تازہ تر ین

جاسوس بن گئے ہیں اپنے ہی رازداں

علی سخن ور
زمانہ بدل گیا، محبتوں اور نفرتوں کے انداز تبدیل ہوگئے، رشتے ناتوں نے ایک بالکل ہی نیا انداز اختیار کر لیا لیکن کچھ چیزیں آج بھی صدیوں پہلے جیسی ہی ہیں،انمٹ اور لازوال، ان ہی چیزوں میں وہ کبوتر بھی شامل ہے جو ماضی میں پیغام رسانی کےلئے استعمال ہوا کرتا تھا۔یہ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں، دو چار برس پہلے کی بات ہے، لائن آف کنٹرول کے اس پار، چند بھارتی فوجیوں نے ہوا میں بلا مقصد ، بلا اجازت محو پرواز ایک معصوم کبوتر کو عقاب کی طرح جھپٹ کر اپنے شکنجے میں جکڑ لیا اور ساتھ ہی اپنے میڈیا کو تفصیلات کے بغیر یہ خبر دے دی کہ بھارتی فوجیوں نے پاکستانی آئی ایس آئی کے ایک جاسوس کو پکڑ لیا۔سرکاری خبر تھی، میڈیا کی مجبوری، ہر طرف شور مچ گیا کہ پاکستانی جاسوس پکڑلیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی زمانہ ہے جب پاکستان نے ایک حاضر سروس انڈین نیوی آفیسر کلبھوشن یادیو کو رنگے ہاتھوں پاکستانی سرزمین سے گرفتار کیا تھا۔اس گرفتاری پر بھارتی جنتامیں بہر حال ایک چھپا دبا سا اضطراب بھی تھا۔ ایک جاسوس کی گرفتاری کی خبر وقتی طور پر عوامی بے چینی کو شانت کرنے کا باعث ضرور بنی۔عام لوگ یہ سمجھے کہ جسے پکڑا گیا ہے، وہ کوئی کمانڈو قسم کا کڑیل گبرو جوان ہوگا لیکن انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں بتایا گیا کہ وہ جاسوس انسان نہیں بلکہ ایک کبوتر تھا اور پاکستان کی آئی ایس آئی کےلئے پیغام رسانی جیسا مشکل فریضہ سر انجام دے رہا تھا۔یہ خبر سننے کے بعد ہمارے بہت سے بھارتی اپنا سر پکڑ کر رہ گئے۔اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل آئی ایس آئی کے بارے میں اس طرح کی پراپیگنڈہ تحریک کو بھارت کے باشعور طبقات میں نا اہلی اور ناکارگی سے تشبیہ دی گئی۔ تاہم یہ بھونڈا پراپیگنڈہ کرنے والوں کےلئے باشعور لوگوں کی رائے کی رتی برابر بھی اہمیت نہیں تھی۔ اس سے پہلے بھی بارہا اس طرح کی بچگانہ حرکتیں بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی immaturityکو نمایاں کرتی رہی ہیں۔
ابھی حال ہی میں شاید ایک ہفتہ قبل انڈیا ٹوڈے نے ایک اور جاسوس کی گرفتاری کی خبر دی ہے۔ بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مطابق، اس سال 19جنوری کو یو پی کے علاقے بنارس سے ایک 23سالہ مسلمان نوجوان محمد راشد کو کئی مہینوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد گرفتار کرلیا۔بھارتی میڈیا پر تفصیلات میں بتایا گیا کہ’ راشد 2017میں پہلی بار کسی عزیز کی شادی میں شرکت کےلئے کراچی گیا جہاں اورنگی ٹاﺅن کے علاقے میں اس کی خالہ حسینہ بیگم کی رہائش تھی۔حسینہ بیگم کے گھرانے میں ان کے شوہر صغیر احمد اور بیٹا شاہ زیب بھی شامل تھے۔ شادی کی اس تقریب میں محمد راشد کی ملاقات اپنی ایک کزن سے ہوئی جس کی محبت میں وہ ایسا گرفتار ہوا کہ 2018میں وہ دوبارہ پاکستان آنے پر مجبور ہوگیا۔دوسری بار پاکستان آمد پر شاہ زیب نے محمد راشد کو آئی ایس آئی کے دو مبینہ ایجنٹوں سے ملوایا اور راشد کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ وہ بھارت میں مختلف فوجی تنصیبات کی تصاویر اور فوجی دستوں کی موومنٹ اور آئندہ منصوبہ بندی کے بارے میں آئی ایس آئی کے مبینہ ایجنٹوں کو مطلع کرتا رہے گا۔راشد سے یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ اگر وہ آئی ایس آئی سے تعاون کرتا رہا تو اس کی اپنی کزن سے شادی کےلئے حالات کو سازگار بنانے کی کوشش کی جائے گی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بھارت واپس آکر راشد نے ان ایجنٹوں کو ایک مقامی موبائل نمبر بھی فراہم کیا جس پر آئی ایس آئی کے مبینہ ایجنٹوں نے واٹس ایپ کی سہولت بھی حاصل کر لی۔ بالآخر جنوری 2020 میں راشد کو بھارتی انٹیلی جنس اداروں نے گرفتار کر لیا‘۔اس خبر کو پڑھنے والوں کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ آخر محمد راشد بنارس میں ایسی کون سی پوزیشن پر تھا کہ وہ آئی ایس آئی کو بھارتی فوجی دستوں کی موومنٹ اور آئندہ منصوبہ بندی کے بارے میں باخبر رکھ سکے۔اسی سوال کے جواب میں اس ساری کہانی میں چھپا جھوٹ سامنے آجاتا ہے۔ راشد آٹھ جماعت پاس ایک نوجوان ہے، سکول کے زمانے ہی میں وہ محلے میں ایک درزی کی دکان پر کام سیکھنے کی غرض سے ملازم ہوگیا، پھر ایک میڈیکل سٹور پر سیلزبوائے کے طور پر کام کرتا رہا اور جب شادی میں شرکت کےلئے کراچی کو روانہ ہوا تو اس وقت وہ کھمبوں پر پینا فلیکس بورڈ لٹکانے کا کام کرتا تھا۔اس قسم کے تعلیمی، معاشرتی اور اقتصادی حالات کا حامل کوئی نوجوان فوجی دستوں کی موومنٹ اور آئندہ حکمت عملی کے بارے میں خبر گیری کیسے کرسکتا ہے؟ یہ بات تو وہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ہی بتا سکتے ہیں جنہوں نے محمد راشد کو گرفتار کیا۔ اگر انتہائی حساس نوعیت کی فوجی معلومات اس قسم کے معمولی ان پڑھ اور بے حیثیت سے نوجوان کی رسائی میں آجاتی ہیں تو پھر بھارتی فوج کو اپنے سیکیورٹی معاملات پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔لیکن جس ملک میں بے زبان کبوتروں کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دینے کا رجحان ہو اس ملک میں کسی پر بھی کوئی بھی الزام لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ کل کو جب مودی صاحب اقتدار میں نہ ہوں تو ان کے بارے میں بھی یہ واویلا کر دیا جائے کہ وہ آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔
دراصل سارا معاملہ کلبھوشن یادیو کی رنگے ہاتھوں گرفتاری سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت کلبھوشن کی صورت میں لگنے والے دھبے کو پاکستان پر الزام لگا کر دھونے کا خواہشمند ہے ، ہر تھوڑے عرصے بعد پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے کےلئے، ایک نئی کہانی آن ائر کردی جاتی ہے لیکن ابھی تک بات بن نہیں پائی۔دفاعی معاملات کی دنیا میں ایسے بھونڈے منصوبوں کو False Flag Operationsکے نام سے جانا جاتا ہے۔ ممبئی دھماکے ہوں یا پھر پٹھان کوٹ کا واقعہ ، پاکستان کے خلاف بھارت کی جانب سے ایسے بے شمار بے بنیاد اور احمقانہ False Flag Operations کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔ اس طرح کے واقعات میں اس وقت اور بھی شدت آجاتی ہے جب پاکستان FATFکی گرے لسٹ سے نکلنے جیسے کسی معاملے کے حتمی مراحل میں ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی خواہش میں اگر بھارتی سیکیورٹی اداروں کو اپنے ہی لوگوں کو بھی بدنام کرنا پڑ جائے تو گریز نہیں کرتے۔ ابھی 13جنوری کو انڈیا ٹوڈے نے جموں کشمیر پولیس کے ایک ڈی ا یس پی داویندر سنگھ کے بارے میں خبر دی ہے کہ انہیں مقبوضہ جموں کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے ’ ’دہشت گردوں“ سے تعاون اور رابطوں کی بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا۔بھارتی انٹیلی جنس ادارے ہمیشہ ہی سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے ہر شخص کا رشتہ آئی ایس آئی سے جوڑتے چلے آئے ہیں۔ یقینا گرفتار ڈی ایس پی داویندر سنگھ کو بھی جلد ہی محمد راشد کی طرح آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دے دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ابھی کچھ عرصہ قبل مذکورہ ڈی ایس پی کو ان کی بہادری، جواں مردی اور ملک سے وفاداری کے صلے میں نیشنل پولیس میڈل سے بھی نوازا گیا تھا اور وہ حکومتی اعلان کے مطابق بطور ایس پی اپنی محکمانہ ترقی کے منتظر تھے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved