تازہ تر ین

کامیابی چند قدموں کی مسافت پر

اعجاز احمد بٹر
ملکہ ترنم نورجہاں نے ہسپتال بنانے کا سوچا تھا، ان سے پوچھا گیا وہ کیا ہوا تو انہوں نے کہا جو کام میرا گلا نہ کر سکا عمران خا ن کے بلے نے کر دکھایا ۔قوموں کی زندگی میں مشکلات آتی ہیں لیکن قائدین پہ شک اور نقطہ چینی کئے بغیر چاہئے کہ انہیں اپنی تخلیقی جوہر دکھانے کا موقع دیا جائے۔ ملک کے عوام کسی کو بھی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائیں آ،ئینی مدت پوری کرنا نہ صرف اسکا حق ہے بلکہ ملک و قوم کی بھلائی کا راز بھی اسی میں مضمر ہوتا ہے۔ انتخابات میں جس قدر اخراجات اٹھتے ہیں عام آدمی کو اسکا اندازہ نہیں۔ میرا مقصد عمران خان کی مدح سرائی نہیں بلکہ حقائق کا ادراک ہے۔ دنیا اس ہیرو کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے، اپنے موقف پر ڈٹ جانے والا یہ وزیر اعظم اپنے دعووں اور عوام سے کئے گئے وعدوں پر پورا اترے گا۔ ترکی جیسا آج ہے ہمیشہ ایسا نہیں تھا، وہاں بھی سیاسی کشیدگی اور حالات کے جبرکو انکے عوام برداشت کرتے رہے ہیں۔مصطفی کمال کو ترکوں نے عظیم خدمات پر اتاترک یعنی ترکوں کا باپ کا لقب دیا تھا،انہوں نے حیرت انگیز اصلاحات کیں۔ 1938ءمیں انکے انتقال کے بعد عصمت انونو ملک کے دوسرے صدر بنے اور اتاترک کی اصلاحات کو جاری ر کھا۔ بارہا فوجی مداخلت نے حالات کا دھارا درست سمت بہنے نہ دیا۔ 1989ءمیں فوجی سربراہ کی جگہ طورغوت اوزال صدر بنے اور ترک معیشت کو جدید خطوط پر استوار کیا جس سے دنیا میں ترکی کا وقار بڑھا۔ 1993ءمیں ان کے انتقال کے بعدوزیراعظم سلیمان دیمرل صدر منتخب ہوئے لیکن سابق وزیر معیشت تانسو چلر دیمرل کی جگہ راہ حق پارٹی کی سربراہ منتخب ہوئیں،اس طرح وہ ترکی کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ 1995ءکے انتخابات میں اسلام پسند رفاہ پارٹی بڑی طاقت کے طور پر ابھری اور نجم الدین اربکان ترکی کے وزیر اعظم بنے
2001ءمیں ترکی اقتصادی بحران کا شکار ہوگیا۔ ملک میں بحرانوںنے سر اٹھایا ۔عالمی مالیاتی فنڈ کا سہارا لیا گیا۔ آئی ایم ایف نے کڑی شرائط عائد کردیں۔ 2002ءکو نئے انتخابات کرانے کا فیصلہ کرنا پڑاجسکے بعد رجب طیب اردوان کے اقتدار کی صبح طلوع ہوئی تو کمال درویش کے معاشی منصوبوں کو دوام بخشا گیا۔ دیکھتے دیکھتے ترکی، ترقی کے نئے رستوں پر چل نکلا ۔اگرچہ عروج و زوال بھی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں لگے رہے۔ یہ وہی طیب اردوان ہے جسے 1998ءمیں ایک تقریر میں اسلام کے حق میں کلمات ادا کرنے کے سبب انتخابات و وزارت عظمی کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ 1980۔1990 تک ترکی کے حالات کسی بھی حوالے سے پاکستان سے بہتر نہ تھے۔ قومیں ایسے ہی ترقی نہیں کرتی انکے قائدین میں وہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جو قوموں کا وقار بڑھا کر ملکوںکو دنیا کی مستحکم معیشت بناتے ہیں۔طیب اردوان غیر ملکی دورے پر تھے کہ ان کے کان تکلیف ہوئی تو کسی غیر ملکی ڈاکٹر علاج کی بجائے دورہ مختصر کرتے اپنے ملک ترکی لوٹے اور ہسپتال میں داخل ہو گئے ۔اسی دوران اہم سرکاری اجلاس میں آرمی چیف، وزیراعظم اور صدر کو شریک ہونا تھا۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے برعکس وہ ہسپتال سے نکلے، اجلاس میں شرکت کی پھر ہسپتال آ گئے علاج کا خرچہ اپنی جیب سے ادا کیا۔
صدر طیب اردگان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں کھل کر کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھائی، قبرص کے حوالے سے ہم بھی انکی حمائیت میں ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی ترکی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ترکی نے کھل کر پاکستان کو سپورٹ کیا ہے۔ ترک صدر نے اپنے دوروزہ حالیہ دورہ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے واضح کہہ دیا ہے کہ کشمیر ترکی کیلئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کیلئے ہے۔ اتنی کھلی حمائیت سے بھارت کے سینے پر سانپ لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔ بھارتی میڈیا بھی بوکھلا گیا ہے۔ ترک صدر فلسطین کے مسلمانوں کو بھی نہیں بھولے ۔پاکستان اور ترکی کے مابین تعاون کو فروغ دینے کی13 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوگئے ہیں۔تعلیم، مواصلات،صحت، ثقافت، سیاحت کے شعبوں میں تعاون اور ان کے فروغ کیلئے 13 معاہدے ہوئے جو خوش آئند ہیں۔ پاکستان اپنے دوست ممالک سے تعلقات کو استوار کررہا ہے، ان شاءاللہ پاکستان بھی چین اور ترکی کی طرح حیرت انگیز معاشی استحکام حاصل کرے گا۔ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان2021 میں مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہو گی جبکہ معاشی ترقی کی شرح میں اضافے کی بھی امید ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت نے پہلے مرحلے میں معیشت کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے اور اس کی بڑی وجہ وزیراعظم کی دوست ممالک سے بہتر خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چائنہ بڑی سرمایہ کاری کرنے جارہے ہیں۔سی پیک کی وجہ سے بھی معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں پاکستان بہت جلد دنیا میں اپنا مقام پیدا کر لے گا، کامیابی بس چند قدموں کی مسافت پر ہے ۔
(سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved