تازہ تر ین

سیاست، کرپشن، ملاوٹ اور برائلر مرغی!

آغا امیر حسین
پچھلے دنوں مجھے مختلف ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ہر ہسپتال، کلینک اور پرائیویٹ ڈاکٹروں کے پاس بیماروں کا جم غفیر ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موسم کے تغیر تبدل سے جو بیماریاں پیدا ہوا کرتی تھیں ان کے علاوہ ایسی ایسی بیماریوں میں لوگ مبتلا ہیں کہ نہ صرف ان کا علاج غریب درمیانے درجے کے لوگوں کے لیے کروانا مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ نتیجتاً یہ کہ اموات کی تعداد پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ یوں تو صوبائی اور مرکزی حکومتیں صحت کے نام پر بے تحاشہ خرچ کر رہی ہیں، تحقیقی ادارے ہیں، وزیر ہیں، سالانہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ ان کاموں پر صرف ہو رہا ہے لیکن جس شعبے کو بھی دیکھیں نتیجہ نہ صرف صفر ہے بلکہ اس کے برعکس وہ پیسہ حرپَھر ہو جاتا ہے جسے ہم عرفِ عام میں کرپشن کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ادویات اس قدر مہنگی ہیں کہ اب تو ان کا خریدنا اچھے بھلے متمول لوگوں کے لیے آسان نہیں رہا۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت بنی تھی تو بھٹو صاحب کی کابینہ میں شیخ رشید (بابائے سوشلزم) وزیر صحت بنے تھے۔ وزیر بننے کے بعد جب وہ لاہور تشریف لائے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ”ہاں بھائی کیسی لگی ہماری جنرک سکیم“ میںنے اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا تو کہنے لگے: ”نہیں نہیں صاف صاف بات کرو“۔ میں نے کہا پھر سنیئے کہ ”آپ نے قومی مفاد میں ایک بہت اچھی اور قابلِ عمل اسکیم جنرک کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے نافذ کر کے تباہ کر دیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے ایلوپیتھک ادویات بنانے والے ادارے اور ان کے مالکان کسی بھی ایسی سکیم کو نافذ نہیں ہونے دیں گے جس سے عوام کو فائدہ اور ادویات ساز اداروں کے مالکان کو نقصان ہو۔ یہ ایک مافیا کی شکل میں بہت زیادہ طاقتور ہوچکے ہیں کہ ہر سرکاری افسر اور سیاست دان ان کے اشاروں پر کام کرتا ہے۔ یہ کبھی بھی ”جنرک اسکیم“ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے“۔ شیخ صاحب ناراض ہوکر چلے گئے لیکن ہم نے دیکھا آنے والے چند ہی مہینوں میں جنرک سکیم کا جنازہ نکال دیا گیا۔ ایک معمولی گولی جس پر لاگت چند پیسے سے زیادہ نہیں آتی وہ اس زمانے میں 5/7 روپے میں ملتی تھی آج کل 10/15 روپے میں ملتی ہے، جان بچانے والی ادویات اور انجکشن کا یہ حال ہے کہ ان کی قیمتیں 10/20 ہزار معمولی بات ہے ۔
ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ 20/25 ہزار خرچ کرکے آپ نے جو انجکشن خریدا ہے وہ اصلی ہے یا نقلی؟ اب تو مارکیٹوں میں جوگوشت ملتا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ گوشت کتے کا ہے، بلی کا ہے یا گدھے کا ہے۔ آئے دن اخبارات میں اس حوالے سے خبریں چھپتی رہتی ہیں۔ پنجاب میں ”فوڈ اتھارٹی“ کام کرتی ہے وہ جہاں بھی چھاپا مارتی ہے دودھ ہو، دالیں، آٹا، مصالحے ہو ںیا پھر تیل اور گھی ہو، ہزاروں من برآمد کرکے تلف کر دیا جاتا ہے اور نمبر دو چیزیں بنانے والوں کو جرمانہ کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط طریقے سے اپنا کاروبار جاری رکھتے ہیں، سزا کا ایسا کوئی تصور نہیں ہے جس سے خوف پیدا ہو اور حکومت اپنی رٹ بحال کرسکے۔ ہر سرکاری افسر الاماشاءاللہ اپنا حصہ وصول کر رہا ہے۔ اس طرح وہ اس ملاوٹ کے کام میں حصہ دار بنا ہوا ہے۔ عوام کو برائلر مرغی کا گوشت کھانے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ آپ کے سامنے ذبح ہو کر دستیاب ہے لیکن آپ کو نہیں معلوم یہ دو اڑھائی کلو کی برائلر مرغی چھ ہفتوں میں ایک ہی جگہ کھڑے رہ کر پروان کیسے چڑھتی ہے۔ اگر اس کی فیڈ کا جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوگا کہ مردار جانوروں کی ہڈیوں، انتڑیوں اور گلے سڑے اجناس اور نہ جانے کیا کیا الا بلا سے ان کی فیڈ تیار کی جاتی ہے جن کو کھا کر چھ ہفتوں میں یہ بڑی ہو جاتی ہیں اور بازاروں میں فروخت کے لیے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ انسان یہ سمجھ کر کہ یہ خالص اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح کروا کر گوشت لے جا رہا ہے مگر میرے نزدیک تو یہ برائلر مرغیاں بیماریوں کا گڑھ ہیںاور اگر ان پر تھوڑی سی بھی تحقیق کر لی جائے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ سنگین بیماریوں کا اصل سبب یہ برائلر مرغیاں ہیں۔ پنجاب فود اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے ہماری درخواست ہے کہ وہ اس پر خصوصی طور پر تحقیق کرے کہ برائلر مرغی کا گوشت معاشرے میں کس قدر بیماریاں پھیلا رہا ہے؟ سبزیوں کا اگر ذکر کیا جائے جو مہنگائی کے سبب عنقا ہوتی جا رہی ہیں تو اکثر یہ رپورٹس سامنے آتی ہیں کہ سبزیوں کو گندے پانی اور کیمیکل زدہ پانی سے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ لیکن اس پر بھی کوئی خاص توجہ حکومت کی نہیں ہے۔ پچھلے دنوں مجھے سعودیہ جانے کا اتفاق ہوا ایئرپورٹ پر قائم ایک اسٹال سے میں نے کچھ ضرورت کی اشیاءخریدیں جو کہ روزمرہ استعمال کرتے ہیں، نام وہی تھے، پیکنگ وہی تھی لیکن اندر جو میٹریل استعمال کیا گیا تھا ویسا نہیں تھا جو ہمارے ملک میں ملتا ہے۔ یہ اعلیٰ درجے کا نمبر ایک میٹریل تھا جس کا احساس ہمیں اس کے استعمال سے ہوا۔ ہم نے پڑھا ہے کہ وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں جو کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کرتے ہیں یہاں ایک بڑی کمپنی کے دودھ پر کچھ لے دے ہوئی اور بچوں کی کئی جانیں گئیں تو اس کمپنی نے اعلیٰ حکام کے تعاون سے مسئلہ حل کروا لیا اور اب ان کے دودھ پر وائٹنر لکھا ہوتا ہے گویا یہ دودھ نہیں کچھ اور ہے جس سے چائے یا کافی سفید ہو جاتی ہے۔ اسے دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دودھ ہی ہے۔ یہی حال اب ہر قسم کے جوسز کا ہے اور ایسنز کا کاروبار کرنے والے لاہور میں اتنے بااثر ہیں کہ ان سے کوئی پوچھنے کی جرا¿ت نہیں کرتا کہ یہ ایسنز نمبر 1 ہے یا نمبر 2 ۔
قصہ مختصر یہ کہ اب پاکستان میں دیانتداری سے کام کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ دوست ملک چین کو دیکھئے وہاں رشوت ستانی یا ملاوٹ دونوں کی سزا موت ہے۔ سعودیہ میں بھی ملاوٹ کی سزا بہت سخت ہے۔جب تک جزا اور سزا کا نظام درست طور پر نافذ نہیں ہوگا یہ دولت کی ہوس ختم نہیں ہوگی۔تازہ مثال ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی وہ رپورٹ ہے جس کو پڑھے بغیر حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اپنے نقطہ¿ نظر سے تبصرے کئے جو میڈیا پر راگ الاپا جاتا رہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعظم کے دعوے کی نفی کر دی اور عین 22 جنوری کو اس رپورٹ کا اس انداز میں پیش کیا جانا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے؟ کون لوگ ہیں جو وزیراعظم کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ تو ملک میں کوئی اور لیڈر شپ متبادل موجود نہیں ہے اس لیے تمام تر کمزوریوں اور نام نہاد جمہوریت کے بنائے ہوئے سسٹم میں انقلابی اقدامات کرنے کے راستے میں ہزاروں رکاوٹیں ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ لڑائی اپنے انجام کو پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ اگر آپ نے کرپشن، بدعنوانیوں اور ملاوٹ وغیرہ سے نجات حاصل کرنی ہے تو موجودہ جمہوریت کے ذریعے یہ ناممکن ہے ۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے مرکز، کے پی کے اور پنجاب میں حکمران جماعت کے اتحادی بھانت بھانت کی بولیاں بولتے نظر کیوں آ رہے ہیں؟ جبکہ باقی سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں راوی چین لکھتا ہے۔
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved