تازہ تر ین

ہم اتنے بھی برے نہیں

انجینئر افتخار چودھری
ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کے غبارے سے ہوا نکل چکی ۔نون لیگ کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہ مٹھائیاں کھا کر ماتم کرتے ہیں۔ہمیں کسی ادارے کی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں، ہم حکومتی تجربات میں نئے سہی ہم سے بھول چوک ہو رہی ہے اور ہم کچھ کچھ کم فہم بھی ہیں مگر سچ پوچھئے ہم ان جیسے تجربات کے حامل بھی نہیں کہ جو کھا کر ڈکار مار جاتے تھے ۔ حکومت چلانے میں نیک نیتی کا بڑا عمل دخل ہے اور اللہ کی یہ دَین ہمارے پاس ہے۔ساتھیو‘ دس روز پہلے مجھ خاکسار کے گھر چند ڈاکو گھس آئے اور ڈیڑھ گھنٹے تک ہمیں باندھ کر کوئی پچیس تیس لاکھ کی ڈکیتی کر کے چلے گئے۔ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے مجھے پورا یقین ہے کہ بدلتے پاکستان کے نئے پنجاب میں اللہ میرا نقصان ضرور پورا کرے گا۔ اس لمحے تک مجھے راولپنڈی پولیس کے ذمہ داران سے امید ہے کہ وہ میرے بچوں کی حلال کمائی کو واپس ان کی جیب میں ڈال دیں گے۔میں برادر بابر اعوان، علی محمد خان، شہر یار آفریدی ،غلام سرور خان کا شکر گزار ہوںاور جناب وزیر اعظم عمران خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو مجھ جیسے عام کارکن کی مدد کر رہے ہیں۔میں نے ان سطور میں راولپنڈی پولیس کی کارکردگی کو سراہا ہے ایس ایچ او ریاض جو تھانہ ایئر پورٹ کے انچارج ہیں اس کیس کو دیکھ رہے ہیں یہ وہی ایس ایچ او ہیں جنہوں نے اس علاقے کے ایک مافیا پر ہاتھ ڈالا تھا ۔ان پشتونوں میں کمال کی خوبی ہے کہ وہ یاروں کے یار ہوتے ہیں۔ علی محمد خان فوراً پہنچے، شہر یار تو بیگم کے ساتھ گھر آئے ساتھ میں اعلی پولیس افسران لائے۔اللہ کرے کہ اس ملک کے عام آدمی تک یہ بھی انصاف پہنچے۔
چلئے اسے چھوڑ کر ہم چلتے ہیں تحریک انصاف کو پیش آنے والے چیلنجز کی جانب ۔آج برادر خادم علی مانڈلا اور ڈاکٹر مہر عابد بھائی اعوان کے ساتھ کھانے میں شریک تھا ۔ڈاکٹر مہر عابد ایک نوجوان دانشور ہیں انہوں نے مجھے ہلا کے رکھ دیا۔ کہنے لگے اپنے قائد سے کہئے کہ اگر حکومت انہی بیوروکریٹس اور پولیس افسران نے ہی چلانی ہے تو بند کریں اس جمہوری نظام کو ،بکسے میں ڈالیں اسمبلیاں اور مت تکلیف دیں سیاسی کارکنان کو۔ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کا کارکن کھجل ہوا، مظاہروں میں جان لڑائی اور اب ان کی کوئی سنتا ہی نہیں ۔آپ کے ایم این اے ایم پی ایز رو رہے ہیں اس لئے کہ نہ ان کی تھانے میں سنی جاتی ہے نہ کچہری میں اور نہ ہی انتظامیہ کے دفاتر میں۔ ڈی سی، اے سی، ایس پی ،ایس ایچ او ان کی کوئی سنتا ہی نہیں۔میں نے کہا ڈاکٹر صاحب اس طرح تو انارکی پھیلے گی، نعرہ تو انصاف کا ہے پولیس اور انتظامی عہدوں پر فائز لوگ کیسے کام کریں گے؟۔میں سمجھتا ہوں ہم ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں اقتدار میں آنے سے پہلے کھڑے تھے۔نہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں ایکشن میں نہ مارکیٹ کمیٹیاں نہ انکروچمنٹ اور نہ ہی امن کمیٹیاں فعال ہیں ۔سچ پوچھیں یہی بات ہم بھی کہہ رہے ہیں کہ کارکن کو ساتھ ملائیں ہم نے کب کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن کو تھانوں کے اوپر لگا دیں لیکن یہ بھی تو نہیں ہونا چاہئے کہ کہ پرانی پولیس پرانے اداروں پر مسلط نون لیگئے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیں ۔جو کام پی ٹی آئی کا کارکن نہ کرا سکے وہ نون لیگی کرا دے۔ ظاہر وہ مال پانی تو بنائیں گے ۔اس محفل میں بیٹھے دانشور دوستوں کا یہی کہنا تھا ۔میں نے وعدہ کیا کہ اس پر لکھوں گا اپنے قائد تک بات پہنچے گی عثمان بزدار کو بتاﺅں گا کہ اس مسئلے پر غور کریں۔ وزیر اعلی عثمان بزدار کے بارے میں آنے والی سطور میں ذکر کروں گا پنڈی کے چودھری نثار کا تذکرہ بھی ہو جائے ۔
گزشتہ دنوں طرح طرح کی باتیں سننے کو ملتی رہیں ۔ کبھی کہا گیا چودھری نثار علی خان وزیر اعلی پنجاب بن رہے ہیں ، تو کبھی چودھری پرویز الٰہی کو اس منصب کا اہل قرار دیا جاتا رہا۔ ایسی کیا آفت پڑ گئی ہے کہ عثمان بزدار کو منصب سے ہٹایا جائے ۔حالیہ آٹے کے بحران کو ایک ہی وار میں چاروں شانے چت کر دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ شعلے فلم کے جیلر کی طرح بڑھکیں نہیں لگاتے ۔پتہ نہیں کیوں ان کے خلاف پہلے دن سے یہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ عثمان بزدار نہیں چل سکتے ۔مجھے لگتا ہے وہ طبقہ جسے جنوبی پنجاب کی محرومی سے کوئی غرض نہیں اور وہ پنجاب لاہور، گجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور گجرات کو ہی سمجھتا ہے اسے سخت مروڑ اٹھ رہے ہیں کہ عثمان بزدار پنجاب کی سب سے بڑی سیٹ پر کیوں بیٹھ گیا ہے ۔گویا جنوبی پنجاب کو یہ حق ہی نہیں کہ وہ شہر لاہور کے بڑے گھر میں آن بیٹھے۔ چودھری نثار علی خان کینہ پرور اتنے کہ بابو غضنفر کے گاﺅں کے آدھے حصے کو گیس نہیں دی اس لئے کہ منکیالہ گاﺅں کے اس لیڈر نے خان غلام سرور کا ساتھ دیا تھا۔کوئی احمق ہی ہو گا جو سرور خان کو چھوڑ کے اس چودھری کے پیچھے جائے گا ۔ یہ شرلیاں کون چھوڑ رہا ہے۔ ویسے بھی منطقی طور پر یہ نا ممکن ہے، سرور خان اس علاقے کی اس وقت ایک طاقت ہے جس نے بازو کنج کے نثار علی خان کو ہرایا اور ایسی شکست دی کہ تاریخ میں لکھی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان اپنے دست و بازو سرور خان کو نظر انداز کر سکیں گے۔میرا ذاتی خیال ہے ایسا نا ممکن ہے۔ کیا پی ٹی آئی کاورکر جس نے دھرنے کے دنوں میں ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس ،ناجائز پرچے بھگتے ہوں وہ اس بات کو قبول کرے گا۔چک بیلی خان میں جاتا رہتا ہوں چودھری امیر افضل رائیکہ میرا کے ہاں ایک سفید ریش بزرگ جن کا نام گلاب خان ہے ان پر تین جعلی اور جھوٹے پرچے کاٹے گئے۔باقی رہی بات چودھریوں کی توزمانہ جانتا ہے کہ وہ جس مسند پر اس وقت بیٹھے ہیں وہ بھی’ بیٹ والے ‘کی مرہون منت ہے۔ فرزند پنڈی کا گھمنڈ بھی بنی گالہ ہی ہے ۔
عثمان بزدار بلوچستان اور پنجاب کے درمیان ایک مضبوط رشتہ بھی بن رہے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے بلوچستان میں بلوچی زبان میں تقریر کر کے بلوچوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ عثمان بزدار میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں بہا سکے لیکن خون کی ندیاں بھی تو نہیں بہائیں ۔نہ انہوںنے کوئی ماڈل ٹاﺅن دہرایا اور نہ ہی سبزہ زار۔کمال کا صابر و شاکر شخص ہے ،بولتا کم ہے، وہ کیا کہتے ہیں’ نرم دم گفتگو گرم دم جستجو‘ ۔عثمان بزدار کے ڈیڑھ سالہ دور اقتدار میں اسے بہت سی قوتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔بہت سوں کا خیال تھا کہ اقتدار لاہور ہی میں رہے۔میرے ایک چاہنے والے ہیں، ان کا خیال ہے کہ میاں اسلم کو وزارت اعلیٰ ملنی چاہئے ،ان کو یہ بھی شکوہ ہے کہ ارائیں کو وزیر اعلی کون بنائے گا۔اس تبصرے پر ماتم کیا جائے ۔اس کام پر ہمارے ایک مہربان لگے ہوئے ہیں جو اپنی برادری کے کسی بھی فرد کو حکومتی عہدے پر بٹھا کے خوش ہوتے ہیں اللہ انہیں خوش رکھے ۔ٹرانسپیرنسی انٹر نیشل کے معاملات، اس سے پہلے آٹا بحران، میں سمجھتا ہوں میڈیا کا ایک طبقہ حکومت پر دباﺅ جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی حد تک وہ طبقہ کامیاب بھی ہے ۔میں ایک نوجوان ایڈیٹر سے لاہور میں ملا ،ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک بیوروکریسی میں نون لیگ کے ایجنٹ بیٹھے ہوئے اپنے پرانے آقاﺅں کو خوش کر رہے ہیں اور اب وہ پی ٹی آئی میں بھی نفس ناطقہ بن گئے ہیں۔ابھی بھی انہی لوگوں کو نوازا جا رہا ہے جو پہلے بھی مستفید ہوتے رہے ہیں۔ہم حکومت پنجاب کے ترجمان ہیں ،ہمیں یہ بھی علم ہے کہ اپوزیشن میں جب ہم تھے تو کون سے اخبارات ہماری ڈھارس بندھاتے تھے ہمارے ساتھ تھے وہ اب بھی شاکی ہیں ۔ہم انشاءاللہ وزیر اطلاعات تک یہ بات پہنچائیں گے اور ان اخبارات کی انگلی ضرور پکڑیں گے جو سچ کے ساتھ کھڑے تھے اور ہیں۔اب نہیں تو کب؟ہم نہیں تو کون؟باقی قارئین ہم میں کمیاں کوتاہیاں ہیں لیکن اتنے بھی برے نہیں کہ ہمارا مقابلہ ایزی لوڈ والوں سے،ہار چوروں اور ماڈل ٹاﺅنیوںسے کیا جائے۔
(تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شمالی پنجاب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved