تازہ تر ین

مودی کے انجام کا آغاز؟

عارف بہار
نریندر مودی اس وقت مقبولیت اور بھاری مینڈیٹ کے باعث ہوا کے گھوڑے پر سوا ر ہیں۔وہ طاقت کے اُڑن کھٹولے پر فضاﺅں میں محو پرواز ہیں ۔ان کی سیاسی نظر عالمی مسائل سے نیچے ٹکتی ہی نہیں ۔ارویند کجریوال سیاست سے بے نیا ز دھان پان سا انسان جس کی نظر پانی، صحت اور تعلیم جیسے قطعی مقامی مسائل سے اُٹھتی ہی نہیں ۔ شخصیات اور نظریات کے اس تضاد کے ساتھ دہلی کے انتخابی معرکے میں ” عام“ آدمی نے بھارت کے ” خاص“ ہی نہیں خاص الخاص آدمی کو بدترین شکست سے دوچار کر دیا ۔انتخابات میں ارویند کجریوال کی قیادت میں ستر میں سے باسٹھ نشستیں حاصل کیں جبکہ بھارتی جنتا پارٹی کے حصے میں صرف آٹھ سیٹیں آئیں۔دہلی میں حکومت سازی کےلئے چھتیس سیٹیں درکار ہوتی ہیں۔عام آدمی پارٹی یہ ہدف حاصل کرکے تیسری بار حکومت سازی کی پوزیشن میں آگئی ہے ۔دہلی کا انتخابی معرکہ سر کرنے کےلئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے طاقت اور تحریص کا بھرپور استعمال کیا ۔بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ یوپی یوگی ادتیہ ناتھ نے دہلی میں ڈیرے ڈال کر ووٹروں کو جی لبھانے کی بھرپور کوشش کی مگر دہلی کا ووٹر ان کے جھانسے میں نہ آیا۔دہلی اس وقت مودی کی مزاحمت کا مرکز ہے ۔جامہ ملیہ بھی یہیں ہے جہاں امیت شاہ کے حکم پر پولیس نے طلبہ وطالبات کو پرامن مظاہروں کے حق سے محروم کیا ۔نہرو یونیورسٹی بھی یہیں ہے جہاں طلبہ وطالبات کی تحریک اور لہجے کے باعث بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں ۔ یہاں مسلمانوں کا تہذیبی مرکز جامع مسجد بھی ہے اور حضرت نظام الدین اولیائؒ اور حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ جیسے بزرگان دین کے مزارات بھی ہیں۔اس شہر پر مسلمانوں کے صدیوں کے اقتدار کی چھاپ تہذیبی آثار کی صورت میں نمایاں اور گہری ہے ۔اسی شہر میں راشٹرپتی بھون کی عمارت بھی ہے جہاں نریندر مودی اپنے تمام متعصبانہ فیصلے بھی کرتے ہیں اور یہیں ان فیصلوں کے ردعمل کی سب سے تازہ اور توانا علامت شاہین باغ بھی ہے جہاں مسلمان خواتین اپنے بچوں کے ساتھ سردی گرمی کی پروا کئے بغیرایک بڑے احتجاجی کیمپ میں دھرنا دئیے بیٹھی ہیں۔
یہ سوال تو قبل ازوقت ہے کہ کیا دہلی کی شکست تکبر اور نخوت سے بھرے نریندر مودی کے انجام کا آغاز ہوگی؟ایسا ہو بھی ہوسکتا ہے۔مودی نے ہند وقوم پرستی کو پورے عروج پر پہنچا کر پورا سیاسی فائدہ سمیٹ لیا ہے اب اس سے آگے جانے کی کوئی صورت باقی نہیں ۔ طاقت کی کمزوری کے ابدی اصول کی مطابق اب اس عروج کے ردعمل پیدا ہونے اور ان کے فروغ پزیر ہونے کا مقام اور مرحلہ آچکا ہے۔ بھارتی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق ارویند کجریوال کی جیت کا بنیادی محرک عوامی بھلائی کے کام ہیں۔انتخابی کامیابی کے بعد کجریوال نے نہایت سادہ انداز میں کہا کہ’ ہمیں تو راج نیتی آتی ہی نہیں ہمیں تو کام آتا ہے“۔اس کے ساتھ ساتھ مودی کے شر اور ڈر سے آزاد ہوتے مسلمان ووٹر کے اجتماعی فیصلے کو بھی اس جیت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔شاہین باغ میں بیٹھی خواتین اور جامعہ ملیہ کے پٹتے ہوئے طلبہ نے مسلمان ووٹر کا ڈر بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔شاہین باغ کو نفرت اور خوف کا نشانہ بنانے کی کوشش بھی پوری طرح کی گئی ۔یہاں تک کہا گیا کہ شاہین باغ والے نکل کر دہلی کی عورتوں کا ریپ کریں گے ۔ دہلی کا انتخاب جیتنے کےلئے بی جے پی نے ”پاکستان “ کے نام کا آزمودہ نسخہ دوبارہ آزمانے کی کوشش کی ۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ مودی کابینہ کے ایک وزیر نے یہ تک کہا کہ عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب پاکستان کو ووٹ دینا ہے ۔ایک اور وزیر کا کہنا تھا کہ ارویند کجریوال کو ووٹ دینا دہشتگردوں کو ووٹ دینے کے مترادف ہے اور یہ غداری ہے ۔جس پر ارویند کجریوال نے اپنے روایتی معصومانہ انداز میں ایک جلسے میں لوگوں سے پوچھا کہ میں کیا آپ کو دہشت گرد دکھتا ہوں ؟ اور عوام نے اس سوال کا جواب قہقہے کی صورت میں دیا۔
شاہین باغ سے دھرنا ختم کرنے کےلئے احتجاجی مہم بھی منظم کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہ سب اکارت ہوا ۔”گولی مارو سالوں کو“ جیسے گھٹیا نعروں کی سرپرستی کرکے مظاہرین کو دھمکایا گیااور عملی طور پر دوبار دہلی میں مظاہرین پر گولی چلائی گئی مگر اس بار ہند و قوم پرستی کا سودا دہلی کی حد فروخت نہ ہو سکا ۔مسلمان علاقوں میں ووٹروں نے پوری قوت کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسترد کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پاور بیس کو مضبوط کرنے کےلئے دہشت کو ہتھیار کے طورپر استعمال کیا ۔سب سے زیادہ مسلمان ووٹرکو خوف کا شکار کیا گیا ۔ گزشتہ کئی انتخابات میں مسلمان ووٹر کھل کر اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ نہیں کرسکا مگر شہریت کے متنازعہ قوانین کے بعد بھارتی مسلمانوں نے خوف کی چادر اتار کر پھینک دی ہے اور یہ عمل مسلمان ووٹر کا ماضی کا فعال کردار بحال کرنے پر منتج ہو سکتا ہے۔مودی نے طاقت کے نشے میں جو راستہ اختیا ر کیا ہے اس کا ردعمل ہونا لازمی ہے۔سوا ارب آبادی کا ملک نریندر مودی کے اشارہ ابرو پر رقص نہیں کرسکتا ۔جلد یا بدیر سامنے آنےوالے ردعمل کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کے نقطہ ¿ نظر سے بھارت میں معاملہ افراد اور چہروں کا نہیں ریاست کی معاندانہ روش اور متعصبانہ پالیسیوں کا ہے۔کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی ہر دور میں پاکستان اور کشمیری عوام کے لئے ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا نہیں چلا۔اس لئے بھارت کی سیاست کے زیر وبم پر نظر رکھنی تو چاہئے مگر اس پر زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved