تازہ تر ین

سردار عبدالرب نشتر کی یاد میں

عمر جمیل
تحریک پاکستان کے عظیم رہنما سردار عبدالرب نشتر13جون 1899ءکو محلہ رام پورہ کوچہ کاکڑاں مےں پےدا ہوئے۔آپ کے والد اےک دےندار اور پابند صوم و صلوٰة مسلمان تھے لہٰذا اُنہوں نے اپنے بےٹے کی تعلےم و تربےت مےں بھی دےنی اقدار اور امور کو ملحوظِ خاطر رکھا۔ سردار عبدالرب نشتر کو شعر و شاعری اور علم و ادب سے گہرا شغف تھا۔ اُنہوں نے خود شاعری کی تو نشتر تخلص کرنے لگے۔ شعر و شاعری کے ساتھ ساتھ دےنی علوم سے بھی انہےں گہری دلچسپی تھی۔ تصوف اور مذہبی محافل مےں بھی وہ برابر دلچسپی لےتے تھے۔1919ءمےں پہلی جنگ عظےم کے خاتمے پر برعظےم پاک و ہند مےں جب تحرےک خلافت شروع ہوئی تو اس مےں صوبہ سرحد کے لوگوں نے بھی حتی المقدور حصہ لےا۔ سردار عبدالرب نشتراس وقت طالب علم تھے لےکن اس کے باوجود جلسے جلوسوں مےں عملی حصہ لےتے رہے۔ 1922ءمےں اُنہوں نے اپنے چند ہم خےال طالب علموں کے ساتھ مل کر اےک ادبی مجلس ”مسلم لٹرےری سوسائٹی پشاور“ قائم کی۔ اسی عہد مےں جب اُنہوں نے دےکھا کہ ہندوﺅں کی شدھی تحرےک زور پکڑنے لگی ہے تو اےک جماعت دےنی خدمت کےلئے بھی بنا لی تھی۔ انہےں نوجوانی ہی مےں ملک کی سےاسی تحارےک سے رغبت اور دلچسپی بھی پےدا ہوگئی تھی۔
ےوں تو سردار عبدالرب نشتر کی سےاسی زندگی کا آغاز اسی دور مےں ہوگےا تھا جب اُنہوں نے وکالت کا امتحان پاس کرکے عملی زندگی مےں قدم رکھ لےا تھا۔ پھر تحرےک خلافت کے دور مےں تو وہ اپنی سےاسی بصےرت اور سرگرمےوں کے حوالے سے بھی مشہور ہوگئے تھے۔ لےکن انہےں براہِ راست سےاست مےں حصہ لےنے کا موقع اس وقت ملا جب انہےں 1929ءمےں پشاور مےونسپل کمےٹی کے پہلے انتخاب مےں ممبر منتخب کرلےا گےا تھا اسی دور مےں وہ صوبائی کانگرس کی ورکنگ کمےٹی کے ممبر بھی بنے۔ اپنی سیاسی زندگی کے اوائل میں عبدالرب نشترکانگرس کے ممبر تھے لےکن تحرےک ہجرت اور تحرےک خلافت کے دوران سردار عبدالرب نشتر نے محسوس کرلےا تھا کہ ہندو اور کانگرس صرف اپنے مفادات کےلئے ہندو مسلم اےکتا اور اتحاد کا ڈھونگ رچا رہے ہےں۔ ےہ وہ دور ہے جب علامہ اقبال نے بھی خطبہ الٰہ آباد مےں مسلمانوں کےلئے اےک علےحدہ وطن کا تصور دے دےا تھا اور اس پر مستزاد لندن مےں منعقد ہونے والی گول مےز کانفرنسوں کے حوالے سے بھی مسلمانوں مےں اےک طرح کی جداگانہ سےاسی بےداری پےدا ہوگئی تھی۔ مسلمانوں کی اس سےاسی بےداری کے بعد مسلمانوں اور مسلم لےگ کی قےادت قائداعظم محمد علی جناح نے سنبھال لی تھی۔ اےک سال کی قےد بامشقت سے رہا ہونے کے بعد سردار عبدالرب نشتر نے پہلے سے بھی زےادہ گرمی اور جوش و ولولے کے ساتھ آزادی¿ وطن کی تحرےک مےں حصہ لےنا شروع کردےا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے سےاسی خےالات مےں بھی تبدےلی پےدا ہونے لگی تھی۔
1935ءکے آئےن کے تحت ملک مےں انتخابات ہوئے تو صوبہ خیبرپختونخوا مےں سردار عبدالرب نشتر اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔ ان کی اس کامےابی پر قائداعظم نے انہےں مبارک بادی کا اےک خط لکھا۔ اس طرح قائداعظم اور سردار عبدالرب نشترکے باہمی تعلقات مزےد فروغ پاتے رہے اور بالآخر 1937ءمےں سردار عبدالرب نشترمسلم لےگ کے رکن بن گئے۔ اس کے بعد جب صوبہ مےں باضابطہ اور باقاعدہ طور پر مسلم لےگ کی تنظےم نو کا کام شرو ع ہوا تو قائداعظم نے اس کی باگ ڈور سردار عبدالرب نشترکے سپرد کردی۔ سردار عبدالرب نشتر نے صوبہ مےں مسلمانوں کے مفادات اور مسلم لےگ کی کامےابےوں اور کامرانےوں کے لئے کام کرنا شروع کردےا۔ اپرےل 1938ءکے اوائل مےں سردار عبدالرب نشتر نے لاہور آکر مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ سے ملاقات کی۔ 1938ءمےں قائداعظم ہزارے کے دورے پر گئے تو سردار عبدالرب نشتر نے ان سے ملاقات کی اور صوبہ مےں مسلم لےگ اور اس کے اراکےن کے بارے مےں ہداےات حاصل کےں۔ دسمبر 1938ءمےں پٹنہ مےں مسلم لےگ کا اجلاس منعقد ہوا تو اس مےں سردار عبدالرب نشتر نے شرکت کی اور قائداعظم سے کئی ملاقاتےں کرکے انہےں ان کے ہر حکم کی تعمےل کرنے کی ےقےن دہانی کرائی۔ 1943ءمےں جب سردار اورنگزےب نے صوبہ خیبرپختونخوا مےں مسلم لےگ کی حکومت قائم کی تو سردار عبدالرب نشتر کو اُنہوں نے وزےر مالےات کے طور پر کابےنہ مےں لےا۔ ےکم اپرےل 1944ءکو پنجاب صوبائی مسلم لےگ کا اےک اجلاس سےالکوٹ مےں منعقد ہوا۔ سردار عبدالرب نشتر نے اس اجلاس کی صدارت کی۔
1946ءکے انتخابات کے بعد ملک کے سےاسی حالات مےں بڑی تےزی کے ساتھ تبدےلےاں رونما ہوئےں۔ مخلوط عبوری حکومت کےلئے جب دونوں بڑی جماعتوں مےں محکموں اور وزارتوں کی تقسےم ہوئی تو مسلم لےگی نمائندوں مےں لےاقت علی خاں کو وزارتِ خزانہ‘ آئی آئی چندرےگر کو وزارتِ تجارت‘ سردار عبدالرب نشتر کو وزارتِ ڈاک و فضائےہ‘ راجہ غضنفر علی خاں کو وزارتِ صحت اور جوگندر ناتھ منڈل کو قانون سازی کے امور کی وزارت دی گئی۔پاکستان بن جانے کے بعد سردار عبدالرب نشترکو اےک بار پھر وزارت مواصلات ہی دے دی گئی۔ 1950ءمےں مغربی پنجاب کے حالات و مسائل کی بھاری ذمہ دارےاں سنبھالنے پر انہےں صوبائی گورنر کا عہدہ تفوےض کےا گےا۔ مغربی پنجاب کی گورنری کے زمانے مےں‘ جبکہ لاہور کا تارےخی شہر ان کا مستقر تھا‘ سردار عبدالرب نشتر نے نظم و نسق کی عمدگی اور مقبولےت کی شاندار مثال قائم کی۔ پنجاب مےں پہلے عام انتخابات کرانے کا سہرا انہی کے سر ہے۔ لےاقت علی خاں کی شہادت کے بعد اس وقت کے وزےراعظم خواجہ ناظم الدےن نے انہےں اپنی کابےنہ مےں شامل کرلےا تھا۔ 1955ءمےں سردار عبدالرب نشترنے پاکستان مسلم لےگ کے صدر کا عہدہ سنبھالا اور اُنہوں نے اےک بار پھر اس تنظےم مےں جان ڈال دی۔ صحت کی خرابی کے باوجود اُنہوں نے ملک کے دونوں حصوں کا دورہ کےا اور عوام کو ےقےن دلاےا کہ لےگ وہی پرانی جماعت ہے جس نے ان کےلئے پاکستان حاصل کےا اور جواب پاکستان مےں جمہوری اقدار کی ترقی کے لئے کوشاں ہوگی۔ لےکن ان کی گرتی ہوئی صحت اس تگ و دو کو برداشت نہ کرسکی اور آخر کار وہ 14فروری 1958ءکو اپنے خالق حقےقی سے جاملے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved