تازہ تر ین

استنبول کی سلےمانےہ لائبرےری

سلمیٰ اعوان
سچ تو ےہ ہے کہ سلےمانےہ لائبرےری مےں جانا اور اےک ہزار سال سے زےادہ کے ترک اسلامی کلچر کے فکری و علمی خزانوں کے مخطوطوں اور مسودات کو دےکھنا گوےا اپنے آپ کو اس علمی ماحول مےں تھوڑی دےر کےلئے محسوس کرنا اور سانس لےنا ہی خدا کی ہمارے اوپر اےک بڑی عناےت تھی۔ اس عظےم الشان ورثے کے سامنے جب مےں کھڑی تھی اےک تلخ اور حقےقت پسندانہ سوچ بھی ذہنی دروازہ کھولتی اندر آئی تھی۔ قومےں جب عروج پر ہوتی ہےں تو پھر طب ہو، انجئنےرنگ ہو، ادب ےا فنون لطےفہ ہر شاخ پھلتی پھولتی اور پھلوں پُھولوں سے لدتی اور نوازتی چلی جاتی ہے۔سلےمانےہ دور بھی اےسا ہی تھاجب دل اور دماغ نے ہاتھوں مےں ہاتھ دے کر مشرق و مغرب کی فکری رسائی حاصل کی۔
استنبول کی سلےمانےہ لائبرےری کمپلےکس استبول کا اےک قےمتی اثاثہ ہے۔مسجد سے اےک تنگ اور لمبا سا راستہ مدرسے اور لائبرےری تک جاتا ہے۔لائبرےری الگ ہے اور قدےم علمی خزانے کو محفوظ رکھنے کا شعبہ الگ کردےا گےا ہے۔اِسے پہلا کتابی شفاخانہ کا نام دے لےں۔پہلے ہم اسی جانب گئےں۔ اندر جا کر معلوم ہوتا ہے کہ کِس درجہ شاندار انتظامات اِن مخطوطوں اور مسودوں کی حفاظت کے کےلئے کئے گئے ہےں۔جن کے اندر نوّے فےصد ترک اسلامی دنےا اپنے ثقافتی خزانوںاور افکار کے موتےوں کی صورت عربی اور فارسی رسم الخط مےں کاغذات پر بکھری ہوئی ہے۔ لائبرےری کو جب سے ےونےسکوunescoنے اپنے چارج مےں لےا ہے اسے جدےد خطوط پر محفوظ اور استوار کےا جارہا ہے۔ سےما اور مےرے لئےے کےا ےہ کسی اعزاز سے کم تھا کہ ہم طب کی دنےا کی اُس عظےم ہستی بو علی سےنا جسے مغرب Avicenna کہتی ہے کی طبی کتابےں اس کی اپنی تحرےر مےں لکھی دےکھتی تھےں۔کتاب الشفاءمےرے سامنے شوکےس مےں دھری تھی جس کے بارے مےں پتہ چلا تھا کہ اُسکے کچھ حصّوں کو پھپھوندی نے نقصان پہنچاےا تھا۔بہت سے صفحات آپس مےں جڑ گئے تھے اور وہ علےحدہ کرنے کی کوشش مےں پھٹ رہے تھے۔ہر جدےد حربہ استعمال مےں لاکر انہےں محفوظ کرکے نئی صورت دی۔ سلےمان ذی شان کی مہر لگی کتنی بہت ساری اہم دستاوےزات اور اولےا ءآفندی کا سےاحت نامہ ۔
جذباتیت نے آنکھوں کو گےلا کردےا تھا۔
لائبرےری کے ڈائرےکڑ Nevzat Kaya ہماری خوش قسمتی سے اُس وقت موجود تھے۔انہوں نے فرےم کےے ہوئے منصور بی محمد احمد کی انسانی اعضاءکی ڈراےنگ دکھائی۔عثمانی دور کے عالم بشےر آغا کے نباتات سے بننے والی دوائےوں کے منی اےچر پنٹےنگ اور ان کی عربی تحرےر مےں مسودہ بھی نظروں کے سامنے تھا۔تھوڑی سی اس کی تارےخ پر بھی انہوںنے روشنی ڈال دی۔ 1918مےں جب اندرونی ابتر حالات کی وجہ سے حکومت کی لائبرےرےوں پر وہ توجہ نہ رہی تو اِس سارے سرمائے کو اےک جگہ اکٹھا کےا گےا۔اس مےں ترکی کے بہت سارے اضلاع خاص طور پر اناطولےہ نے بہت کردار ادا کےا۔ےہ تہذےبی سرماےہ پتھروں پر کندہ کاری اور کاغذوں پر تحرےری صورت مےں سامنے آےا۔ےہ بلقان سے اےشےا اور افرےقہ مراکش سے ہندوستان ،ترکستان سے ےمن تک کا نوّے فےصد فکری سرماےہ جہاں جہاں جس جس جگہ موجود تھااکٹھا کرکے اُسے ےہاں محفوظ کےا گےا۔ملک بھر مےں صاحب علم و دانش لوگوںنے اِس کارخےر مےں حصّہ لےا۔اسی طرح ہزار سال سے بھی زےادہ کا ترک اسلامی ثقافتی ورثہ 117022جسمےں 67350مسودات کی صورت اور 49663کتابوں کی شکل مےں اِسے ہنگامی اور سائنسی بنےادوں پر منظم کےا گےا۔پہلا بُک ہوسپٹل بناےا گےا۔1950سے ےہ سلسلہ شروع ہے۔
ہم مختلف کمروں مےں گئے۔جہاں ہم نے انہےں جدےد شوکےسوں مےں رکھے دےکھا۔پھٹے ہوئے کاغذات کی چرمی جلدےں کرنے، انہےں محفوظ کرنے، انہےں کےڑوں سے بچائے رکھنے کےلئے جدےد طرےقے استعمال ہورہے ہےں۔ےہاں مائےکروفلم سروس ،جلدبندی اور پتھالوجی سروس ہوتی تھی۔ کام جدےد بنےادوں پر ہورہا ہے۔پھٹے پرانے مسودات، اہم کاغذات اور دستاوےزات ان کی بھی مرمت کہےں ان کی جلدےں ،کہےں چرمی اور کہےں عام کےڑوں سے بچانے کےلئے اُن کا علاج اور سپرے ۔پھر انہےں نمبر لگا کر ترتےب سے شوکےسوں مےں رکھنا سبھی کچھ اس اثاثہ کو محفوظ رکھنے کےلئے کےا جارہا ہے۔ جب ہم ان کے کمرے مےں بےٹھے قہو ہ پےتے تھے۔ مےںنے سوال کےا تھاکہ وہ کےا سمجھتے ہےںترک زبان کا رسم الخط تبدےل کرنے سے ترک قوم کی نئی نسل قدےم،عظےم،تہذےبی،ثقافتی اور روحانی ورثے سے محروم نہےں ہوگئی ۔ےہ اثاثہ عربی رسم الخط کی صورت لئےے بند المارےوں،شوکےسوںمےںکتابوں اور مخلوطوں کی صورت سجا ہوا ہے۔جن کے صفحات پر حکمت و دانائی کے موتی بکھرے ہوئے ہےں اورا نہےں چُننے والے نہےں۔ترک زبان کا رسم الخط تبدےل کرکے ترک قوم کو اس کے ماضی سے کاٹ کر نہےں پھےنک دےا ہے۔ انہوں نے قہوے کا گھونٹ بھرا اور متانت سے کہا۔
کِسی حد تک آپ کی بات سے مجھے اتفاق ہے کہ ہمارے بچے اُس سب سے ناآشنا ہےں جو ہماری وراثت ہے کےونکہ مےرے ذاتی تجربے کے مطابق جو کچھ بھی ہم ترجمہ کرکے شائع کرتے ہےںاسمےں غلطےوں کے بہت سے امکان ہوتے ہےں۔چلئےے وسائل کی فراہمی تو کِسی نہ کِسی انداز مےں ممکن ہے۔مگر مسئلہ وقت اور تےز رفتاری کا ہے۔دنےا بڑی سرعت سے آگے بڑھ رہی ہے۔ چند لمحوں کےلئے وہ رکے۔انہوںنے دھےرے سے شےشے کی چھوٹی سی گلاسی سے قہوے کاآخری گھونٹ بھرا اوراُسے ٹےبل پر رکھتے ہوئے گفتگو کو جوڑا۔ 1928 مےں ”حرف انقلاب “کاآغاز ہوا۔اس وقت ترکی کی شرح خواندگی افسوسناک حد تک کم تھی صرف بارہ فےصد۔اتاترک جےسا وژن رکھنے والا لےڈر اِس امر سے آگاہ تھا کہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کےلئے قوم کا پڑھا لکھا ہونا کتنا ضروری ہے۔دراصل عثمانی ترکوں نے زبان کو مشکل بنا دےا تھا۔فارسی اور عربی کا ذخےرہ الفاظ شامل کرنے سے ےہ عام آدمی کےلئے مشکل ہوگئی تھی۔رسم الخط بھی عربی مےں تھا۔تارےخ بتاتی ہے کہ قدےم ترکی زبان کا اپنا رسم الخط کوئی نہےں تھا۔قسطنطنےہ ،اےشےائے کوچک اور ترکستان کے ترکوںنے مسلمان ہونے کے ناطے عربی رسم الخط کو اپناےا۔تب ان کے پےش نظر اسکے آسان ےا مشکل ہونے کا مسئلہ نہ تھا۔ ےہ کرےڈٹ بہر حال اتاترک کو جاتا ہے کہ اس کے تےز ترےن اقدامات نے ترک قوم کو قلےل عرصے مےں 60% کی شرح پر پہنچا دےا تھا۔بہرحال ےہ بھی اےک تارےخی حقےقت ہے کہ اتاترک کے چاروں اہم رفقاءمےں سے کسی حد تک سبھی مگر خصوصی طور پر عصمت انونو کے پےش نظر نئی ترک نسل کو اسلام کے دائرہ اثر سے باہر نکالنا بھی تھا۔اس کا اظہار انہوںنے اپنی بائےو گرافی مےں کےا ہے ۔تاہم ےہ بھی وقت کا تقاضا تھا کہ ہم اور ہماری زبان جدےد رحجانات سے اپنا دامن بھرتی۔مغرب نے علم کو،ادب کو،گونا گوں تجربات سے مالا مال کررکھا ہے۔مشرق فکری طور پر انحطاط کی طرف مائل ہے۔فکر ی سوتے تو مغرب سے پھوٹ رہے ہےں۔
مےں چاہتی تھی کہ اپنی ناقص عقل کے مطابق اس کا جواب دوںکہ ےہ بھی تو دانائی نہےں کہ صدےوں پرانے اپنے اثاثے منجمند کردےں۔تارےخ مےں جھانکا جائے تو معلوم ہوگا کہ اب نئے خزےنوں کے حصول کےلئے لاطےنی رسم الخط کی طرف لپک پڑنے کی بجائے اپنی ہی چےزوں کو نئے رنگ دےنے ،انہےں نئے سانچوں مےں ڈھالنے اور بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اُسے مزےد مالا مال بھی تو کےا جاسکتا تھا۔مےں بہت سے ملکوں کے نام لےنا چاہتی تھی جو ترقی ےافتہ ہےں۔جن کی زبان مشکل ہے جےسے جاپان،چےن اور اسرائےل۔ خےر اسرائےل نے تو کمال ہی کےا کہ جس نے اٹھارہ صدےوں سے نہ بولنے والے عبرانی جےسی مردہ زبان کو زندہ کرکے اپنے ماتھے پر سجا لےا۔ مگرمےں چپ رہی۔مےں تےسری دنےا کے اےک شورش زدہ ملک کی باسی اےسے اہم فےصلوں کی گہرائی کےا جانوں۔میں نگوڑی تو اتنا جانتی ہوں کہ ہم تو اپنی قومی زبان اردو کو ہی ابھی تک مکمل طور پر اپنا نہیں سکے۔تعصبات میں ہی اُلجھے رہتے ہیں ۔اب تھوڑی سی جدید ترک شاعری سے بھی لطف اندوز ہوں۔اورہن ولی اور ناظم حکمت جیسے معتبر شاعر کیا کہتے ہیں۔
تنہائی ( اورہن ولی)
وہ جو اکےلے نہےں رہتے کب جانتے ہےں
خاموشی بندے کو کتنا خوف زدہ کرتی ہے
خود سے کوئی کتنی دےر باتےں کرتا ہے
کتنی بار شےشوں کی طرف دوڑا جاتا ہے
کسی ذی روح کی تمنا اور خواہش کرنا
وہ اسے کب جانتے ہےں
(ناظم حکمت)
جےل کے اندر گلاب کے پھولوں بارے سوچنا تو ٹھےک نہےں
ہاں سمندر اور پہاڑوں بارے سوچنا اچھا ہے
گھڑی دو گھڑی آرام کئےے بغےر پڑھتے لکھتے رہو
اب اےسی بھی بات نہےں کہ تم
دس پندرہ سال جےل مےں گزار نہ سکو
گزار سکتے ہو جب تک کہ وہ موتی
جو تمہارے سےنے کے بائےں جانب ہے
اپنی چمک نہےں کھو بےٹھتا
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved