ملک کی زرعی پالیسی میں بے تحاشہ نقائص ہیں وہیں پر ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو بھی بہت توجہ کی ضرورت ہے ۔خارجہ محاذ پر ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔اور اگر ہماری خا رجہ پالیسی اگر ایک ملک کسی سپر پاور کے کہنے پر ہی چلے گی تو ہمارا بطور ملک کردار صرف ایک پراکسی کا ہی رہ جائے گا ۔ہمارے اکابرین کو یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کسی ملک کی پراکسی نہ بن جائے ۔دور کے ممالک کے ساتھ تعلقات یقینا رکھنے چاہئیں اور ان سے مدد بھی لینی چاہیے لیکن اس حوالے سے ترجیح ہمسایہ ممالک ہونے چاہئیں ۔ہندوستان کے ساتھ یقینا ہمارے کشمیر کے حوالے سے پیچیدہ معاملات موجود ہیں لیکن اس مسئلہ کی وجہ سے ہم اگر تجارت سمیت تمام چیزیں بند کر دیں گے تو دونوں ممالک کے عوام کا نقصان ہو گا بات چیت کی راہیں کھلیں رکھنی چاہیے ،تعلقات کا دروازہ کبھی بھی بند نہیں کیا جانا چاہیے ۔کشمیر کے معاملے پر ہم بہت قربیانیاں دے چکے ہیں جنگیں بھی لڑی گئی ہیں لیکن ہم کشمیر حاصل نہیں کر سکے ۔کشمیر جنگیں لڑنے یا مزید قربانیاں دینے سے آزاد نہیں ہو گا بلکہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے اور مشترکہ مفادات کے فروغ آزاد ہو سکتا ہے ۔افغانستان کو بھی یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں امن کے علاوہ کو ئی مفاد نہیں ہے ۔اور ہم دل و جان سے افغانستان کو موجودہ مشکل حالات سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت بہتر تھے لیکن انقلاب کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ۔ہمیں اس سے کو ئی غرض نہیں ہو نا چاہیے کہ وہاں کس کی حکومت ہے اور کس قسم کی حکومت ہے ہمیں ایران کی منڈی کو دیکھنا چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔اگر ہم حقیقی معنوں میں اپنے پڑوسی ممالک سے ہی اپنے معاملات کو ٹھیک کرلیں تو یقینا باقی دنیا بھی ہمیں ایک ذمہ دار ملک کے طور پر دیکھے گی اور پاکستان کا عالمی امیج بہتر ہو گا ۔یہ پاکستان کی خا رجہ پا لیسی کا اہم نقطہ ہو نا چاہیے ۔اور اگر اس اصول کو پاکستان کی خا رجہ پا لیسی کا ستون بنا لیا گیا تو کوئی وجہ نہیں ہے دنیا کے ملک پاکستان کی عزت نہ کریں ،ہمارا ایک بین الاقوامی طور پر اچھا پر وقار اور پر امن امیج ہو گا اور اس امیج کی پاکستانی قوم کو شدید ضرورت ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved