تازہ تر ین

تاریخ، پاکستان اور گوادر

جاوید کاہلوں
انسانی تاریخ کے گزرے تقریباً دو ہزار برس کی تاریخ پر ایک حاشیہ سا لگا کر نظر کریں تو ہمیں تب کی دنیا دو بادشاہتوں میں منقسم دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف بحیرہ روم کے اُس پار رومن بادشاہ تھے، تو اِس طرف مملکتِ ساسان یا ایرانی شہنشاہ تھا۔ اپنے تئیں وہ قیصر و کسریٰ کہلاتے تھے۔ انہی ایام میں ریاست مدینہ اٹھی تو طاقت کا مرکز دمشق بن گیا۔ یہاں پر ایک مسلمان خلیفہ حکومت کرتا تھا اور اس کا تصرف تین براعظموں پر محیط تھا۔ خلیفہ کا دارالحکومت دمشق سے بغداد اور پھر استنبول منتقل ہوا۔ اس طرح سے چہار سو مسلمانوں کے خلیفہ کا سکہ چلتا رہا اور یہ سلسلہ ہزار برس سے بھی کچھ اوپر رہا۔ مسلمان دور زوال پذیر ہوا تو طاقت کے مراکز یورپ میں لندن اور فرانس کے شہر بن گئے۔ ان دونوں قوتوں نے پورے افریقہ اور ایشیاءپر نہایت چابکدستی، عیاری اور ہوشیاری سے اپنا تسلط جمایا۔ لندن اور فرانس کے گرد و نواح سے جرمنی اور اٹلی نے مالِ غنیمت سے حصہ چاہا تو اسی کشمکش میں پہلی جنگ عظیم اور بعد میں دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔ درمیان ہی میں چونکہ یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ جدید ٹینک اور توپوں نے تیر اندازوں اور گھوڑوں کی جگہ لے لی تھی۔ وسیع تباہی مچانے والا گن پاﺅڈر اور دھماکہ خیز مواد دریافت ہو چکا تھا، لہٰذا اب جنگ میں تیزی اور شدّت آ چکی تھی۔ دو عالمی جنگیں لڑنے سے یورپ کمزور ہوا تو دنیا کی چودراھٹ اور اقوامِ متحدہ امریکہ اچک کر لے گیا۔ آج تلک یہی امریکہ دنیا بھر میں دندنا رہا ہے اور اپنے کھوٹے سکے بھی بھرپور مالیاتی پریشر سے چلا رہا ہے۔ مگر چشم بینا رکھنے والے اب محسوس کر سکتے ہیں کہ تقریباً ایک صدی سے مسلط امریکہ کو بھی اب چیلنجز درپیش ہیں اور طاقت کا گلوبل مرکز اب امریکہ سے شفٹ ہو کر واپس ایشیاءآ رہا ہے۔ امریکن اسٹیبلشمنٹ دن رات کوشاں ہے کہ کسی طور روئے زمین پر ان کا جادو بحال رہے۔ مگر یہ فیصلے تو یقینا زمین کی بجائے آسمانوں میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ اوپر والے فقط زمین ہی نہیں بلکہ کائنات میں پھیلی کروڑوں ایسی زمینوں کے نظام کو جاری رکھنے پر مامور ہیں اور ”بہترین فیصلہ ساز“ کے فیصلوں کو نافذ کر کے چھوڑتے ہیں۔
لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ اب آنے والی صدی میں دنیا کی سرداری کا تاج ایشیاءکے سر سجے گا۔ کہ سدا کے ”شہنشاہوں کے شہنشاہ“ کی یہی سنت ہَے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسی سرداری میں بڑا کھلاڑی کون ہو گا، اور اس کے شریک کار دوسرے کھلاڑی کون کون سے ہونگے ۔ غالب امکان ہے کہ یہ بڑا کھلاڑی چین ہو گا۔ کیونکہ وہی ایک عسکری اور معاشی جِن بن کر اُبھر رہا ہَے جو کہ موجودہ ”چوہدری“ کے لئے ایک مکمل چیلنج بن کر سامنے آ چکا ہے۔ تذویراتی سطح پر برسہا برس کی سوچ بچار کے بعد چین نے ”ون بیلٹ، ون روڈ“ کے نام سے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جس سے کہ دور و نزدیک سے مختلف چھوٹے بڑے ممالک اس کے حلیف بنتے جائیں گے۔ اس چینی منصوبہ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک سے بالعموم اور بالخصوص ایشیائی ممالک میں نئی نئی صف بندیاں تشکیل پانا شروع ہو چکی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی صف بندی آبنائے ملاکہ والے ملک ملائیشیا، آبنائے باسفورس والے ترکی اورآبنائے خلیج فارس کے دھانے گوادر پر بیٹھے پاکستان کے درمیان انگڑائی لے رہی ہے۔ یہ تینوں ملک، ان کی حکومتیں اور عوامی ہمدردیاں مکمل طور پر چین کے حق میں ہیں، جبکہ امریکہ سے نفرت بھی عوامی سطح پر پائی جاتی ہے۔ ان تینوں ممالک سے مبنی تکون میں ایران، خلیجی ریاستیں اور مصر وغیرہ بھی آنےوالے دنوں میں شامل ہو جائیں گے۔ نئے حالات کے تقاضے کے تحت بنتا ایسا اتحاد فطری نظر آتا ہے۔ بالخصوص اگر مصر پوری نیت سے ادھر کا رخ کرتا ہے تو اس کے زیر انتظام نہر سویز سے دنیا بھر کا تذویراتی نظام ایک مکمل نئی جہت اختیار کر جائے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تیل کی تجارت کےلئے یہی نہر سویز، گوادر، آبنائے باسفورس اور آبنائے ملاکہ کس قدر اہمیت کی حامل ہیں۔
سوچ کے ایسے ہی انداز کے تحت چین نے اس جانب پاکستان کے ساتھ اپنے قدمِ اولیٰ ہی میں ایک نہائت ہی اہمیت کے حامل ”چین، پاکستان اقتصادی راہداری“ منصوبے کا دو برس قبل سے آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت انسانی تاریخ میں پہلی بار کثرت سے ہمالیہ رینج کے آر پار انسانی آمدورفت اور اشیاءکی نقل و حمل کا نہ صرف سوچا گیا ہے بلکہ اس طرف عملی اقدام بھی سرعت سے اٹھائے جا چکے ہیں۔ یہ ”راہداری منصوبہ“ گلوبل ون بیلٹ، ون روڈ کے چینی منصوبے ہی کا ایک پہلا حصہ ہے۔ قدرت کا احسان ملاحظہ ہو کہ جب بھی اقوامِ عالم اپنے عالمی سٹریٹجی کے منصوبے بناتی ہیں تو ان میں سرفہرست پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ آگے چلیں تو گلوبل سٹریٹجی میں نئی صدی کے پلٹتے ہی چین نے بھی انگڑائی لی ہے۔ جونہی چین نے ”ون بیلٹ، ون روڈ“ کا اپنا عالمی ایجنڈا تیار کیا تو اس کے مرکز میں انہیں ہر طرف ہمالیہ کی چوٹیوں کی دوسری روڈ، سب سے زیادہ پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ حالانکہ ان کی ساڑھی تین اطراف میں نرم سرحدیں ہیں، جبکہ شمال مغربی کونے میں دنیا کی سب سے طویل اور اونچی پہاڑیوں کے پے درپے سلسلے ہیں، جن کے آگے پھر پاکستان ہَے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی سرحدوں سے نکلتے ہی انہیں مملکتِ پاکستان کے ساتھ تاریخ کا ایک سب سے بڑا اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع کرنا پڑا۔ خوش قسمتی دیکھیں کہ جب تقسیم ہند پر کانگریس نے اتفاق کیا تو مہاتما گاندھی نے پاکستان بنانے کے حق میں دلائل دیئے۔ وجہ یہ بتائی کہ برصغیر پر حملے اور نقصانات ہمیشہ خیبر اور بولان کے دو عدد درّوں سے حملہ آوروں کی صورت میں آئے ہیں۔ اگر ان درّوں کے آگے پاکستان بن جائے تو بقیہ ہند محفوظ ہو جائے گا۔ پاکستان بننے کے بعد دوسری متواتر یہ خوش قسمتی ہوئی کہ ایک تو خلیج میں تیل نکل آیا اور دوسرا اس تیل کی گردن پر گرم پانیوں کا ساحل گوادر واقع ہے۔ اب اسی تیل اور گوادر پر ہی کنٹرول کےلئے دنیا بھر کی طاقتوں کو پاکستان سے راہ و رسم بنا کر رکھنا ہوتی ہے۔ سویٹ یونین اسی تگ و دو میں بکھر گیا تو امریکہ بھی اسی لالچ میں نائن الیون کا ڈرامہ رچا کر افغانستان آیا تھا۔ چین کے آگے بھی اب یہی مرحلہ ہے۔ اب یہاں نریندر مودی کرے تو کیا کرے۔ ساری دنیا کے ممالک ایک طرف، خطّے میں ایک بہت ہی بڑی ایٹمی طاقت اور آبادی والا بھارت۔ مگر اس کے پاس نہ یہ خیبر و بولان کے درّے میں اور نہ ہی گوادر کا گرم ساحل۔ گلوبل طاقتیں اِدھر ہی ایک دوسرے کی حریف ہیں اور یہی ان کا مرکزِ نگاہ ہے جو کہ پاکستان ہے۔ لہٰذا نریندر مودی تو سوائے اپنا منہ کالا کرنے کے اس سلسلے میں دنیا بھر کےلئے بے کار ہَے۔ کارآمد صرف پاکستان ہے۔ اب یہاں عمران خان کیا کرے۔ پچھلی دو حکومتوں کے برعکس وہ دیانت دار بھی ہے اور پاکستان کا وفادار بھی۔ مگر فائدہ تبھی ہو گا جب پاکستان اندرونی طور پر مکمل پرسکون ہو گا۔ تبھی مہاتیر محمد اور طیب اردگان کے مشورے چلیں گے اور باہمی دوروں کا کماحقہ فائدہ بھی۔ اس سلسلے میں عمران خان کا لائحہ عمل کیسے مرتب ہو؟ اگلے کالم میں اس پر عرض ہو گی۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved