تازہ تر ین

مچھندر

جاوید کاہلوں
مکہ مکرمہ سے مدےنہ منورہ ہجرت تو ہو گئی۔تب کے ذرائع نقل و حرکت چونکہ پا پےادہ ےا اونٹ واسپ سواری تھی، اس لئے ےہ دونوں آبادےاںےا شہر اےک دوسرے سے تقرےباً پانچ چھ دن کی مسافت پر تھے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ےہ ہجرت تب کے مسلمانوں کی سخت مجبوری تھی کےونکہ کفار مکہ نے ان کا وہاں جےنا محال کر رکھا تھا۔ مگر ہجرت کے باوجود قرےش ، مسلمانوں کے تعاقب مےں رہے۔ ےہاں تک کہ مدینہ میں ان پر چڑھائی کر کے پے درپے جنگےں بھی چھےڑی رکھےں۔ غزوہ بدر اور احد اےسی ہی مثالوں مےں سے دو ہےں۔ مسلمانوں کےلئے کوئی اےسا لمحہ مےسر نہ تھا کہ وہ قدرے سکون سے دےن حق کی تبلےغ کر سکےں۔ اےسے حالات کی سالوں سے جاری شبت اور تندی مےں سرکارِ دو عا لم نے مکہ والوں سے صلح حدےبےہ پر دستخط کئے۔ ےہ اےک اےسا امن معاہدہ تھا کہ اس کی شرائط بظاہر مسلمانوں کیلئے کافی نقصان دہ تھےں۔ مسلمان لشکر حتیٰ کے بڑے بڑے صحابیؓ بھی اس معاہدہ سے بددل ہوئے ۔ مگر چونکہ حضور اسے قبول فرما چکے تھے، اس لئے مسلمان لشکر بغےر خانہ کعبہ کے طواف کئے ہی واپس لوٹ گےا۔ دوران سفر ہی وحی مبارک نازل ہوئی اور اےک درخت تلے کئے گئے اس امن معاہدے کو قرآن پاک نے ”فتح مبےن “ قرار دے دےا۔ آنے والے مہہ و سال اےسی ”فتح مبےن ©“ پر آج تک بھی گواہ ہےں اور تاقےامت گواہ رہےں گے۔ اس معاہدے کی حقانےت کے پےچھے کافی نکات اور فلسفہ ہے ۔ ان مےں سے اےک بڑا نکتہ ےہ بھی ہے کہ ہمہ وقت حالت ِ جنگ مےں رہنے سے بنےادی مقصد کو پانے اور اپنا صحےح پےغام سمجھانے مےں بے شمار دِقت اٹھانا پڑتی ہے۔ کسی بھی مشن کو بامقصد کرنے کےلئے جنگ کی بجائے امن کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ےہی وجہ ہے کہ جونہی مدےنہ کے مسلمانوں کو کچھ امن مےسر ہوا، اسلام کا پےغام اےک نئی جہت اور طاقت کےساتھ عرب معاشرے پر واضح ہونا شروع ہو گےا۔ ہم جانتے ہےں کہ صلح حدےبےہ کی ابتدائی مدت دس برس کی تھی۔ مگر دنےا نے دےکھا کہ سخت دباﺅ مےں لکھا گےا وہی امن معاہدہ اپنی ابتدائی مدت کی تکمےل سے قبل ہی ”فتح مبےن©©“ بن کر مکہ والوں بلکہ تمام عرب پر واضح ہو گےا۔
اب اسی پس منظر مےں وطن عزےز مےں جاری عمران خان کی حکومت کو دےکھےں تو معلوم ہو گا کہ اندرونی و بےرونی خطرات مےں گھرے بے شمار مسائل کے پاکستان مےں تحرےک انصاف نے اےک چو مکھی سی لڑائی شروع کر رکھی ہے۔ عمران خان کرپشن اور اس کی وجہ سے تباہ شدہ معےشت کو پاکستان کا نمبر اےک مسئلہ گردانتا ہے اور ےہ بات کافی صحےح بھی ہے ۔ اس کو ٹھےک کرنے کےلئے اس نے بڑے بڑے کرپشن کے مچھندروںپر برسرِ اقتدار آتے ہی ہاتھ ڈال دےا ۔ ےہ مچھندر بھی کچھ اےسے ہےں کہ ےہ کوئی اکےلی شخصےت نہےں بلکہ بددےانتوں پر مشتمل ٹبر کے ٹبر ، اےک دوسرے کے ساتھ اےک سی مجرمانہ ذہنےت سے منسلک کرپشن مافےاز اور سےنہ زوری اور بدمعاشی پر انحصار کرتے مختلف کارٹل گروپس ہےں جن سے کہ عمران خان بُری طرح الجھ چکا ہے ۔ اپنی بائےس سالہ سےاسی جدوجہد مےں وہ مجبور و بے کس عوام کو اےسے حکمران مچھندروں کے ہاتھوں بری طرح لٹتے دےکھ چکا تھا اور ان کے طرےقہ واردات کو بھی اچھا خاصہ پہچان چکا تھا۔ مگر ےہ ساری جانکاری اےک طرف ۔ کےا اےسے اےسے زور آوروں سے آناً فاناً اعلانےہ جنگ شروع کر دےنا، کوئی دانشمندی کا فعل تھا؟ اےک معمولی سمجھ بوجھ کا پاکستانی سےاستدان بھی ےہ سمجھ سکتا تھا کہ اےسے ماہر مجرموں کے ساتھ حکمتِ عملی سے معاملات طے کئے جانے چاہئے تھے ۔ وگرنہ ےہ سب اکٹھے ہو کر کسی بھی حکمران کو ناکوں چنے چبوا سکتے تھے۔ ےاد رہے کہ وطنِ عزےز مےں اےک پارلےمانی طرز کا نظامِ جمہورےت چل رہا ہے کہ جس کے قواعدو ضوابط کے تحت تحرےک انصاف کی حکومت کچھ چوں چوں کے مربے جےسے اتحادےوں کے سہارے اےک نازک اور کچے سے دھاگے سے منسلک نظامِ حکومت چلا رہی ہے۔ سکہ رائج الوقت کے مطابق اگر کچھ رےاستی اداروں کی طاقتور سر پرستی انہےں حاصل نہ ہوتی تو ےہ دھاگہ کب کا ٹوٹ کر بکھر چکا ہوتا۔ جن مچھندروں سے عمران خان جنگ چھےڑ چکا ہے ، وہ اسے کب کاڈکار گئے ہوتے اگر ےہ طاقتور ادارے ا س کی پشت پر نہ ہوتے۔ انسانی تارےخ اس امر پر گواہ ہے کہ کمزور بادشاہت کو بھی کوئی شاطراور تگڑا وزےر جکڑ کر رکھ سکتا ہے۔ جبکہ پارلےمانی جمہورےت مےں تو اگر عوامی خون پےنے کے عادی مچھندروں کی پارلےمان مےں بھی اچھی خاصی نمائندگی موجود ہو تو وہ کسی بھی کمزور تعداد کے وزےر اعظم کو جھٹکا آسانی سے کرا سکتے ہےں اور اس سے پےچھا بھی چھڑا سکتے ہےں ۔ وطنِ عزےز مےں تو اراکےن کے علاوہ اگر اےسے خونخوار مچھندروں کے پاس کوئی مذہبی ےا صوبائی کارڈ بھی موجود ہو تو ےہ سب کچھ ان کےلئے سونے پر سہاگہ ثابت ہو سکتے ہےں۔
خےر ےہ تو سب ہمارے اندرونی عوامل ہےں۔ ہمارا وطن تو ان اندرونی عوامل کے علاوہ کچھ بےرونی عوامل کے ہاتھوں بھی سخت پرےشر مےں ہے۔ 2018ءمےں جب عمران خان جےتا تو وطنِ عزےز کا خزانہ خالی تو تھا ہی، اس کے کافی سارے رےاستی ادارے اور تزوےراتی اثاثے بھی جانے والے حکمران بےرونی مالےاتی اداروں کو رہن رکھ چکے تھے۔ ان بےرونی عوامل مےں سب سے بڑا شکنجہ آئی اےم اےف کا تھا جو کہ آجکل بھی بدستور ہے۔ ےہ آئی ےم اےف کےا بلا ہے۔ اس کو جانچنا ہے تو ارجنٹائن ، برازےل ، ےونان ےا پھر پاکستان کی معےشتوں کو ہی سٹڈی کر لےں۔ اور کچھ ہونہ ہو آپ مغرب بالعموم اور ےہودی دماغ کی قابلےت سے بناےا بالخصوص ، مالےاتی نظام کا ےہ جن واضح نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ پتہ چل جائے گا کہ ےہ باہر سے خوشنما نظر آنےوالا آئی اےم اےف کا جن اندرونی ساخت مےں کس قدر خونخوار اور ہولناک ہے۔ بےرونی عوامل مےں سے پاکستان کا جوہری پروگرام اور حالےہ چےن پاکستان راہداری منصوبہ بھی بہت بڑے اےسے ”فےکٹرز “ہےں کہ دنےا کے ”چوہدری“ اس پر پاکستان سے سخت نالاں ہےں۔ مگر ےہ مقام ان کی تفصےل مےں جانے کا نہےں۔
سوےہ ہےں وہ حالات کہ جن سے عمران خان کو حکومت بناتے ہی پالا پڑا ہے۔ اےسی گھمبےر تا مےں چار سو اعلان جنگ چھےڑ دےنا کہاں کی سےاسی دانشمندی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر پاکستان اندرونی طور پر افراتفری اور بے سکونی مےں مبتلا رہے گا تو بےرونی دشمنوں سے کےونکرنپٹ سکے گا؟ مانا کہ اس وقت ہمارا اندرونی مسئلہ اعظم ”کرپشن “ہے تو اس مےں کےا مضائقہ تھا کہ ہر کسی کو بےک وقت احتسابی شکنجے مےں کس دےنے کی کوشش نہ کی جاتی ۔ پہلے کسی اےک آدھ سےاسی قوت سے صرفِ نظر کر کے، پارلےمانی اکثرےت کے ساتھ خصوصی قانون سازی کر کے سرعت سے چند اےک بڑے مچھندروں کے گلے گھونٹ کر لوٹ کا مال برآمد کروا لےا جاتا۔ اےک آدھ برس مےں اچھے نتائج حاصل ہو جاتے تو پھر دوسرے مچھندروں سے بھی وےسا ہی معاملہ کر لےا جاتا۔ اس سے عوام ِ پاکستان کچھ مطمئن رہتے، مہنگائی نہ بڑھتی ، کام نہ رکتے، خزانہ بھرنا شروع ہو جاتا، سےاسی استحکام حاصل رہتا، اور پاکستان ”ٹھہراﺅ “مےں آ جاتا ۔ پھر اےسے ٹھہراﺅ کی برکت سے بےرونی عوامل سے بھی کامےابی سے نپٹا جاتا تو ےہ اےک کامےاب حکمتِ عملی ہوتی۔
لےکن عمران خان تو نہ جانے کونسی جلدی مےں اپنے چاروں طرف اےک چومکھی بے نتےجہ اور لا حاصل جنگ چھےڑ چکا ہے۔ سب سے بڑے کرپشن کے محاذ پر بھی کوئی خاص پےش رفت نہےں۔ مچھندروں کی اکثرےت بےرون ملک مزے مےں ہے اور عوام حسب معمول مہنگائی کی چکی کے دونوں پاٹوں کے درمےان آ چکے ہےں۔ ان کی چےخےں بلند اور واضح ہوتی جا رہی ہےں۔ ملکی سلامتی کے ادارے کب تک اےسے سےاسی ناسمجھی کے بوجھ کو اٹھاتے پھرےں گے؟ ۔ ہر محاذ کھول دےنے سے بہادر جرمن بھی جےتی جنگ ہار گئے تھے۔ انسان آج بھی وےسا ہی ہے اور اس کی تارےخ بھی وےسی ہی رہے گی۔ سو اےسے حالات مےں دشمن تو اےک طرف اگر مسلم لےگ ق جےسے ”تابعدار“اتحادی بھی بول اٹھےں تو ےہ ےقےنا اےک بڑی سےاسی نا پختگی کی بات ہو گی ۔ کےا رےاست مدےنہ بنانے کے متمنی صلح حدےبےہ کے پس منظر و پےش منظر کچھ غور کرنا پسند کرےں گے؟ کہ روشنی سنتِ نبوی ہی سے بہترےن طور پر حاصل ہو سکتی ہے اور حکمتِ عملی کے اسباق بھی ادھر ہی موجود ہےں۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved