تازہ تر ین

”نیا لندن پلان“

کامران گورائیہ
موجودہ حکومت کی خارجہ اور داخلی محاذپر ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مقتدر حلقوں نے بھی اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے تبدیلی سرکار کو ایک اور نئی کروٹ دینے کی منصوبہ بندی کرلی۔ پاور بروکرز نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف سے فیصلہ کن ملاقاتیں کر لی ہیں جسے نیا لندن پلان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت پاور بروکروز اور شریف برادران کے درمیان جن نکات پر بات چیت ہوئی ہے ان میں حکومت کی رخصتی اور قومی حکومت کی تشکیل جیسے امور شامل ہیں۔ گو کہ عمران خان حکومت اور ق لیگ کے درمیان کامیاب مذاکرات کی نوید سنائی گئی ہے لیکن چوہدری برادران ”نیا لندن پلان“ کے شراکت دار ہیں اور یہ تمام معاملات فی الوقت پس پردہ طورپر انجام کو پہنچنے جا رہے ہیں۔ یوں تو شریف برادران اور پاور بروکرز کے درمیان فیصلہ کن مذاکرات اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکے ہیں لیکن قومی حکومت کی تشکیل کے ایشو پر ابھی اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ سکا۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مقتدر حلقے اور چوہدری برادران پنجاب اور وفاق میں ان ہاو¿س تبدیلی کے خواہش مند تو ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ پنجاب اور وفاق میں ان ہاو¿س تبدیلی کی صورت میں نئی حکومت کو کم از کم دو سال دئیے جائیں لیکن مسلم لیگ ن حکومت کی تبدیلی کی صورت میں نئے حکمران کو صرف چھ ماہ دینے کی بات کر رہے ہیں جس کے تحت پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی ہو سکتے ہیں جبکہ وفاق میں کسی بھی ممبر قومی اسمبلی کو متفقہ طور پروزیراعظم کے طورپر لایا جائے اور چھ ماہ کے بعد نئے انتخابات کروائے جائیں جس کے بعد مسلم لیگ ن وفاق اور پنجاب سمیت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی مخلوط حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ پاوربروکرز اور مسلم لیگ ن تمام معاملات پر اتفاق کرتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ 2013ءکے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کے طرز حکمرانی اور پالیسیوں کے بھی معترف ہیں۔ لیکن ابھی یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ قومی حکومت تشکیل دی جائے یا نئی حکومت کو محض چھ ماہ کا وقت دیا جائے۔ ”نیا لندن پلان“ کے بعض شاہدین کا کہنا ہے کہ پاور بروکرز مسلم لیگ ن کی تمام شرائط مان چکے ہیں معاملہ صرف ان ہاو¿س تبدیلی یا قومی حکومت جسے نگران حکومت بھی کہا جاسکتا ہے پر اٹکا ہوا ہے۔ لیکن یہ معاملہ بھی بہت جلد حل ہو جائے گا کیونکہ مسلم لیگ ن اپنی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر اپنی تمام شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہے۔
عمران خان حکومت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امور مملکت پر اپنی گرفت کم کرتی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے عوام کااستحصال ہوا اور ہو رہا ہے۔ ملک میں کروڑوں لوگ سطح غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد گذشتہ 17 ماہ کے دوران بیروز گار ہوئے ہیں۔ خارجہ امور پر بھی عمران خان حکومت کی ناکامیاں بڑھتی جا رہی ہیںاور وہاپنی ساکھ کو بچانے کےلئے کوشاں ہیں۔ سعودی عرب ، ایران، ترکی، چین، روس اور ملائیشیا پاکستان کے ساتھ تعلقات میں محتاط ہو چکے ہیں۔ غرضیکہ عمران خان حکومت کو ہر محاذ پر ناکامی اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان حالات میں پاور بروکرز کا مسلم لیگ سے معاملات طے کرنا اشد ضروری ہو چکا تھا اور اسی ضرورت کے پیش نظر مسلم لیگ ن کے ساتھ ملاقاتیں فیصلہ کن مراحلہ میں داخل ہو چکی ہیں ۔ ایک نکتہ بہت اہم ہے کہ مسلم لیگ ن نے مقتدر حلقوں سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کی بات کی ہے۔ کہا گیا ہے کہ مقتدر حلقوں نے مسلم لیگ ن کو مکمل طور پر فری ہینڈ دے دیا ہے اور اب مسلم لیگ ن کے صدر اپنی وطن واپسی پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور انہیں لندن پلان پر اعتماد میں لیں گے۔ انتقال اقتدار کے نئے طے شدہ فارمولا کے تحت نئے انتخابات کے بعد وزیراعظم میاں شہبازشریف ہوں گے اور انہیںمکمل طورپر سپورٹ دی جائے گی جس میں پیپلز پارٹی سندھ اور خیبرپختونخوا کی علاقائی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا تعاون بھی حاصل ہوگا ۔ چوہدری نثار علی خان کی اہمیت کو آئندہ کے سیاسی منظر نامہ میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اطلاعات کے مطابق وہ بغرض علاج لندن جا رہے ہیں ۔ چوہدری نثار عملی طور پر پوری طرح سرگرم ہو چکے ہیں جو پارٹی اور قومی سیاست میں اپنی دوبارہ انٹری کےلئے موزوں لمحے اور ضروری سگنل کے منتظر بتائے جاتے ہیں۔ مریم نواز نے ابھی تک اپنا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ ترک نہیں کیا ۔ مقتدر حلقوں نے بھی مریم نواز کا نام ای سی ایل سے آﺅٹ کروانے میں مدد کا عمل ہولڈ کر لیا ہے۔ مریم نواز کی ایما پر سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور رانا ثناءاللہ ایک دم متحرک ہو کر ٹی وی پر مریم نواز کیمپ کا مو¿قف بڑھ چڑھ کر پیش کر رہے ہیں، جس پر شہباز شریف کیمپ کو بھی مزید متحرک ہونا پڑا۔ شہباز شریف کی فوری اور خصوصی ہدایت پر خواجہ آصف کو بھی ملک کے سیاسی منظر نامے پر پھر سے نمودار ہونا پڑا، حتی کہ انہوں نے دو قدم آگے بڑھ کر نواز شریف کیمپ کے بیانیے میں شامل خلائی مخلوق کی نئی تشریح کے علاوہ یہ بیان دےکر نواز شریف کیمپ کو زک پہنچانے کی کوشش کی کہ نواز شریف تو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں 93/1992 سے رہتے چلے آ رہے ہیں۔
”نیا لندن پلان“ پر عملدرآمد کب ہوگا اس کےلئے آنےوالے چند دن بہت اہم ہیں جو آئندہ کے سیاسی منظر نامہ کا بتا دیں گے۔ یہ بات بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ مسلم لیگ ن انتقال اقتدار کے معاملہ ودیگر امور پر ملک کے تمام اداروں اور سیاسی قوتوں کو ساتھ ملا کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو اس کےلئے بہت سود مند بھی ثابت ہوگی کیونکہ انتقامی سیاست اور اداروں سے محاذ آرائی ملک و عوام ہی کےلئے نہیں بلکہ جمہوریت کےلئے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال اور جنوبی ایشیاءکو درپیش چیلنجز کو دیکھتے ہوئے یہ بہت ضروری ہے کہ سیاسی قوتیں اور ادارے ایک پیج پر ہوں اور یہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ملک اور عوام کی بہتری کےلئے کام کریں ۔اگر ایسا ہو جائے گا تو اس ملک کی ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی تقدیر بدل جائے گی۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا ہوگا کہ چین ایک عظیم دوست ملک ہے اور اسی کے تعاون سے پاکستان میں سی پیک جیسے عظیم الشان منصوبہ کی بنیاد رکھی گئی۔ چین پاکستان کےلئے روس، ملائیشیا، ترکی اور ایران سے مثالی دوستانہ روابط استوار کرانے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرسکتا ہے لیکن اس کےلئے ابتدا اپنے گھر سے ہی کرنا ہوگی۔ ”نیا لندن پلان“ اسی صورت میں کامیابی سے ہمکنار ہوگا جب مسلم لیگ ن اس بار اپنا کردار دانشمندی اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے گی۔ ملک کے عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مسلم لیگ کے ادوار میں ملک نے ہمیشہ تاریخ ساز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملک میں ترقیاتی منصوبے ہوں یا معاشی مسائل کا حل، ن لیگ کی پالیسیاں عوام دوست رہی ہیں لیکن آئندہ کےلئے عوام اب اس سیاسی جماعت سے کچھ زیادہ کی امید رکھتے ہیں کیونکہ موجودہ عمرانی حکومت نے ملک کو بہت سے بحرانوں میں جھونک دیا ہے اور ان بحرانوں سے نکلنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved