تازہ تر ین

حلقہ ارباب ذوق اورتنقیدکی روایت

میم سین بٹ
حلقہ ارباب ذوق میںتنقید کی روایت بہت پرانی ہے وہاں کچھ نقاد صرف تنقید کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اورخود اپنی کوئی تخلیق پیش نہیں کرتے ، اپنی تحریر تنقید کیلئے پیش کرنے والے تخلیق کار وںکو کسی اعتراض پرضاحت کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی وہ بیچارے تو نقاد وں سے شہزاد تابش کی زبان میں یہ بھی نہیں کہہ سکتے….
تنقید مجھ پہ کیجئے لیکن کبھی حضور
شہر سخن میں اپنا بھی فن آزمایئے
تفنن برطرف حلقے کامزاج شروع ہی سے توصیفی کے بجائے تنقیدی چلا آرہا ہے ،اس قدیم تنظیم نے ادب میںبڑے بڑے نقاد پیدا کئے ہیں، ڈاکٹرضیاءالحسن کا بھی ان میں شمار ہوتا ہے تاہم یہ حلقہ ارباب ذوق کے کبھی سیکرٹری یاجائنٹ سیکرٹری نہیں رہے،پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج شعبہ اردومیں استاد ہیں ،نقاد کے علاوہ نظم کے بہت اچھے شاعر بھی ہیں،سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق عامر فراز نے گزشتہ اتوارکو پروفیسر محمد خالدکی زیر صدارت پاک ٹی ہاﺅس میں تنقیدی نشست رکھی جس میں سب سے پہلے ڈاکٹر ضیاءالحسن نے ادب اور تنقید کے عنوان سے مضمون پیش کیا انہوں نے مضمون میں نقادوں کی خوب خبر لی اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ضیاءالحسن نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کیلئے لکھے جانے والے تحقیقی مقالوں اور مقالہ نگاروں کا بھی تفصیلی پوسٹمارٹم کیا ۔
ڈاکٹرناصر بلوچ نے مضمون پرگفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا کہ پی ایچ ڈی کی زیادہ تر ڈگریاں الاﺅنسزکی وصولی کیلئے حاصل کی جارہی ہیں،انہوں نے ضیاءالحسن کا مضمون ادبی تنقید کونقصانات سے بچانے کی کوشش قراردیتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اس سے نئے مباحث کا آغاز ہوگا اورہونا بھی چاہیے ،شہزاد میاں نے یہ کہہ چٹکی لی کہ اچھا ہوتا مضمون میں مسئلے کا حل بھی بیان کردیا جاتا ،ڈاکٹر ضیاءالحسن کوتو بولنے کی اجازت ہی نہ تھی ان کی جگہ صاحب صدر نے فوری جواب دیا کہ ضروری نہیں مضمون نگار ہی سارے حل پیش کرے ،مقصود وفا نے پروفیسر ناصر بلوچ کی بات کو آگے بڑھایا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والوں کا تنقید سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ تنخواہ میں اضافے یا اگلا عہدہ لینے کیلئے پی ایچ ڈی کرتے ہیں جوادبی تنقید اورتحقیق کے حوالے سے انتہائی خطرناک معاملہ ہے ہمارے یہاں توتنقید کی اصطلاحات بھی درآمد شدہ ہوتی ہیں، ایک نقاد نے کتاب لکھ دی کہ نظم کیسے پڑھی جائے ؟ وہ اگلی کتاب شاید یہ لکھ دیںکہ نظم کیسے کہی جائے ۔
فرح رضوی نے مضمون کوعام قاری کے تاثر کے قریب قرار دیتے ہوئے امید ظاہرکی کہ اگلا مرحلہ حل کا بھی آجائے گا ،ناصرعلی کو مضمون سنتے ہوئے یہی محسوس ہوتا رہاکہ گویا یہ بھی ان کے دل میں ہے انہوں نے مضمون میں تخلیق کوفوقیت دینے کی تحسین کی ،عامرفراز نے مضمون کو بہت پرلطف قراردیا وہ ضیاءالحسن سے حسب سابق طویل مضمون کی توقع کرتے رہے مگر اس کے جلد ختم ہوجانے پر انہیں غالباََ مایوسی ہوئی عامر فرازکو مضمون میں تھوڑی سی کمی بھی محسوس ہوئی ان کے خیال میں کچھ مثالیں اورحوالے ضروری تھے جس پرکنور عبدالماجد بول پڑے کہ مضمون میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو یہ اچھی بات ہے جس پران کے اردگرد بیٹھے دانشورہنس پڑے ۔
حسین مجروح نے درست نشاندہی کی کہ ضیاءالحسن نے یہ مضمون اپنے ہی طبقے کے خلاف لکھا ہے ،بہت سی تھیوریاں نافذ کرنے میں مدرسین کا ہی ہاتھ ہے ، ہم تو ستائش باہمی کے لوگ تھے ہم نے تنقیدکی تھیوریزدرآمد کیں ،مضمون نگار نے حل تجویز نہ کرکے قاری اورسامع کیلئے میدان کھلا چھوڑدیا ،نقاد وں کو اس خطرے سے بالاتر ہو کر تنقید لکھنی چاہیے کہ تعلقات نہ خراب ہوجائیں ،قاضی ظفراقبال نے بتایا کہ مولانا صلاح الدین احمد کے جریدے ”ادبی دنیا“میں تنقیدکا بہت اچھا سلسلہ رہا جس میں شاعر کا نام ظاہرکئے بغیر نظم یا غزل چھاپی جاتی تاکہ تنقید کرتے وقت شخصیت کی وجہ سے جانبداری کے پہلوسے بچا جا سکے،اب حیات شخصیت پرمقالہ لکھنے کی اجازت بہت بڑی خرابی کا باعث ہے وہ شخصیات خود ہی مقالہ لکھ کر ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے والوں کو دے دیتی ہیں ۔
پروفیسرمحمد خالد نے ڈاکٹر ضیاءالحسن کے تنقیدی مضمون پر صدارتی رائے دیتے ہوئے چیئرمین پبلک سروس کمیشن کے حوالے سے بتایا کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی امیدوار جب ان کے پاس انٹرویوکیلئے پیش ہوئے تو زیادہ ترکو علم ہی نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے مقالے میں کیا لکھا ہے ،تنقید تو نقادکے اندر سے پھوٹتی ہے جو پچاس شعری مجموعے چھپوا چکے ہیں ان کے اندرکا نقاد مر چکا ہے ،ہم نے مغرب سے جو تھیوریاں درآمدکیں وہ بیکار نہیں لیکن ہمارے لئے بیکار ہیں ہمارے تنقیدکے نئے دبستان فیشن کے طور پر آئے جن کی اپنی شعروادب کی تربیت نہیں ہوئی وہ لوگ تخلیقی تنقید نہیںکرسکتے ،ڈاکٹر ضیاءالحسن کا مضمون بہت اعلیٰ تھا اس کی باریکیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسے پڑھا جا نا چاہیے۔
مضمون پرگفتگو مکمل ہونے پرمقصود وفا نے نظم ”بوجھ“ تنقید کیلئے پیش کی جس کا ڈاکٹر ضیا ءالحسن نے تجزیہ کیاکہ شاعر نے ساری نظم تضادکی بنیاد پربنائی ہے تضاد اس کائنات کی مرکزی خصوصیت ہے دراصل یہ کائنات کا سارا بوجھ ہے جو شاعر نے سرپر اٹھایا ہوا ہے ،ڈاکٹر ناصر بلوچ نے اسے تخلیقی اور خوبصورت نظم جبکہ بوجھ کو تواخر قراردیا ،قاضی ظفر اقبال کے خیال میں نظم میں انسان نے اپنا اثبات کیا ہے کہ وہ بے معنی چیزنہیںہے،عامر فرازکے مطابق انسان نے تنہائی سے بچنے کیلئے سب کچھ بنایا ہوا ہے ،شہزاد میاں نے قراردیا کہ حسرتوں کے ذکر سے بوجھ کا غم ظاہر ہوتا ہے ،فرح رضوی نے قاضی ظفراقبال کی تائید کی کہ انسان بے شک فوقیت رکھتا ہے ۔
کنورعبدالماجدنے نظم پر اپنے تاثرات بیان کئے کہ ایک زخم بھر جاتا ہے،دوسرا زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے اورتیسرا زخم کبھی نہیں بھرتا ،شاعر نے نظم میں تیسرے زخم کی طرف اشارہ کیا ہے ،حسین مجروح کے خیال میں تخلیق کارکا خواب نیند کا خواب نہیں ہوتا ،نظم کی اسا س تضاد پرہے ،تخلیق کارکا خدا کا تصور جداگانہ ہوتا ہے یہ پنچ لائن اس نظم کی جان ہے ،عابد سیال نے تضادکو تنویت قراردیتے ہوئے رائے دی کہ شاعرکو جب یہ احساس ہوا کہ وہ اکیلا رہ گیا ہے تو پھر اس نے اپنی تنہائی کا بوجھ اٹھانے کیلئے خداسے رجوع کرلیا ،پروفیسر محمد خالد نے نظم پر بحث سمیٹتے ہوئے صدارتی کلمات میں کہا کہ انہیں نظم میں تضاد نظر آیا نہ تنویت دکھائی دی ،نظم کا مضمون ایک ہی ہے ،حسرتیں خواب میں اپنی جگہ ڈھونڈتی ہیں، شاعر نے بیچارگی سے بات کی ہے کہ اپنے اپنے دکھ ہیں اور اپنے اپنے خدا ہیں،آخر میں اسد اعوان ،وقار حیدر، عابد سیال ،مقصود وفااورپروفیسر محمد خالد نے کلام سنا کر حاضرین سے داد پائی،مقصودوفا کی نظم تھی….
میری نیندوں میں جاگی ہوئی حسرتیں
میرے خوابوں میں ہیں
صبح مدہوش بھی، شام خاموش بھی
دوسری کہکشاﺅں میں بستے ہوئے
جا چکے لوگ بھی
میرے خوابوں میں ہیں
زخم بھی، پھول بھی
اور خوشیوں بھرے لوگ بھی
روح کی تشنگی،جسم کی بھوک بھی
پرخطر زندگی ،بے خطر موت بھی
سب کو میں نے سر پر اٹھایا ہوا ہے
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved