تازہ تر ین

افغان امن مذاکرات… اصل خطرات

آصف درانی
تین ماہ کے تعطل کے بعد امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوئے دو ماہ گزر چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق تو دونوں فریقین ان غیر معمولی طور پر پیچیدہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت اور آئندہ چند دنوں میں کسی حتمی حل پر پہنچنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اصولاً یہ امر طے پا چکا ہے کہ اول‘ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال لے گا ۔ دوم‘ طالبان اس بات کی ضمانت فراہم کریں گے کہ القاعدہ یا داعش کو افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔ سوم‘ جنگ بندی عمل میں آئے گی یا امریکی افواج اور افغان سیکورٹی فورسز کے خلاف پرتشدد کارروائیاں نہ ہوں گی۔ چہارم‘ مختلف افغان گروپوں کے مابین باہمی گفت و شنید ہو گی۔ لیکن اصل مسئلہ تفصیلات میں چھپا ہوا ہے۔
افغانستان کا معاملہ گزشتہ دنوں اس وقت بہت اجاگر ہوا جب ڈیووس میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں کی جانیوالی زبردست کوششوں اور اس ضمن میں امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعاون کے نتیجہ میں متحارب فریقین کے درمیان مصالحت کے عمل میں پیدا ہونیوالی تیزی کا تذکرہ کیا ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے طالبان کو قیام امن کے نتیجہ میں افغانستان اور پورے خطے کو حاصل ہونیوالے فوائد کے بارے قائل کرنے کی خاطر اپنی بساط سے بڑھ کر کوششیں کی ہیں تاہم طالبان اور امریکہ کے نکتہ ہائے نگاہ کے مطابق ابھی بڑے بڑے مسائل حل ہونا باقی ہیں۔ ان مسائل میں افغانستان کے بڑے بڑے شراکت داروں مثلاً اشرف غنی کی قیادت میں قائم حکومت ، افغانستان کی حزب اختلاف اور نسلی گروہوں کے انتہا پسندانہ موقف شامل ہیں۔ افغان خواتین نے جو اپنے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک طاقتور فریق کے طور پر سامنے آئی ہیں ، طالبان کے برسر اقتدار آنے کی صورت میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ ماضی میں اس مذہبی ملیشیا کے ساتھ ان کے تجربہ کو کم ازکم ایک ڈراﺅنے خواب سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔
افغانستان کے مختلف سیاسی اور نسلی گروہوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کی فضا ءنہ صرف فطری بلکہ نئی بھی نہیں ہے۔ سنجیدہ افغان تجزیہ کاروں کو افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز (ANSF) کے بارے خصوصی تشویش لاحق ہے جو بہر حال افغانستان کو متحد رکھنے اور ان گروہوں کو بے اثر بنانے کے ضمن میں اہم کردار ادا کر رہی ہے جو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکے بعد ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کے مستقبل کے متعلق امریکہ فی الحال مہر بلب ہے یا شاید وہ اسے مذاکرات کے دوران افغانستان میں قائم چار امریکی فوجی اڈوں کی قسمت کے حوالے سے سودے بازی کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہو۔ واضح رہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنے فوجی اڈوں کو کم از کم مستقبل قریب میں بھی قائم رکھنے کا خواہشمند ہے تاکہ وہ القاعدہ اور داعش پر نظر رکھ سکے۔ افغانستان کے اہم ہمسایہ ممالک مثلاً پاکستان ، چین ، روس اور ایران کی طرف سے ان اڈوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جائیگا۔ تاہم امریکہ اگر افغان فوجی اڈوں کے بدلے طالبان کو کچھ معاوضہ ادا کرنے کی حامی بھرلے اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو راضی کر لے تو اس بات کا امکان ہے کہ طالبان القاعدہ اور داعش کے توڑ کیلئے محدود امریکی موجودگی پر اتفاق کر لیں۔
جہاں تک افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کا تعلق ہے ، طالبان کی اپنی ترجیحات ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایک بہت بڑی اور جدید سازوسامان سے لیس فوج رکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔ چین ، روس اور ایران کے ساتھ طالبان کے روابط کے پیش نظر اس بات کا قوی امکان ہے کہ طالبان ہمسایہ ممالک سے غیر جانبداری پر مبنی تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس پالیسی کی بدولت افغانستان کے پڑوسی ممالک کو اس امر کی بہت اچھی ضمانت مل جائے گی کہ طالبان کا ایجنڈا توسیع پسندانہ نہیں ہے۔دوم‘ وہ انتہا پسندوں یا علیحدگی پسندوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور سوم‘ وہ غیر ملکی وسائل پر انحصار کرنے کی بجائے ایک چھوٹی فوج رکھنے کو ترجیح دیں گے۔ اس سے بھارت کے ان خدشات کا بھی خاتمہ ہوجانا چاہئے کہ امریکی فوج کے انخلاءکے بعد طالبان بھارت کے اندر اپنے لئے نئے اتحادی تلاش کرنے میں آزاد ہوں گے۔ دوسرے اس کے طفیل پرواین سوامی جیسے انتہاپسند بھارتی تجزیہ کاروں کی تشویش کا بھی ازالہ ہو جانا چاہئے جو نریندرا مودی کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ خود کو ایک علاقائی طاقت منوانے کی خاطر بھارت کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکے بعد وہاں اپنا ایک فوجی بریگیڈ یا ڈویژن تعینات کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ تاہم افغان نیشنل سیکورٹی فورسز کی قسمت ایک ایسا سنجیدہ مسئلہ ہو گا جسے امریکہ اور طالبان کو بہر حال حل کرنا ہو گا۔ اس امر کا کافی امکان ہے کہ طالبان امریکی فوج کو 2020ءکے آخر تک افغانستان میں قیام کی اجازت دیں گے مگر اس سے زیادہ بالکل نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں بھی اس حتمی مدت پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
پھر دوطرفہ سیکورٹی ایگریمنٹ (BSA) کا مسئلہ ہے جس پر صدر اشرف غنی نے 2014ءمیں برسراقتدار آ نے کے تھوڑے ہی عرصہ بعد دستخط کیے تھے ۔ اس معاہدے کے تحت امریکی فوجیوں کو افغانستان میں فرائض انجام دیتے وقت کسی بھی اقدام کے حوالے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ غالب امکان ہے کہ طالبان اس دو طرفہ سیکورٹی ایگریمنٹ سے اتفاق نہ کریں گے جس کی وجہ سے امریکی فوج کا افغانستان میں قیام مزید مشکل ہو جائیگا۔ خاص طور پر اس وقت جب طالبان کو ملک میں ایک بڑے شراکت کار کی حیثیت حاصل ہو گی۔
بے شک!پاکستان کیلئے اصل چیلنج ابھی آنے ہیںجو ان گنت مسائل کے حامل ہوں گے‘ جن کا نہ صرف افغانستان کو امریکی فوج کے انخلاءکے بعد سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔اول جو عوامل افغانستان میں خانہ جنگی اور نائن الیون کا باعث بنے ، وہ ابھی تک وہاں موجود ہیں اگرچہ القاعدہ کو بڑے موثر انداز میں غیر اہم بنایا جا چکا ہے۔ داعش کا خطرہ ابھی وہاں پورے طور پر موجود ہے اور افغان سرزمین پر ایسے گروہ کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔ دوم‘ اگرچہ افغانستان میں امریکی مداخلت نے وہاں استحکام تو پیدا نہیں کیا تاہم اس کا انخلاءوہاں ایک خلاءضرور پیدا کرے گا چاہے وہ کم از کم ملک کو مالی امداد فراہم کرنے سے ہی متعلق کیوں نہ ہو۔ سوم‘ افغانستان کو مستقبل قریب میں فوڈ سیکیورٹی ، مہاجرین ، صحت اور تعلیم کے معاملے میں پاکستان پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔ چہارم‘ افغانستان کے غیر پشتون گروہ اشرف غنی کے بعد وجود میں آنیوالے انتظام و انصرام کے بارے شکوک و شبہات کا ہی شکار رہیں گے جس میں طالبان کو غلبہ حاصل ہو گا۔ یہ غیر پشتون گروہ پاکستان کے متعلق بھی شک و شبہ میں مبتلا رہیں گے جب تک کہ پاکستان اعلانیہ ایسی پالیسی نہیں اپنا لیتا جس میں کوئی بھی گروہ اس کا پسندیدہ نہ ٹھہرتا ہو۔یہ امر واضح ہے کہ تاجک، ازبک اور ہزارہ دھڑے اتنی آسانی سے طالبان کی حکمرانی پر سرتسلیم خم نہیں کریں گے۔ یہ گروہ بہت زیادہ منظم اور اسلحے سے لیس ہیں۔وہ اپنی پوری قوت سے طالبان کی مزاحمت کریں گے۔ حزب وحدت کے سربراہ سابق سیکنڈ وائس پریذیڈنٹ استاد محقق نے چند ہفتے قبل اسلام آباد میں یہ بیان دیا کہ ” ہم امن کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ یہ انصاف اور عزت و احترام پر مبنی ہو۔ بصورت دیگر ہم تو پہلے ہی ( طالبان کے ساتھ) حالت جنگ میں ہیں“۔
مثالی صورتحال تو یہ ہوتی کہ صدر اشرف غنی بذات خود طالبان سے مذاکرات کر رہے ہوتے مگر چھ سال اقتدار میں رہنے کے باوجود وہ اچھی حکمرانی کا تاثر دینے یا اپنے لئے ایسا حلقہ¿ اثر بنانے میں ناکام رہے ہیں جو انہیں تمام دھڑوں کا رہنما تسلیم کرتا ہو۔ان کی پوزیشن 28ستمبر 2019ءکو منعقدہ صدارتی انتخاب کے بعد مزید کمزور ہو گئی ہے جس میں صرف 12فی صد لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اہم صدارتی امیدواروں کے نزدیک اس صدارتی انتخاب کی ساکھ پہلے ہی مشکوک ٹھہر چکی جن میں صدر اشرف غنی کے قریبی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں جنہوں نے ان انتخابی نتائج کو فریب قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دیگر سیاسی اور نسلی گروہوں نے بھی اس سارے انتخابی عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
چنانچہ اس ترتیب پاتے منظر نامے میں افغانستان کیلئے سب سے پہلا چیلنج یہ ہو گا کہ امریکی فوج کے انخلاءکے بعد افغانستان کے مختلف دھڑوں کے مابین مفاہمت پیدا کی جائے۔ جب تک طالبان شراکتِ اقتدار کے کسی فارمولے پر متفق نہیں ہو جاتے اور صدیوں پرانی اس سائیکی ” فتح یا غلبہ پانا“سے اجتناب نہیں کرتے تو جنگ زدہ افغانستان میں امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا ۔ اور ہاں! افغانستان کے اندر اور باہر موجود ان انتشار پسندوں کو مت بھولیں جنہیں افغانستان کو ہمیشہ کیلئے جنگ و جدل کا شکار دیکھنے میں بڑی خوشی ہو گی۔ ( ترجمہ: نعیم احمد)
( مضمون نگار سابق سفیر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved