تازہ تر ین

انقلابی اقدامات کی ضرورت

آغا امیر حسین
دوسری جنگ عظیم کے موقع پر برطانیہ کا برصغیر پاک و ہند پر قبضہ تھا، آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن پھر بھی برطانیہ کی حکومت نے اپنے زیر قبضہ ریاستوں اور علاقوں میں راشن کا نظام نافذ کیا۔ راشن کارڈ کے ذریعے ضروریاتِ زندگی کی چیزیں بازار سے بہت ہی کم قیمت پر دستیاب تھیں اس طرح غریب عوام کو ریلیف دیا گیا تھا۔ آج برصغیر میں آبادی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اس کی وجہ سے اشیائے خورد و نوش کی پیداوار ڈیمانڈ کے مقابلے میں کم ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پیسے کی ریل پیل اور منافع کمانے کے لیے ذخیرہ اندوز بڑی تعداد میں پیدا ہوگئے ہیں ۔وہ جب چاہتے ہیں کسی بھی شے کو ذخیرہ کر کے اس کی قلت پیدا کرکے منہ مانگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ادھر نام نہاد جمہوریت نے ریاست کی رٹ کو کمزور سے کمزور تر کر دیا ہے۔ تقسیم سے پہلے کسی کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ ذخیرہ اندوزی کرکے حکومت کو چیلنج کرے۔ اشیائے خورد و نوش آٹا، چینی، گھی وغیرہ چھوٹی موٹی چیزیں نہیں ہیں ان کو ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے گوداموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو کسی بھی وقت ان گوداموں پر قبضہ کرسکتی ہے لیکن ریاست کے ہاتھ پاﺅں یعنی بیوروکریسی ریاست کی بجائے ذخیرہ اندوزں کے ٹاﺅٹ بن کر ان کی مدد کرتے ہیں۔ کرپشن کی وجہ سے پورے کا پورا ریاستی انتظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نام پر علاقے کی پولیس اور مجسٹریٹ چھاپہ مار ٹیمیں بنا کر چھوٹے دُکانداروں کا چالان تو کرتے ہیں لیکن بڑے سٹوروں اور ہوٹلوں پر کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مشروب کی بوتل پر اگر چھوٹے دُکان دار نے پانچ روپے زیادہ لے لئے ہیں تو اس کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جاتی ہے لیکن اگر وہی مشروب کی بوتل کسی بڑے ہوٹل میں 100 روپے زیادہ پر فروخت ہو رہی ہو تو وہاں جانے کی جرات نہیں کرتے۔ حکومت بالکل بے بس نظر آتی ہے۔ یوٹیلٹی سٹور اور کیش اینڈ کیری کے چند سٹور بنا کر سبسڈی دے کر چیزوں کو سستا فروخت کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔
آج پاکستان میں ہر پاکستانی کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عام ضرورت کی چیزیں چینی، چاول، دالیں، آٹا، تیل وغیرہ بازار سے آدھی سے بھی کم قیمت یعنی برائے نام قیمت پر فراہم کی جائیں۔ گلی گلی ،محلے محلے راشن ڈپو کھول کر اس حلقے میں رہنے والے شناختی کارڈ رکھنے والوں کے راشن کارڈ بنائے جائیں اور انہیں یہ اشیاءفراہم کی جائیں ،اس طرح ہزاروں افراد نئے روزگار سے وابستہ ہو جائیں گے۔ غریب پسے ہوئے طبقے کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔ یہ یوٹیلٹی سٹور وغیرہ مڈل کلاس لوگوں کو تو فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن عام غریب آدمی اس سے استفادہ حاصل نہیں کرسکتا۔ پاکستان میں غریب اور پسی ہوئی عوام حکومت کی خصوصی توجہ کے مستحق ہے ۔ہم نے یہ دیکھا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ہزاروں سرکاری افسروں نے فائدہ اٹھایا، کروڑوں اربوں روپیہ وہ لوگ ہڑپ کر گئے جن کا کام مستحق لوگوں تک وہ امداد پہنچانا تھا۔ اس وقت کسی بھی شعبہ میں آپ کارڈ تقسیم کریں چاہے وہ صحت کارڈ ہو، چاہے کفالت کارڈ، اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکتے۔ سوسائٹی میں کرپشن جڑیں پکڑ چکی ہیں۔ صوبہ KPK میں صحت کارڈ کا بڑا شور ہے پتہ چلا کہ صحت کارڈ جو لوگ بنا کر دے رہے ہیں انہوں نے پرائیویٹ ہسپتالوں کے ساتھ طے کر لیا ہے کہ ہم آپ کے نام صحت کارڈ میں شامل کریں گے آپ ہمارے حصے کا خیال رکھیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے پاکستان میں پہلے سے موجود ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں وغیرہ کا نظام بہتر بنایا جاتا، ہسپتالوں میں ادویات مفت فراہم کی جاتیں، پرائیویٹ پریکٹس کے ذریعے ڈاکٹروں کی لوٹ مار کو ختم کیا جاتا اور ہر پاکستانی کو علاج اور ادویات کی مفت سہولت حاصل ہوتی۔ انگریزوں نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں چار چیزوں کو سروس کا نام دے کر عام لوگوں کے لیے ان کی خدمات پیش کی تھیں ان میں تعلیم، ہسپتال، مواصلات، خوراک اور ریلوے کے ذریعے دور دراز علاقوں میں رابطے کا انتظام کیا تھا اور یہ سب انتظام برائے نام معاوضے پر ہوتا تھا کیونکہ یہ سروس کے ادارے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ہم نے بجائے اس کے کہ سروس کے اداروں کو بہتر بنایا جاتا ہم نے انہیں بھی کمرشل بنا کر غریب آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا۔ تعلیم، صحت، سفر اور خوراک کے پیمانے پیسے کے ترازو میں تولے جانے لگے۔ آج اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ اپنے بچے کو اچھی تعلیم، صحت، خوراک اور لباس مہیا کرسکتے ہیں بصورت دیگر کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ خوراک کےلئے گندگی اور کوڑے میں سے رزق نکال کر کھاتے نظر آتے ہیں۔
پاکستان فلاحی ریاست کے تصور پر وجود میں آیا لیکن انگریزوں کے کاسہ لیس سردار، جاگیر دار، نوابوں اور تمن داروں کی اولادوں نے اسے ”چیانگ کائی شک“ کا چین بنا دیا ہے جبکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ ہم اپنے دوست ملک چین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسے ماوزے تنگ کا چین بنا دیتے۔ آج دنیا میں چین نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ زبردست محنت اور خلوص نیت کے ساتھ قیادت کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ چینی عوام ہر شعبے میں ترقی کرتے کرتے اب عالمی طاقت بنتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکہ جیسا ملک بھی ان کا مقروض ہے۔ ہماری قیادت مدینہ کی ریاست کا ذکر کرتی ہے۔ مدینہ کی ریاست صرف ایک شرط پر بن سکتی ہے کہ حکمران اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر جزا اور سزا کا نظام نافذ کریں۔ کسی بھی ظالم، ڈاکو، لٹیرے کا لحاظ کئے بغیر اسے عبرت کا نمونہ بنا دیں اور جو لوگ ریاست اور اپنی عوام کے لیے خدمت کرتے نظر آئیں ان کی خدمات کو سراہا جانا چاہیے۔ ملاوٹ کسی بھی قسم کی ہو اور کرپشن کی سزا موت ہونی چاہیے۔ ہمارے سامنے کئی ماڈل موجود ہیں۔ آج کے زمانے میں ہم مافیا کا ذکر تو سنتے ہیں لیکن مافیا کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ مافیاز کی جڑیں بہت مضبوط ہیں وہ اپنے راستے میں رکاوٹ بننے والے اداورں اور اشخاص کو خرید لیتے ہیں یا ختم کروا دیتے ہیں۔ ہمارے سامنے ایان علی کا کیس ہے جس کسٹم انسپکٹر نے اسے پکڑا تھا مقدمہ شروع ہونے سے پہلے وہ سر عام قتل کر دیا گیا۔ آج ایان علی بھی اسی طمطراق سے پھرتی نظر آتی ہیں۔
ابھی حال ہی میں ہمارے ملک میں آٹے کا شدید بحران شروع ہوا جن کسٹمز آفیسر نے ہزاروں ٹرک آٹا افغانستان سمگل کروایا تھا جس کی پاداش میں انہیں برطرف کر دیا گیا تھا ان کے بارے میں تازہ ترین خبر یہ ہے کہ طور خم کسٹم انکوائری ”افسران کے خلاف الزامات غلط قرار دے دیئے گئے“۔ اب وہ واپس اپنی ڈیوٹی پر آ جائیں گے یہ اور اس طرح کے بے شمار واقعات آئے دن دیکھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی ساری قوم دیکھ اور سن رہی ہے۔ مجال ہے جو مہنگائی، بے روزگاری اور ملک کے سیکیورٹی کے مسائل پر کبھی کوئی بات کرتا ہو۔ لٹیروں، ڈاکوﺅں کی موج ظفر موج ایک دوسرے کو گالیاں دیتی نظر آتی ہیں۔ا ن کی جنگ صرف اور صرف اقتدار کی جنگ ہے اس نے اتنے ارب لوٹ لیے اس نے اتنے ارب لوٹ لیے، لوٹ کے مال پر لندن میں جشن مناتے نظر آتے ہیں ۔کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ مفرور سزا یافتہ لیڈر کس منہ سے پاکستان کے عوام کے سامنے آکر سیاسی انتقام کا رونا روتے ہیں۔ کیا پاکستان کے عوام اتنے بیوقوف ہیں کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ سزا یافتہ آدمی جھوٹ بول کر بیرون ملک جا بیٹھا اور اب اپنی سزا یافتہ بیٹی کو بھی تیمار داری کے بہانے بلانا چاہتا ہے اور دھمکی دیتا ہے کہ اگر میری بیٹی نہ آئی تو میں آپریشن نہیں کرواﺅں گا۔ اگر اس کی بیٹی کا آپریشن تھیٹر میں ہونا ضروری ہے تو ”واٹس ایپ“ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہماری اللہ تبارک وتعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں ایمان دار، نیک نیت اور مضبوط اعصاب کی مالک قیادت عطا کرے جو ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر پاکستان کو ایک فلاحی مملکت میں تبدیل کرسکے۔ آمین!
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved