تازہ تر ین

ایک اور پاکستان

محمد صغیر قمر
تقسیم برصغیر کے وقت بھارت میں رہ جانے والے مسلمان آ ٓج سات دہائیوں کے بعد کس مقام پر ہیں؟اس کااندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ ہندوتوا کے ظلم کاشکار اقلیتیں تو اول روز سے ہی چیخ وپکار کر رہی ہیں لیکن ہمارے مسلمان بھائی یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے چند پرکھوں نے قائداعظم کی بات سے اختلاف کرکے بڑا”کارنامہ“سر انجام دیا تھا۔ان کے خیال میں ان کا مستقبل ہندﺅں کے ساتھ زیادہ محفوظ تھا۔آج پون صدی کے بعد ان کو یقین ہو چلا ہے کہ محمد علی جناح کی بات نہ مان کرانہوں نے اپنی نسلوں کو غیر محفوظ کر دیا ہے۔ لمحہ موجود میںدو احساسات ان کے اندر پوری شدت کے ساتھ جاگے ہیں ۔پہلا یہ کہ بھارتی پارلیمان میں ان کی آواز کہاں تک سنی جاتی ہے،جو لوگ ان کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی اہمیت پرکاہ سے بھی کم ہے۔سلونی بھوگلے بھارت کی اشوکا یونیورسٹی کے تریویدی سینٹر فار پولیٹیکل ڈیٹا کی ریسرچ فیلو ہیں۔انہوں نے اس مسئلے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے ”بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا میں مسلمانوں کی آواز سنی جاتی ہے یا نہیں، یہ ظاہر اور ثابت کرنے کےلئے ایوان میں مسلمانوں کی نمائندگی کا گراف دیکھنا ہوگا۔ اگر مسلمان اپنے مسائل بیان کرنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں تو ایک ضروری شرط، جو بہرحال کافی نہیں ہے، یہ ہے کہ لوک سبھا میں ان کی کماحقہ نمائندگی ہو۔بھارت کے مسلمان دو مختلف، بلکہ متضاد رجحانات کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف تو ان کی آبادی بڑھ کر14 فیصد سے بھی زائد ہوگئی ہے اور دوسری طرف پارلیمان کے ایوان زیریں لوک سبھا میں ان کی نمائندگی کا گراف نچلی ترین سطح پر ہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب تو یہ ہے کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں کو دو فیصد سے بھی کم انتخابی ٹکٹ دیے اور اِن میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا۔کیا یہ معاملہ تشویش کا باعث ہے؟ اس سوال کے جواب کا مدار اس بات پر ہے کہ کسی بھی کمیونٹی کے لیے اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرنے کی خاطر پارلیمان میں نمائندگی کا حصول لازم ہے کہ نہیں۔ اس معاملے کا جائزہ لینے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ بھارتی مسلمانوں سے متعلق پارلیمان کے ارکان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالوں پر نظر دوڑائی جائے۔ ہم نے بیس برس کے دوران بھارتی پارلیمان میں مسلمانوں سے متعلق اٹھائے جانے والے 1800سے زائد سوالوں کا جائزہ لیا ہے۔بھارتی مسلمانوں کے بارے میں پوچھے جانے والے سوالوں کا بڑا حصہ مسلم ارکان کی طرف سے ہے۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پارلیمان میں اپنے حصے سے بڑھ کر سوال پوچھے ہیں۔ غیر مسلم ارکان کی طرف سے پوچھے جانے والے سوالوں کے مقابلے میں مسلم ارکان کے سوالات خاصے مختلف اور منفرد ہوتے ہیں۔ چند ایک ایشوز سبھی کی نظر سے چوک جاتے ہیں۔ مثلاً مسلم خواتین کے مسائل کو پارلیمان کے مسلم اور غیر مسلم ارکان یکساں طور پر نظر انداز کرتے ہیں۔ دل خراش حقیقت یہ ہے کہ جن معاملات کا بھارتی مسلمانوں کے حالات سے بہت گہرا تعلق ہے، ان پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شاذ و نادر ہی بات ہو پاتی ہے۔ بیورو آف ریسرچ اینڈ انڈسٹری اینڈ اکنامک فنڈامینٹلزکے ایک سروے میں 31 فیصد رائے دہندگان نے سیکورٹی (تحفظ) کو بھارتی مسلمانوں کا ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے مسائل سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات میں صرف تین فیصد کا تعلق تحفظ کے معاملے سے ہوتا ہے۔کلیدی سوال یہ ہے کہ لوک سبھا میں مسلمانوں کے لیے آواز کون اٹھاتا ہے۔ مسلم اور غیر مسلم یکساں طور پر سوالات اٹھاتے ہیں مگر لوک سبھا میں مسلمانوں کی گھٹتی ہوئی نمائندگی انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی ارکان بھارتی مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، دل خراش حقیقت یہ ہے کہ بھارتی مسلمانوں کے بیشتر بنیادی اور پیچیدہ مسائل کا تذکرہ تک نہیں ہو پاتا۔“
دوسرا بڑا مسئلہ جس کا احساس بھارت کے نوجوانوں کو اب ہوا ہے وہ یہ کہ،تعلیمی اداروں میں 15 سے 24 سال تک کے نوجوانوں کی انرولمنٹ کے حوالے سے مسلمانوں کا حصہ صرف 39 فیصد ہے۔ اعلیٰ ذات کے ہندوﺅں میں یہ تناسب59 فیصد، شیڈولڈ کاسٹ کے ہندوﺅں میں44 فیصد اور دیگر طبقات کے پسماندہ ہندوﺅں میں51 فیصد ہے۔2019کے عام انتخابات نے بھارتی سیاست میں مسلمانوں کی انتہائی کمزور پوزیشن بالکل واضح کردی۔ ایوان زیریں (لوک سبھا) میں مسلمانوں کی نمائندگی برائے نام رہ گئی ہے۔ معاشی اور معاشرتی سطح پر بھی یہی معاملہ ہے۔ سیاست کے حوالے سے پیدا ہونے والی کمزوری دیگر تمام معاملات پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ کے بعد سے اب تک بھارتی مسلمان نچلی اور پس ماندہ ذاتوں کے ہندووں سے مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہے۔
ہندی بولنے اور سمجھنے والی ریاستوں میں مسلمان تعلیم کے حوالے سے بہت کمزور ہیں۔ ہریانہ کے مسلمانوں میں صرف3 فیصد تعلیم یافتہ (گریجویٹ) ہیں۔ راجستھان میں یہ تناسب 7 فیصد، اتر پردیش میں11 فیصد اور مدھیہ پردیش میں17فیصد ہے۔ مدھیہ پردیش کے سوا ان تمام ریاستوں میں نچلی ذات کے ہندووئں کی تعلیمی کارکردگی مسلمانوں سے بہتر ہے۔مشرقی بھارت کی ریاستوں کی بات کیجیے تو بہار میں نچلی ذات کے ہندووں کے 7 فیصد کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعلیمی کامیابی8 فیصد، مغربی بنگال میں نچلی ذات کے ہندووں کے9 فیصد کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعلیمی کامیابی 8 فیصد اور آسام میں نچلی ذات کے ہندووں کی8 فیصد کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعلیمی کامیابی 7 فیصد ہے۔مغربی بھارت کی ریاستوں میں مسلمانوں کی مجموعی تعلیمی کارکردگی اگرچہ اچھی ہے، مگر پھر بھی اسے اعلیٰ اور نچلی ذات کے ہندووں کی کارکردگی سے بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا۔بھارت بھر میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے مسلم نوجوان تامل ناڈو میں ہیں جہاں گریجویٹ نوجوانوں کی تعداد36فیصد ہے۔ کیرالا میں28 فیصد،آندھرا پردیش میں21 فیصد اور کرناٹک میں 18فیصد مسلم نوجوان گریجویٹ ہیں۔ تامل ناڈو اور آندھرا پردیش میں مسلم نوجوان تعلیم کے حوالے سے بھرپور مسابقت کر رہے ہیں، جبکہ کیرالا میں وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ جنوبی بھارت میں مسلم نوجوانوں کی عمدہ تعلیمی کارکردگی کا ایک کلیدی سبب یہ بھی ہے کہ وہاں مسلمانوں سے امتیازی سلوک برائے نام ہے۔ اچھے معاشرتی ماحول میں آگے بڑھنے والوں کی کمی نہیں۔ ان ریاستوں میں نچلی ذات کے ہندووں کے ساتھ ساتھ پسماندہ رہ جانے والے مسلمانوں کو بھی کوٹا دیا جاتا ہے۔تاکہ وہ کم ازکم نچلی ذات کے ہندﺅںکے ”برابر‘مانے جاہیں۔
عمومی طور پر بھارتی مسلمانوں اور خصوصی طور پر مسلم نوجوانوں کی پسماندگی کا سفر بہت پہلے شروع ہوا تھا تاہم اس میں تیزی چند برسوں کے دوران آئی ہے۔ سیم ایشر نے حال ہی میں تیار کی جانے والی اسٹڈی ”انٹرجنریشنل موبلیٹی اِن انڈیا“میں بتایا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو تعلیم کے حوالے سے پیچھے چھوڑا جارہا ہے جبکہ نچلی ذات کے ہندووں کو تعلیم کے حوالے سے اوپر لایا جارہا ہے۔
بی جے پی کے دورِ حکومت میں گائے کی حفاظت کے نام پر جو نگراں ہندو گروپ سامنے آئے ہیں، ان کے باعث مسلم نوجوان اپنے خول میں مزید سمٹ گئے ہیں۔ اس خول سے جوں ہی وہ اپنا سر نکالتے ہیں انہیں نہ صرف کچل دیا جاتا ہے بلکہ یہ حکم بھی صادر کیا جاتا ہے کہ اگر یہاں رہنا پسند نہیں تو پاکستان چلے جاﺅ،اس کی واضح مثال ڈاکٹر ذاکر نائیک ہیں جوبرسوںسے اسلام کا اصل چہرہ دنیاکو دکھا رہے ہیں۔
2019کے انتخابات کے بعد ایک ہندوریاست کی اصلیت ابھرکر سامنے آئی ہے۔ان سب حقائق کو سمجھنے میں مسلمانوں کو سات دہائیوں سے زائد عرصہ لگا۔اب تیزی سے بدلتی صورت حال نہ صرف مسلمانوں کےلئے خطرناک ہے بلکہ دیگر اقلیتیں بھی غیر محفوظ ہیں۔بھارت کے حالیہ قوانین شہریت نے مزید ایسی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے یہ سوچا جائے کہ اب بھارت ایک ملک کی حیثیت سے دنیا میں قائم رہے گا۔اس کابکھرنا ٹھہر گیا۔بھارت کی مسلم آبادی تسلیم کر لے کہ انہوں نے قائد اعظم کی بات نہ مان کر اپنی نسلوں کا مستقبل کر دیا ہے۔ایک اور پاکستان حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیں،آج نہیں تو کل آپ کو ایسا کرنا پڑے گا۔
( متعدد کتابوں کے مصنف ‘شعبہ تعلیم
سے وابستہ اورسماجی کارکن ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved