تازہ تر ین

معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت

ڈاکٹر شاہد رشیدبٹ
کسی بھی حکومت کے کچھ بنیادی ستون ہوا کرتے ہیں اور انھیں ستونوں کی بنیاد پر حکومت چلا کرتی ہے۔ ان ستونوں میں علا قہ ،آبادی اور آزادی شامل ہو ا کرتی ہے ۔حکومت آبادی پر کی جاتی ہے لیکن جس آبادی پر حکومت کی جا رہی ہو وہ بے چین ہو جائے تو پھر حکومت کرنا بھی مشکل ہو جایا کرتا ہے ۔ ان بنیادی ستونوں میں سے ایک بھی ستون کمزور پڑ جائے تو گورننس کمزور پڑ جایا کرتی ہے ۔حکومت کے لیے یہ امر نہایت ہی ضروری ہے کہ عوام کے روزمرہ استعمال کی اشیائے صرف اور خاص طور پر فوڈ آ ئٹمز یعنی کھانے پینے کی اشیا ءکی قیمتوں کو اس سطح تک رکھا جائے کہ عام آدمی زندگی آسانی سے بسر کر سکے ۔لیکن یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں بلکہ بہت ہی پیچیدہ ہے ۔کھانے پینے کی اشیاءسمیت دیگر اشیاءکی قیمتوں کا تعلق حکومتی ٹیکسوں کے ساتھ بھی براہ راست جڑا ہوتا ہے بلکہ پیٹرول کی قیمتوں ،ٹرانسپورٹ کے اخراجات ،بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضرورتوں کے ساتھ بھی اس معاملہ کا براہ راست تعلق ہوتا ہے ۔اگر حکومت واقعی درست معنوں میں عوام کو ریلیف مہیا کرنا چاہتی ہے تو اسے پیٹرول کی قیمتوں ،ٹرانسپورٹ کے اخراجات ،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی واضح کمی لا نی ہو گی ۔اس کے بغیر مہنگائی کے موجودہ طوفان کو روکنا مشکل ہو گا ۔دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کو کھانے پینے کی اشیا پر صرف سبسڈی دینے کی بجائے ملک میں پیدا وارکی لاگت میں کمی پر بھی توجہ دینا ہو گی پھر ہی عوام کو حقیقی ریلیف میسر آسکتا ہے ۔
اس حوالے سے میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عوام کو یو ٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے 15سے 18ارب روپے کا ریلیف پیکیج دیا جا رہا ہے جس سے یہ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آٹے ،دالوں،گھی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں 20سے 25فیصد کمی آئےگی۔ یہ حکومت کی جانب سے بہت ہی احسن اقدام ہے لیکن یہ پیکیج عوام کو ریلیف دینے کےلئے ناکافی ہے، ایسے مزید کئی اقدامات لینے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں پر ہاتھ ڈالا جائے اور کھانے پینے کی اشیا کی ہو رڈنگ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لا ئی جائے ۔عوام سے چند ٹکوں کی خاطر روٹی کا نوالہ چھینے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ، عوام کو ایسے عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔حکومت کو غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے طلب اور رسد کی صورتحال کو ہر صورت یقینی بنانا ہو گا ۔کسی بھی چیز کی طلب میں اضافہ ہو جائے اور رسد میں کمی ہو تو قیمتیں بڑھتی ہیں حکومت کو اس حوالے سے اپنی گورننس میں بہتری لا نے کی ضرورت ہے ۔
اب بات کرتے ہیں کچھ پاکستان کی مجموعی معاشی صورتحال کی ،حکومت کو ایک بار پھر پاکستان کی معاشی سمت پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ سکڑتی ہوئی معیشت اور گرتی ہوئی برآمدات کے باوجود محاصل اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ تشویشناک ہے جو ملکی معیشت کی غلط سمت کا پتہ دیتا ہے۔گزشتہ سال کے مقابلہ میں شرح نمو کم ہو گئی ہے مگر محاصل میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کےلئے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کے بجائے عوام اور کاروباری افراد کو ہدف بنایا گیاجبکہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ محاصل کے جن اہداف پر معاہدہ کیا گیا تھا ان کا حصول ایف بی آر کے بس کا روگ نہیں بلکہ اس کےلئے معجزے کی ضرورت ہے۔ امسال جنوری کی برآمدت میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 3.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔گزشتہ سال جنوری میں 2.3 ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں جو سال رواں میں گر کر 1.96 ارب ڈالر کی رہ گئی ہیں جس کی وجوہات میں مجموعی اقتصادی صورتحال ‘سیاسی و معاشی عدم استحکام‘ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ریفنڈ کی عدم ادائیگی شامل ہیں۔ ایک طرف برآمدات گر رہی ہیں جبکہ دوسری طرف زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کےلئے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ معیشت کے لئے مفید نہیں ہے۔ موجودہ پالیسی کے تحت سال رواں کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر بیس ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جس میں ٹی بلز میںغیر ملکی سرمایہ کاری پانچ ارب ڈالر تک ہو گی۔ تاہم متعدد ماہرین معیشت نے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کےلئے برآمدات پر توجہ دینے کے بجائے سرمایہ کاروں کو بھاری سود ادا کرنے کا طریقہ اختیار کئے جانے پراعتراض کیا ہے کیونکہ اس کے نتائج انتہائی غیر متوقع بھی نکل سکتے ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی وقت اپنا پیسہ نکال سکتے ہیں جس سے ملک میں ایک نیا بحران جنم لے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر جو چوبیس جنوری کو 18.363 ارب ڈالر تھے وہ اکتیس جنوری کو بڑھ کر 18.645 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ایک ہفتے میںزرمبادلہ کے ذخائر میں 282 ملین ڈالر کا اضافہ پریشان کن ہے۔
وزیر اعظم عمران خان پاکستان کی عوام کی بہتری اور ملک سے غربت کے خا تمے کا ویژن رکھتے ہیں اور بلا شبہ عوام کا درد محسوس کر سکتے ہیں لیکن چند غلط فیصلوں کے با عث ملک کی معیشت میں ایک جمود طاری ہے جس کے باعث نہ صرف مہنگائی میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے بلکہ بے روزگاری بھی بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔وزیر اعظم کو عوام کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کو نبھانے کے لیے حکومت کی بنیادی معاشی پالیسیوں پر ایک بار پھر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا ۔
( کالم نگار پاکستان میں گھانا کے قونصل جنرل اور
سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ہیں )
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved