تازہ تر ین

عوام کی ضرورت ‘دو وقت کی روٹی

عبدالقدوس منہاس
معاملات ہاتھ سے نکلتے دکھائی دے رہے ہیں، مگرکس کے ہاتھ سے؟ سیدھی بات یہ ہے کہ دونوں طرف معاملات اور ارکان پر گرفت کمزور ہورہی ہے۔ حکمران اپنے اقتدار کی بقاءاور آئینی مدت پوری کرنے کے ساتھ آئندہ الیکشن میں عوام کے پاس جانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں منزل کھوٹی کررہے ہیں تو اپوزیشن جلد سے جلد حکمرانوں کو گھر بھیج کر اقتدار سے حصہ بقدر جثہ لینے کیلئے بے چین ہے اور اس بے چینی میں الٹے سیدھے فیصلے کرکے عوام میں اپنی ساکھ کھوتی جارہی ہے۔ باشعور ، صاحب فہم و فراست سیاستدان صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے بیچ کا راستہ نکال کر کسی تیسری قوت کے بروئے کار آنے کی راہ روکنے کیلئے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانے پر مصر ہیں۔ مگر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو الجھتے معاملات کی یا سمجھ نہیں آرہی یا پھر دونوں سیاسی قوتیں تیسری قوت کی راہ ہموار کررہی ہیں۔
ملک کا سیاسی ماضی اس بارے حقیقت پر شاہد ہے کہ تیسری قوت جب بھی آئی اسے جواز سیاسی حکومتوں نے فراہم کرکے کھلا موقع دیا، اب بھی سیاسی تلاطم نشاندہی کررہاہے کہ کہیں نہ کہیں اٹھا پٹخ ہوگی ۔ اگرچہ تیسری قوت دخل اندازی نہ بھی کرنا چاہتی ہو مگر سیاسی افراتفری پھیلی تو مداخلت ناگزیر ہوجائیگی۔ ویسے قوم کی بھاری اکثریت یہی چاہتی ہے۔ مشرف کے بعد آنیوالے سیاسی دور میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ اقتدار کے مزے چکھ چکے۔ اب تحریک انصاف ایوان اقتدار میں براجمان ہے اور عوام نے تحریک انصاف کو حق حکمرانی تبدیلی کے وعدے پر دیا ، تاہم کسی بھی شعبے میں تبدیلی کی جھلک دکھائی نہیں دے رہی۔
ملک و قوم جن حالات سے عرصہ 70سال سے دوچار ہیں انکے پیش نظر فوری تبدیلی کی توقع یا تبدیلی لانے کا دعویٰ دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔ ماضی میں برسراقتدار رہنے والی حکومتوں نے معیشت ، صنعت ، زراعت، تجارت کی بحالی و استحکام کیلئے حقیقی اور طویل المیعاد اقدامات کی بجائے فوری اور مختصر المیعاد اصلاحات اور قرض حاصل کرکے معاملات سدھارنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ہر شعبہ زندگی ابتری کا شکار ہے اور ایک دو برس میں اس ابتری کا خاتمہ ممکن دکھائی بھی نہیں دیتا۔ ایسا ملک جہاں ذرائع پیداوار پر توجہ نہ ہو اور جس کے بجٹ کا بڑا حصہ پرانے قرضوں پر سود اور قسطوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہو ،جس کی برآمدات پر درآمدات حاوی ہوں، زراعت تباہی کے دہانے پر ہو، کسان ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بنکوں کے مرہون منت ہوں ، کھیت سے منڈی تک مڈل مینوں کی لوٹ کھسوٹ عام ہو، صنعت گوناگوں مسائل سے دوچار ہو، جس ملک میں ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ادارے ٹیکس چور، سمگلنگ کے خاتمہ کیلئے قائم ادارہ سمگلروں کا سہولت کار ہو، وہاں آمدن میں اضافہ کا تصور کیونکر ممکن ہے۔ جہاں عوام کو سہولیات فراہم کرنیوالے اداروں کے اہلکار رشوت خوری کیلئے عوامی مشکلات میں اضافہ کا سبب ہوں وہاں عوامی مشکلات میں کمی کی امید کرنا حماقت نہیں تو کیا ہوگی۔
حقائق کی پردہ پوشی کی جاسکتی ہے مگر ان سے پیچھا چھڑانا ممکن نہیں۔ عوام و خواص اگر تحریک انصاف حکومت سے فوری نتائج چاہتے ہیں تو یہ نوآموز حکومت سے زیادتی ہوگی، البتہ سیاستدانوں کی بات الگ ہے ، انہیں حکومت کے اچھے کاموں میں بھی عیب واضح دکھائی دے جاتے ہیں مگر یہ جمہوری نہیں غیر جمہوری رویہ ہے ۔ تاہم اپوزیشن کی بات اس حد تک درست ہے کہ حکومت ڈیڑھ سال میں ڈیلیور کرسکی نہ عوام کو ریلیف فراہم کرسکی۔ طویل المیعاد منصوبہ بندی کرتے ایسی مختصر المیعاد منصوبوں پر توجہ نہیں دے رہی جنکی وجہ سے عوام کو فوری ریلیف دیا جاسکتا ہے ، مگر حکومتی مشیروں کو عوامی مشکلات کا ادراک ہے نہ وہ وزیراعظم کو اس حوالے سے آگاہ کرتے ہیں۔
سرکاری محکموں میں رشوت کا چلن اب بھی عام ہے اور معمولی اقدامات و اصلاحات سے اس میں کمی لاکر عوام کو بہت سی مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ ماتحت عدلیہ میں سالہا سال سول کیسز لٹکے رہتے ہیں، صرف نگرانی کرکے انصاف کی فراہمی میں تاخیر روکی اور ماتحت عدلیہ میں رشوت ستانی کا خاتمہ ممکن ہے ۔ تھانہ اور پٹوار عرصہ دراز سے عوام کیلئے عقوبت خانے ہیں، جہاں رشوت بھی عام ہے۔ جھوٹے مقدمات ، جعلی دستاویزات ، بااثر افراد کی شہنشاہی قائم ہے ، اس کلچر کو ختم کرنے کیلئے اضافی فنڈز کی ضرورت نہیں دستیاب وسائل میں ہی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ تاجر طبقہ کی لوٹ مار بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، پوری دنیا میں پرچون فروش کو صنعت کا درجہ حاصل ہے، قیمتوں کے تعین کیلئے کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاو¿نٹس کو رواج دیاگیا ہے مگر پاکستان میں قیمتوں کے تعین اور مقررہ قیمت پر فروخت کو یقینی بنانے کیلئے وقتی اور عارضی اقدامات کرکے قابو پانے کی کوشش جاتی ہے ، حقیقی معنوں میں اقدامات نہیں کئے جاتے جس کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی کا سیلاب رواں غریب اور متوسط طبقہ کو بہاکر لے گیا ہے۔
معیشت کی بہتری واستحکام کیلئے حکومتی اقدامات قابل قدر لیکن اگر ثمرات عوام تک نہ پہنچیں تو ان اقدامات کا کوئی حاصل نہیں ہوگا۔عوام جب تک معاشی طور پر خوشحال اور خود مختار نہیں ہوتے اوپر کی سطح پر کئے جانیوالے اقدامات بے فائدہ تصور کئے جائینگے۔ عوام کا مسئلہ روزگار کا تحفظ ہے ، عوام کا مسئلہ مہنگائی ہے، عوام کا مسئلہ فوری انصاف نہ ملنا ہے، عوام کا مسئلہ جائز کام بھی استحقاق کی بنیاد پر نہ ہونا ہے، عوام کا مسئلہ رشوت ،مظالم ، زیادتی سے نجات ہے۔ عوام پولیس کو اپنا محافظ سمجھنا چاہتے ہیں، عوام عزت سے دو وقت کی روٹی کھانا اوراپنے بچوں کو تعلیم و علاج کی سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔عوام زندگی ،آبرو، مال اسباب کا تحفظ چاہتے ہیں۔ عوام کو کوئی غرض نہیں کہ وزیر اعظم کون ہے اور وزیر اعلیٰ کون، حکومت کس پارٹی کی ہے ، عوام اپنی دہلیز پر مسائل و مشکلات کا حل چاہتے ہیں اور یہ مسئلہ فیثا غورث ہے نہ راکٹ سائنس۔ ان مسائل کے حل کیلئے کسی لانگ ٹرم پالیسی کی بھی ضرورت نہیں، بہت آسان حل انگریز حکمران نے بر صغیر میں اپنایاتھا۔ ہر ادارے کے باہر شکایات بکس رکھ دیاتھا ، عوام براہ راست اپنی شکایات پھینکتے اور متعلقہ حکام ان شکایات کا فوری ازالہ کردیتے تھے۔ اس طرح سرکاری عمل کی نگرانی کا ایک خود کار نظام قائم تھا جو اب دم توڑ چکا ہے۔ وزیراعظم پورٹل سے اس نظام کی کامیابی کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے ورنہ عمران خان ہوں، آصف زرداری ، نوازشریف یا شہباز شریف کوئی تیسری قوت عوام کیلئے بے معنی ہے۔ عوام کی ضرورت دو ہاتھ کپڑا، دو وقت کی روٹی ہے، جان و مال و آبرو کی حفاظت ہے ، گر یہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved