تازہ تر ین

بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں ؟

سید عارف نوناری
بحران کیوں پیدا ہوتے ہیں اور انہیں کنٹرول میں لانے کےلئے کیا اقدامات کرنا پڑتے ہیں؟ بحرانوں کی کئی قسمیں ہیںجس میں سیاسی بحران ، معاشی و اقتصادی بحران، سماجی بحران اور اخلاقی بحران شامل ہیں۔ سیاسی بحران سیاسی اداروں کی کمزوریوں اور سیاسی جماعتوں کے منشور میں عدم توازن کے سبب آتا ہے۔ سیاسی بحران پاکستان ہی میں نہیں بلکہ تمام ممالک میں آتے ہیں۔ جن کو کنٹرول کرنے کےلئے سیاسی طاقتیں اور سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کر کے ملکوں کے حالات کو بہتر اور رواں دواں رکھ لیتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ ریاست اور حکومتوں کو شدید سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ سیاسی بحران ممالک کی سالمیت کےلئے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ پاکستان جب سے آزاد ہوا ہے سیاسی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ عدلیہ نے سیاسی بحرانوں اور سیاسی حکومتوں کو صحیح سمت کی طرف موڑنے کےلئے ہمیشہ کردار ادا کیا ہے۔ کسی بھی ملک کی عدلیہ اگر انصاف کے تقاضے اور ترازو انصاف میں متوازن رکھے تو ملک کو تمام بحرانوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ سیاسی بحرانوں میں معاشرہ کے افراد کا کردار بھی شامل ہوتا ہے لیکن جس ریاست میں انصاف اور عدلیہ کا بول بولا ہو اور حاکمیت کے ساتھ ساتھ عدلیہ بلا امتیاز فیصلے کرے تو اس ملک کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور اس کی ترقی میں تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔ سیاسی بحرانوں سے ریاستی نظام کمزور ہوتا ہے اور دیگر ریاست کے ادارے بھی کمزور ہو جاتے ہیں ۔ سیاسی بحرانوں پر قابو پانے کے بہت سے طریقے ہیں جن پر عمل کر کے دنیا کے کئی ممالک نے اپنے سیاسی نظام کو مضبوط اور مستحکم کیا ہے اور وہاں پارلیمانی سسٹم کے باوجود بحران بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں مخلص سیاستدانوں اور مخلص قیادت کی ہمیشہ کمی رہی ہے اور لانگ ٹرم منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب ملکی وسائل کا ضیاع بھی ہوا اور ملکی وسائل کو استعمال میں لانے کےلئے سسٹم بھی ہمیشہ کمزور رہا ہے۔
سیاسی بحران سے اقتصادی بحران کی طرف آتے ہیں۔ اقتصادی بحران سے ملک کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے اور افراط زر میں اضافہ سے اشیاءکی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں جس کے سبب ملک اور ریاست کے باشندوں کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ بنیادی ضرویات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے جب بنیادی ضروریات کا حصول مشکل ہو جائے تو پھر ملک اور اداروں کے فرائض کوتاہی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ملک معاشی بحران کا شکار ہو جاتا ہے ۔ معاشی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی بحران کسی بھی ملک کےلئے نقصان دہ ہوتے ہیں کہ اس سے ریاست اور اداروں کی تنزلی شروع ہو جاتی ہے۔ اقتصادی بحران سے کاروباری زندگی معطل ہو جاتا ہے ،۔ پاکستان میں اقتصادی بحران تو آنا ہی نہیں چاہئے جس قدر پاکستان کے پاس قدرتی اور دیگر وسائل موجود ہیں۔ پاکستان جو بنیادی طور پر زرعی ملک ہے وہاں آٹے کا بحران پیدا ہو جانا کتنی افسوس ناک صورت حال ہے۔ جس ملک کی چار بڑی فصلیں گندم ، چاول ، کپاس اور گنا ہوں وہاں ایسا بحران آ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ بندی نہیں ہے۔ اقتصادی اور معاشی بحران آنے سے پہلے اس کے تدارک کےلئے اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک اور خصوصی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں تدارک کا پورا سسٹم موجود ہوتا ہے جو کہ بروقت افعال سرانجام دے کر ملک کو معاشی بحران سے بچاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں کوئی تدارکی نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ 1947ءکے بعد سے پاکستان کے معاشی مسائل موجود ہیں اور زرعی ملک ہونے کے باوجود خوراک اور اشیاءخوردو نوش کا بحران ہمیشہ رہتا ہے۔ ابھی تک یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ہم سبزیاں پیدا کرتے ہیں ۔ گندم ، چاول ، کپاس ، گنا وافر مقدار میں پیدا کرتے ہیں تو پھر آٹے اور چینی کا بحران پیدا ہو جائے؟ ۔ ترقی یافتہ ممالک میں معاشی بحرانوں پر قابو پانے کے لئے بہتر منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان میں سیاسی نظام میں بہتر منصوبہ بندی صرف حکومتوں کو گرانے یا حکومتوں کو بنانے کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ ان سب بحرانوں سے خطرناک ترین بحران اخلاقی ہوتا ہے جس میں اخلاقی اقدار ختم ہو جاتی ہے اور معاشرہ کے افراد ، خاندانوں ، گروپس کی سوچ تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کے براہ راست اثرات معاشرتی اقدار پر پڑتے ہیں اور اس کے سبب معاشرتی نظام اور معاشرہ کی اچھی اقدار کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اخلاقی بحران اصل میں سیاسی بحران اور اقتصادی بحران کے سبب پیدا ہوتا ہے اور انسان کے سوچنے ، کام کرنے ،تعلیم حاصل کرنے اور دیگر افعال میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ برائیاں ، کرپشن و رشوت ، نظاموں میں شکست و ریخت ، جرائم ، معاشرے میں غلط اقدار یہ سب اخلاقی بحران کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ بحران یک دم رونما نہیں ہوتا بلکہ اس بحران کے آنے میں سیاسی و اقتصادی اور معاشی وجوہات کی شمولیت ہوتی ہے۔ پاکستان اب جہاں سیاسی و اقتصادی بحرانوں سے دو چار ہے وہاں سب سے خطرناک بحران جس کو ہم نے فوری درست کرنا ہے ۔ اخلاقی بحران ہے۔ ہمیں اپنی اسلامی اقدار و روایات کو بچانا ہے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved