تازہ تر ین

کوئی ویرانی سی ویرانی ہے

محمد فاروق عزمی
چچا غالب جانے کس دشت سے گزرے کہ انہیں وہاں کی ویرانی دیکھ کر اپنے گھر کی ویرانی اور وحشت یاد آئی اور وہ کہہ اٹھے کہ ”کوئی ویرانی سی ویرانی ہے“لیکن ہمیں تو اس گھر کا دروازہ دیکھ کر ہی وحشت ہونے لگتی ہے۔ اور ویرانیاں دل میں اتر آتی ہیں۔ جس گھر نے ہم 22کروڑ پاکستانیوں کو ماں کی آغوش کی طرح اپنی مہربان پناہوں میں لے رکھا ہے۔ 1947ءمیں قیام پاکستان کے وقت لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے قافلے لاہور اور گنڈا سنگھ کے راستے اپنے خوابوں اور ارمانوں کی سر زمین میں داخل ہو کر سب سے پہلے جس جگہ قیام پذیر ہوئے وہ والٹن کا تاریخی ریفیو جی کیمپ تھا۔ اس جگہ کا نام ”باب پاکستان “ تجویز کیا گیا جواب آتے جاتے ہمارا دل جلاتا ہے اور ہماری آنکھوں میں ویرانیوں کے منظر اتر آتے ہیں۔ ہمارا آشیانہ بھی چونکہ والٹن روڈ پر ہے اور یہ آنا جانا بھی روز کا معمول ہے، لہذا وحشت ناک یہ مناظر بھی ہمیں روز دیکھنے پڑتے ہیں جو کسی ناگن کی طرح ہمیں ڈستے رہتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں چشم فلک نے شاید ہی کبھی اتنی بڑی ہجرت کا نظارہ کیا ہو۔ بارڈر کراس کر کے لاکھوں انسانوں نے سجدہ شکر بجا لانے کے بعد ” قیام“ کےلئے جہاں صف بندی کی، والٹن کے اس تاریخی مقام پر حکومت پاکستان نے ایک یادگار تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی اور اس پر کام بھی شروع ہوا۔ یہ جگہ پاکستان کی تاریخ میں اہم ترین حیثیت کی حامل ہے۔ یہاں پہنچنے والے لاکھوں انسانوں نے بے شمار قربانیاں دے کر آزادی کے دیئے روشن کیے تھے۔ لیکن اب یہاں کے اندھیرے بس ہمارا لہو جلاتے ہیں۔ مہاجرین کے اس والٹن کیمپ کی یوں بھی تاریخی اہمیت ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان نے یہاں کا دورہ بھی کیا تھا ، لہذا والٹن روڈ پر یہ قطعہ اراضی قومی ورثے کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔
جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اس وقت کے پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی نے 1985ءمیں اس جگہ پر ایک قومی یاد گار تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی جسے حکومت نے منظور کر لیا ، اس کا نام باب پاکستان رکھا گیا، اور اس یاد گار کو ڈیزائن کرنے کےلئے نیشنل کالج آف آرٹس سے تعلیم یافتہ آرکیٹیکٹ امجد مختار کو ذمہ داری سونپی گئی۔ اسے ڈیزائن کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا کہ اس تاریخی یادگار سے ہماری تہذیب، اسلامی روایات، ہماری ثقافت اور پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کی عکاسی ہوتی۔ ضیاالحق کے دور میں ہی اس پراجیکٹ پر کام شروع ہو گیا لیکن 1988ءمیں جنرل ضیاالحق کے طیارے کے حادثے کے بعد ”باب پاکستان “ کا منصوبہ پس پشت چلا گیا۔ 1991ءمیں میاں محمد نوازشریف نے پھر اس پراجیکٹ پر کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ لیکن وہ سیاسی معاملات میں الجھے رہے لہذا سیاسی عدم استحکام کے باعث قومی یادگار کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ۔پھر صدر پرویز مشرف نے ایک نئے عزم کے ساتھ باب پاکستان کی تعمیر کا اعلان کیا اس قطعہ اراضی پر موجود آرمی کے مسکن کو یہاں سے منتقل بھی کیا اور 14اگست یوم آزادی کے دن اس کا سنگ بنیاد رکھا اور اس منصوبے پر کام شروع کیا ۔ اس کی تعمیر کےلئے پنجاب کے گورنر ریٹائرڈ جنرل خالد مقبول نے بھی کوششیں کیں لیکن اس کے باوجود یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم اور ایک سابق صدر اپنے اپنے دور حکومت میں اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ چکے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ تاحال التواءکا شکا ر ہے۔ تقریباً 117ایکڑ زمین ادھوری تعمیرات اور لاکھوں کی مشینری بے کار اور ناکارہ ہو کر حکومتوں کی بے حسی ، لاپرواہی اور غفلت کا واضح ثبوت پیش کر رہی ہے۔ اب تک پراجیکٹ کا صرف 20،25فی صد کام مکمل ہوا ہے اور وہ بھی اب تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ تقریباً اڑھائی ہزار ملین روپے کا یہ پراجیکٹ اپنی مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کے باعث مزید مہنگا ہو گیا ہے اور اب اس کی تعمیری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ جبکہ اب تک ہونے والے 25فیصد کام پر ساڑھے آٹھ سو ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اس قومی نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کسی حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور سنجیدگی کے ساتھ اس منصوبے کے التواءکی وجوہات کا جائزہ نہیں لیا۔
یہ منصوبہ پاکستان بنانے والوں کی جدوجہد اور اس کے لئے قربانیاں دینے والوں کی کہانی کا عنوان ہے۔ یہ اس داستان کا مضمون ہے جسے لاکھوں بے گناہوں کے خون کی سرخی سے لکھا گیا ۔ یہ ہجرت کر کے پاکستان آنے والی ان بہنوں، بیٹیوں کی کہانی ہے کہ جن کے عفت مآب بدن سے چادریں نوچی گئیں۔ یہ ان ماﺅں کا قصہ ہے جن کے شیر خوار بچوں کو نیزے کی انیوں پر اچھالا گیا۔ یہ آبلہ پائی کا سفر تھا جسے کسی صورت بھلایا نہیں جا سکتا۔ اس کی تعمیر سے ہماری آئندہ نسلوں کو اپنے آباﺅ اجداد کی دلخراش قربانیوں اور جدوجہد سے آگاہی کا درس ملنا تھا کہ پاکستان ہمیں کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا ۔ ہم اپنی نئی نسل کو کیا جواب دیں گے؟ کہ تقریباً تیس سال گزرنے کے باوجود ہم پاکستان کے ”گیٹ وے“ کی تعمیر بھی مکمل نہ کر سکے۔ ہمیں اس سوال کا جواب کون دے گا کہ باب پاکستان کا منصوبہ کیوں مکمل نہ ہو سکا۔ میں جب کبھی شام کے وقت یہاں سے گزرتا ہوں تو دل میں اتری شام اور گہری ہو جاتی ہے۔ یہ ویرانیاں اور وحشتیں مجھے گھیر لیتی ہیں۔ مجھے پھر سے غالب کا مصرعہ یاد آنے لگتا ہے ۔کوئی ویرانی سے ویرانی ہے۔ یہ ویرانی کب تک پاکستانی قوم کی قسمت میں لکھی رہے گی۔ کوئی ہے جو ہماری آواز سنے؟ اس ادھورے کام کو مکمل کرے؟
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved