تازہ تر ین

عمران خان سب ٹھیک کر لے گا….

شفیق اعوان
چینل 5 کے پروگرام’ کالم نگار‘ کی ریکارڈنگ کے بعد گھر جا رہا تھا۔ اس دن ضیا شاہد صاحب کے بیٹے اور جناب امتنان شاہد کے بھائی عدنان شاہد کی برسی تھی۔ اللہ پاک اس کے درجات بلند کرے۔ آمین۔ اسی بارے سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ ٹریفک سگنل پر ایک رکشے کے پیچھے لگی ایک فلیکس ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد “ کی تحریر کے نیچے بے نظیر شہید اورنواز شریف کی تصاویرنظر آئیں۔صحافتی تجسس جاگ اٹھا اور گاڑی آگے کر کے شیشہ نیچے کیا اور کنکھیوں سے ڈرائیور کی طرف دیکھا تو کلین شیو صاف ستھرے کپڑے پہنے ایک شخص بیٹھا تھا۔جس چیز سے مجھے جھٹکا لگا وہ اس کے سامنے پڑی امریکی سیاستدانNewt Gingrichکی کتابTrump vs Chinaتھی۔ میرا اشتیاق بڑھا اور میں نے متجسس نظروں سے اسے دیکھا اور سلام کیا ۔پوچھنے لگا خیریت۔ میں نے رکشے کے پیچھے تحریر کے بارے میں پوچھا تو اس کے جواب سے مجھے جھٹکا لگا ۔اس نے شستہ انگریزی میں کہا mind your own business sir… اسی اثنا میں اشارہ کھل گیا اور وہ تیزی سے نکل گیا۔
میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ بالآخر لالک جان چوک پر اس کا رکشہ رکا ،سواریوں سے لین دین سے فارغ ہوا تو میں اتر کے اسکے پاس گیا۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر آئے۔ میں نے جلدی سے اپنا تعارف کرایا اور چائے پینے کے بہانے اس سے کچھ وقت چاہا۔ کہنے لگا کہانی کی تلاش میں ہو۔ میں نے کہا نہیں آپ بیتی۔بھلا مانس تھا مان گیا لیکن رازداری کی شرط کے ساتھ۔ اس نے کتاب اٹھائی اور ہم قریب ہی معروف ٹی وی اینکر علی ممتاز کے کیفے میں بیٹھ گئے۔سچی بات ہے کہ امریکہ کے ایوان نمائندگان کے ایک سابق سپیکر کی کتاب اس کے ہاتھ دیکھ کر میں ذرا مرعوب ہو گیا تھا۔ خیر وقت ضایع کیے بغیر میں مدعے پر آگیا اور اس فلیکس کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کے لیے سوال داغ دیا۔ کہنے لگا آپ کے خیال میں یہ سب کیاہے۔ میں نے کہا تم کم ازکم رکشہ ڈرائیور نہیں ہو۔ کہنے لگا رکشہ ڈرائیور بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ میں جھینپ سا گیا اور مصلحتاً خاموش رہا۔ اس نے بتایا کہ اس نے انگریزی اورانٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹر کی ڈگری لی اور کچھ عرصہ ایک ٹی وی چینل میں بطور ریسرچر بھی کام کیا۔ پی ٹی آئی کے ایک ایجوکیشن بزنس کے ٹائیکون کی نجی یونیورسٹی میں لیکچرار لگ گیا۔ ابا نے اچھے وقتوں میں تمام تر جمع پونجی لگا کر گھر بنا لیا تھا۔ شادی کے بعد ہم نے بھی زیور بیچ کر اوپر ایک کمرہ ڈال لیا تھا۔ ماں، باپ ، ایک بہن، بیٹی اور بیوی سمیت چھ افراد پر مشتمل کنبہ ہے ۔اچھا گزارا ہو جاتا تھا۔ پی ٹی آئی کا سپورٹر اور عمران خان اس کا عشق تھا۔ نواز اور زرداری کی وراثتی سیاست اور لوٹ مار کی کہانیوں سے بہت تنگ تھا۔ کہنے لگا سرکاری یونیورسٹی میں لیکچرار کی آسامی کےلئے درخواست دی۔ میرٹ کی بجائے سفارشیوں کو رکھ لیا گیا۔ وہ عمران خان کی تبدیلی کے نعرے سے امید لگا بیٹھا تھا اور تن من دھن سے اس کے گمنام سپاہیوں میں شامل ہو گیا۔ اپنی گاڑی کو پی ٹی آئی کے ترنگے سے رنگ دیا۔ کہنے لگا ‘اس کا جہاندیدہ باپ سمجھاتا تھا کہ کسی سے اتنی امیدیں نہ لگاﺅ کہ جب بر نہ آئیں تو مایوسی ہو۔ لیکن ہم نے عمرن خان کو نا خدا سمجھ لیا تھا کہ وہی ہمارے بیڑے پار لگائے گا۔
خدا خدا کر کے انتخابات کا اعلان ہوا۔ ہم خوش ہوئے کہ منزل ملنے والی ہے اور عمران خان قوم کو ریلیف کے علاوہ 50 لاکھ گھر ، ایک کروڑ نوکریاں اور ملک و قوم کے لوٹے گئے 200 ارب ڈالربھی واپس لائے گا۔ لیکن پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب دوسری جماعتوں کے بار بار پارٹیاں تبدیل کرنےوالے پی ٹی آئی میں شامل ہوتے چلے گئے۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا‘ یہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھ سے زیادہ خوش فہم بولی کہ خان ٹھیک کر لے گا۔ انتخابات کے بعد پی ٹی آئی اکثریتی جماعت بن کر ابھری لیکن جب حکومت بنانے کےلئے اسے ایم کیو ایم اور دوسری جماعتوں سے ہاتھ ملاتے دیکھا تو ماتھا ٹھنکا لیکن بیوی کا وہی فقرہ یاد آیا عمران سب ٹھیک کر لے گا۔ خیر خدا خدا کر کے عمران خان کی مرکز، پنجاب اور کے پی میں حکومت بن گئی۔ عمران خان کی قومی اسمبلی میں پہلی تقریر پر خوشی ہوئی کہ احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دوسرا جھٹکا تب لگا جب عثمان بزدارکا بطوروزیر اعلی پنجاب انتخاب کیا گیا۔ لیکن میرے ان خدشات کو بیوی کے اس فقرے نے میٹھی نیند سلا دی کہ عمران سب ٹھیک کر لے گا۔
نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ہوگئی۔آصف زرداری، شہباز شریف، خورشید شاہ، خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی سمیت اپوزیشن کے کئی بڑے رہنما گرفتار ہو گئے۔ لیکن جس انداز سے رانا ثنااللہ کو گرفتار کیا گیا ایک بار پھر ماتھاٹھنکا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے لیکن پھر خیال آیا کہ عمران سب ٹھیک کر لے گا۔ ہمارا معاشی ٹائیگر اسد عمر دو دو منی بجٹ لے آیا۔ساتھ ہی ستر سال کا گھسا پٹا نعرہ سننے کو ملا کہ خزانہ خالی ہے حکومت کے پاس غیر ملکی قرضے کی واپسی کےلئے مہنگائی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔نتیجتاً اسد کو بھی جانا پڑا۔ ایک بار پھر ماتھا ٹھنکا لیکن اس بار بیوی نے یہ نہیں کہا کہ عمران سب ٹھیک کر لے گا بلکہ کہا کہ اللہ خیرکرے گا۔ ڈالر کی قدر روپے کے مقابلے میں آسمان پر جا پہنچی۔ بجلی، پٹرول، گیس اور اشیائے ضرورت مہنگی ہونے لگ گئیں۔ عمران خان کو غیر ممالک سے ڈالروں کی بھیک مانگتے دیکھا۔ لاکھوں لوگوں کو بیروزگار ہونے کی خبریں آنے لگیں۔ جب لنگر خانوں، پناہ گاہوں اور انڈے مرغی کی باتیں ہونے لگیں تو ہر وقت نیوز چینل دیکھنے والے ابا نے فکرمندی سے کہابھئی یہ سب ٹھیک نہیں ہو رہا۔ مجھے تو یہ سب کچھ عمران خان کے بس کی بات نہیں لگ رہی۔ یونیورسٹی میں طلبا ءکا ڈراپ آﺅٹ بڑھنے لگا نئے داخلے نہ ہونے کے برابر تھے۔یونیورسٹی سے تنخواہ تاخیر کا شکار ہونے لگی اور بالآخر ایک ماہ کی تنخواہ کے ساتھ فرا غت کا نوٹس بھی مل گیا۔ بیوی نے اللہ خیر کہنا بھی بند کر دیا اور تسبیح و جائے نماز سے جڑ گئی۔ بہن کی رخصتی بھی سر پر آگئی تھی۔ واحد اثاثہ گاڑی بیچ کر یہ فرض بھی جیسے تیسے ادا کر دیا اور خود موٹر سائیکل پر آگیا۔ کافی کا گھونٹ بھرتے ہوے کہنے لگا کہ جہاں بھی نوکری کےلئے گیا تو مایوسی ہوئی۔ نوکری تھی بھی تو تنخواہ کا پتہ نہیں کب ملے گی۔ جمع پونجی بھی ختم ہو گئی بجلی گیس کے بل دینا محال ہو گیا۔ موٹر سائیکل بھی بیچنا پڑی۔جب میری بیٹی کا فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سکول چھٹا تو میں اور میری بیوی بہت روئے۔ کبھی ایسا سوچا ہی نہ تھا۔
تبدیلی کا سارا رومانس اتر گیا۔ پھر ایک اور انہونی دیکھی۔ نواز شریف جیل سے لندن پہنچ گئے۔مریم نواز ، شہباز شریف، آصف زرداری سمیت کئی اپوزیشن لیڈرز ضمانتوں پر رہا ہو گئے۔ چینی آٹے کے بحران کے بعد سمجھ آئی کہ تبدیلی سراب تھا۔ ابا کی بات یاد آنے لگی کہ حکومت کرنا عمران کے بس کی بات نہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ کھانے کے لالے پڑگئے تھے۔ نیک بخت بیوی نے حالات دیکھتے ہوئے اپنی دو چوڑیاں مجھے دیں کہ اس کا بیچ کر کچھ کام کر لیں۔ سوچا تھا بنک سے گاڑی لیز کرا لوں لیکن اس کےلئے بھی بنک اکاﺅنٹ اور ماہانہ تنخواہ درکار تھی۔ اماں اور بیوی پہلے ہی قسطوں اور سود کے خلاف تھیں۔ ہر طرف مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ چاروناچار رکشہ خریدنا پڑا جس سے دال روٹی چل جاتی ہے۔رکشے کی وجہ سے شروع شروع شرم آتی تھی پھر عادی ہو گیا۔ بچی کو ایک سکول میں داخل کروا دیا ہے۔
Trump vs chinaکی کتاب کا پوچھا توکہنے لگا ترجمہ بھی کر لیتا ہوں۔ فلیکس کا پوچھا توکہنے لگا یہ میرا خاموش احتجاج ہے۔ میں نے پوچھا مایوس ہو۔ کہنے لگا کہ پر امید ہونے کی وجہ بھی نظر نہیں آتی۔ کہنے لگا‘ وہ اس منجدھار میں اکیلا نہیں اس جیسے ہزاروں ہیں۔ میں نے عمران خان کے پندرہ ارب کے ریلیف پیکیج کا ذکر کیا تو قہقہہ مار کے ہنسا کہ خان کے اپنے حساب کتاب کے مطابق 20 کروڑ پاکستانیوں کو فی کس 70 یا 75 روپے ملیں گے۔ خان سے پالیسیاں بنانے کی توقع تھی۔ نواز و زرداری کی مری ہوئی مکھیوں پرمکھی مارنی تھی تو وہ ہی بھلے تھے۔عمران خان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved