تازہ تر ین

وہ آفتاب جسے وقت نے اُچھالا ہے

اسرار ایوب
پاکستان 22کروڑ ماہرین کا ملک ہے۔ ہرشخص ہر شے کا ماہر،حتی کہ ایک پکوڑے بیچنے والا ”چٹااَن پڑھ“بھی خارجہ پالیسی اور بجٹ پر پورے وثوق سے حتمی رائے زنی کر گزرتا ہے ، بس پکوڑے ہی پکانے نہیں آتے؟سو مسئلہ کشمیربھی ہر کوئی اجاگرکر رہا ہے لیکن پکوڑے بیچنے والے تو ایک طرف بڑے بڑے ”مفکرین“تک کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی ایک وجہ کیا ہے؟ میرے خیال میں ہمارا یہ موقف کہ مسئلہ کشمیر ”تحریکِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے“اسکی ایک وجہ ہے۔اس موقف کا فائدہ انڈیا کو تو ہوتا ہے لیکن پاکستان کو نہیں ہوتاکیونکہ اس طرح یہ دو ممالک کے درمیان ایک سرحدی تنازعہ بن جاتا ہے جبکہ ”ٹیریٹوریل ڈسپیوٹس“ میں مداخلت بالعموم اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار میں نہیں ہوتی۔ اقوامِ متحدہ کی پہلی قرار داد کے مطابق یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ اس لئے تھا کہ کشمیریوں کوانکا حق خودارادیت نہیں مل رہا تھا جو ”یو این چارٹر“کی رو سے ایک انسان کا بنیادی حق ہے لیکن پھر انڈیا اور پاکستان نے مل کر اقوامِ متحدہ سے کہا کہ یہ بین الاقوامی نہیں بلکہ ہمارا باہمی مسئلہ ہے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف یہ عالم ہے اور دوسری جانب انڈیا سے کوئی بات منوانے کےلئے اگر اُس سے زیادہ نہیں تو اُس جتنا طاقتور ہونا تو ضروری ہے اور طاقت سے مراد آپ کی معیشت ہوتی ہے کیونکہ ٹینکوں ،لڑاکاجہازوں اوردیگر جنگی مشینوں میں پٹرول ڈالنا پڑتا ہے جو ”ملّی ترانوں“سے نہیں بلکہ ڈالروں سے ملتا ہے جبکہ ہمارے ”فارن ایکسچینج ریزروز“فقط 13.2ارب ڈالر ہیں(وہ بھی ادھار کے) جبکہ انڈیا کے ”ریزروز“ 431ارب ڈالر ہیں(وہ بھی اپنے) ، توباہمی تنازعہ ہونے کی صورت میں یہ مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے اور اگر یہ باہمی مسئلہ ہے تو پھرہم اقوامِ متحدہ میں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں؟
کشمیر ”برٹش انڈیا“کا حصہ نہیں تھا بلکہ اُنPrincely States میں سے ایک تھی جنکی تعداد584تھی اور جن کے متعلق ”تھرڈ جون پلان“میں یہ لکھاگیا تھا کہ وہ چاہیں تو انڈیا کے ساتھ رہیں یا پاکستان کے ساتھ یا آزاد۔کشمیر کے مہاراجہ نے دونوں( انڈیا اور پاکستان) کو” سٹینڈ سٹل“ معاہدے کی پیشکش کر دی یعنی وہ چاہتا تھا کہ کشمیر کی جو حیثیت ”برٹش انڈیا“میں تھی وہ بٹوارے کے بعد بھی قائم رہے، انڈیا نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا لیکن پاکستان نے کر دیے چنانچہ مہاراجہ کی حکومت نے پاکستان کے یومِ آزادی کو سرکاری طور پر منایا۔بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک جب قبائلیوں نے کشمیر پر حملہ کر دیا تو اس سے ڈر کرمہاراجہ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کا کاغذ دستخط کر دیا؟
بہر طور جو ہوا سو ہوا یعنی لکیر پیٹنے کے بجائے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اب کیا کیا جائے؟ پہلے تو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ دونوں ممالک میں ایک جانب کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں اور دوسری طرف اربوں کھربوں روپئے اسلحہ و بارود کی خریداری پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ میڈیاپراس طرح کی خبریںبھی نشرہو رہی ہوتی ہیں کہ فلاں شخص نے بھوک سے مجبورہوکر اپنے بچوں کی جان لی اور پھرخود کشی کر لی، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ ہم نے ایک نئے میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جس کی رینج پچھلے سے زیادہ ہے۔ دونوں ممالک کا دعویٰ ہے کہ ان کی ”انٹیلی جنس“ایجنسیاں دنیا بھر میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں تو پھر ہر دو کو یہ کیوں معلوم نہیں کہ انکی لڑائی میں امریکہ جیسے ممالک کا معاشی استحکام مضمر ہے جن کی معیشت کا 90فیصد سے زیادہ دارومدار جنگی سازوسامان کی فروخت پر ہے؟
پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا ہر دو ممالک کے مفاد میں ہے لیکن اس کے لئے اپنی اپنی روایتی پوزیشن سے ہٹنا پڑے گا ورنہ آپ خود ہی فرمائیے کہ کیا کوئی کسی بھی قیمت پرکسی کو اپنی ”شہ رگ“یا ”اٹوٹ انگ“کاٹنے کی اجازت دے سکتا ہے؟ روایتی پوزیشن سے ہٹنے کا اس سے مناسب جواز اور کیا ہو سکتا ہے جو عمران خان نے پیش کیا تھاکہ یہ دیکھنے کے بجائے کہ پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کی خواہش کیا ہے یہ دیکھناچاہیے کہ کشمیر کے لوگ کیا چاہتے ہیں؟استصوابِ رائے کیلئے کشمیر کو ایک یونٹ کے طور پر دیکھنے کے بجائے تین یا چار یونٹوں میں تقسیم کرنے میں بھی کیا ہرج ہے؟ ہریونٹ سے یہ تین سوال پوچھے جا سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا ہندوستان کے ساتھ یا خودمختار؟ استصوابِ رائے مکمل ہونے تک ان یونٹوں کا انظمام و انصرام اقوامِ متحدہ کو دئیے جانے میں بھی کم از کم مجھے تو کوئی خرابی دکھائی نہیںدیتی۔
اور جب تک انڈیا اس مسئلے کو حل کرنے پر رضامند نہیں ہوتا ہمارا موقف وہی ہونا چاہیے جو عمران خان نے اپنایا کہ یہ ”سرحدی تنازعہ“ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ سے بلا تخصیص ہر انسان کےلئے منظور شدہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا مسئلہ ہے اور مودی کا نظریہ فاشزم پر مبنی ہے جس کی زد میں مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی، پارسی اور ہر ”نان ہندو “ہے۔ رہی بات کشمیریوں کی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتی کیونکہ وہ آزادی کا چراغ اپنے لہوسے روشن کر رہے ہیں۔اپنے چند اشعار یاد آرہے ہیں جنہیں کشمیریوں کی نذرکررہا ہوں کہ
وہ دن ہماری زمیں پر اُترنے والا ہے
کہ جس کے بعد ہزاروں برس اجالا ہے
ابھر رہی ہے افق سے وہ دیکھ صبحِ دوام
جسے لہو کی مسلسل شفق نے پالا ہے
گواہی دیتے ہیں تارے شہید ہوتے ہوئے
کہ کوئی دیر میں سورج نکلنے والا ہے
اُسے چمکنے سے کیا کوئی روک سکتا ہے
وہ آفتاب جسے وقت نے اچھالا ہے
ہمیں چمکنا ہے اب اِس کے چاند ستارے میں
سو اپنے خون میں پرچم یہ رنگ ڈالا ہے
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved