تازہ تر ین

اقرا کائنات ہم شرمندہ ہیں!

کامران گورائیہ
کاشانہ یتیم خانہ سمیت بہت سے دیگر رفاعی اداروں کے راز جاننے والی نوجوان لڑکی اقرا کائنات کی پر اسرا موت نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ کاشانہ یتیم خانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اقرا کائنات کی ہلاکت پر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ارباب اختیار سے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ افشاں لطیف کو کچھ عرصہ قبل ایک صوبائی وزیر پر یتیم خانہ کی بچیوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگانے پر اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے افشاں لطیف کے الزامات سامنے آنے کے بعد انکوائری کمیشن بنایا تھا جس نے صوبائی وزیر کو بے گناہ اور افشاں لطیف کو جھوٹا قرار دیکر نوکری سے برخواست کر دیا تھا۔ اقراءکائنات کی ہلاکت پر افشاں لطیف ایک بار پھر متحرک نظر آرہی ہیں۔ انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اقرا کائنات بچپن ہی سے رفاعی اداروں میں پلی بڑھی تھی اور اس کے سینے میں رفاعی اداروں میں ہونے والی زیادتیوں کے بہت سے راز محفوظ تھے۔ افشاں لطیف کا کہنا تھا کہ اقرا کائنات کی شادی میں نے خود کروائی اور شادی کی اس تقریب میں 250 مہمان شریک تھے۔ اس وقت اقرا کائنات کی عمر 22 برس تھی لیکن 16 دسمبر 2019ءکو اقرا کائنات کو اس کے سسرال سے اغوا کروایا گیا اور اس سے میرے خلاف یہ بیان لیا گیا کہ اس کی شادی بالغ العمری سے پہلے زبردستی کروائی گئی۔ افشاں لطیف نے کہا کہ اب بھی کاشانہ یتیم خانہ میں پناہ گزین بہت سے بچیوں کی جان کو خطرات لاحق ہیں ۔
اقرا کائنات کو لاوارث قرار دے کر دفنا دیا گیا ہے لیکن اس کی موت کیسے ہوئی؟ وہ کیا حالات تھے کہ اقرا کائنات نے اپنی زندگی کا خاتمہ اپنے ہی ہاتھوں سے کر لیا۔ یہ تمام سوالات چیخ چیخ کر حکمرانوں اور معاشرے کا منہ چڑا رہے ہیں کہ یتیم خانوں میں رہنے والے بچے اور بچیوں کو جانوروں سے کم تر سمجھا جاتا ہے کوئی ان کے دکھ سکھ کا ساتھی نہیں ہوتا اور سانس کی ڈوری ٹوٹ جانے پر اقرا کائنات جیسے لوگوں کو لاوارث قرار دے کر سپرد خاک کر دیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں قید خواتین قیدیوں کے ساتھ رات کے وقت بدسلوکی کی جاتی ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس طرح کے واقعات جیل کے عملے کی ملی بھگت کے بغیر نہیں ہوسکتے اور اب تک ذمہ داروں کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رحمان ملک کی سربراہی میں ہونےوالے اس اجلاس میں داخلہ امور کے وزیر مملکت سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسے واقعات کے بارے میں معلومات جمع کرکے کمیٹی کو آگاہ کریں۔اجلاس میں تجویز دی گئی کہ مردوں اور خواتین قیدیوں کی جیلیں فاصلے پر بنائی جائیں اور خواتین کی جیلوں میں عملے کے علاوہ خواتین سپرنٹنڈنٹ تعینات کی جائیں۔اُس وقت تک پاکستان میں خواتین قیدیوں کے لیے تین جیلیں بنائی گئی جن میں ایک صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر ملتان میں دوسری کراچی میں جبکہ صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر ہری پور میں خواتین قیدیوں کے لیے کیمپ جیل بنائی گئی۔اُس وقت پورے ملک میں نوے سے زائد جیلیں ہیں جن میں خواتین قیدیوں کےلئے الگ سے بیرک بنائی گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن )پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کاشانہ ہاﺅس کی سپرنٹنڈنٹ کے انکشافات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ افشاں لطیف نے حکومتی وزرا اور اعلی شخصیات پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔افشاں لطیف نے حکومتی کارندوں کو بے نقاب کیا تو ان کاتبادلہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے۔کاشانہ ہاﺅس اور دارالامان میں بچیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے،سیاہ کاریوں میں حکومتی شخصیات کا ملوث ہونا حکومت کیلئے انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے بھی اقرا کائنات کی پر اسرار ہلاکت کی مذمت کی گئی۔ جماعت اسلامی کا یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ لاہور میں یتیم اور بے سہار ا بچیوں کی پناہ گاہ کا شانہ ویلفیئر ہوم کی سابقہ سپرنٹنڈ نٹ کے الزام انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور دارالامان کی بچیوں کو انصاف دلانے کے لئے عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بعض حکومتی شخصیات مالی ہی نہیں بلکہ اخلاقی کرپشن میں بھی ملوث ہیں،جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزیر فی الفور استعفیٰ دیں اور عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ آزادانہ تحقیقات سے ہی قوم کو اصل حقائق معلوم ہوسکیں گے۔ افشاں لطیف کو دباﺅ میں لانے اور دھمکیاں دینا شرمناک فعل ہے۔ انھیں حکومت اور عدلیہ مکمل تحفظ فراہم کرے۔ بد قسمتی سے معاشرے کی ستائی ہوئی مظلوم بچیوں کو دارالامان میں بھی امان حاصل نہیں ہے۔ قوم کو ایسی شرمناک تبدیلی قابل قبول نہیں ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ دارالامان کی بچیوں کے حوالے سے یہ کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔بلکہ ماضی میں بھی اس قسم کے واقعات میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں۔ اگر اس وقت ہی ان معاملات کو سنجیدگی سے ہینڈل کرلیا جاتا تو ایک مرتبہ پھر ایسی خبریں میڈیا کی زینت نہ بنتیں۔ جب ڈارک ویب سائٹس کے لیے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے افراد حکومتی صفوں سے نکلیں گے تو حکمرانوں کے کردار پر انگلیاں اٹھیں گی۔عوام میں اس حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ افشاں لطیف نے اپنے ایک بیان میں خاتون اول بشری بی بی سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقرا کائنات کی پر اسرار ہلاکت پر انکوائری کروائیں کیونکہ وہ بھی ایک عورت ہیں لیکن بشری بی بی سمیت کسی بھی حکومتی عہدیدار نے اقرا کائنات کی موت کا نوٹس نہیں لیا۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس ملک کے غریب عوام کے زخموں پر مرہم کون رکھے گا؟ اقرا کائنات کی پراسرار ہلاکت پر ریاستی اداروں کی روایتی سستی کب ختم ہوگی؟ ظالم ظلم کر کے کھلے عام گھومتا ہے اور افشاں لطیف جیسے افراد کی آواز کو بھی دبانے کی سازش کی جاتی ہے اور انہیں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے لیکن اقرا کائنات کا ایشو کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اس نوجوان لڑکی کی پراسرار ہلاکت پر سوالات کیے جاتے رہیں گے۔ سانحہ ساہیوال ہو یا اقرا کائنات کی پر اسرار ہلاکت سوال تو اٹھایا جائے گا جب تک جواب نہیں ملتا اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا نہیں دیا جاتا۔ افسوس اقرا کائنات ہم تم سے شرمندہ ہےں۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved