تازہ تر ین

معاشی بحران ….خدشات اور توقعات

جاوید ملک
پاکستان کی معیشت روزِ اول سے بحرانات کا شکار رہی ہے۔ اس کیفیت میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ چند ایک استثنائی عرصوں کو چھوڑ کے معاشی بحران یہاں ایک معمول کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ درست ہے کہ ایوب خان اور پھر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں معیشت کی شرح نمو کافی اوپر گئی لیکن یہ ترقی اتنی گہری اور وسیع نہیں تھی کہ پاکستان پسماندہ ممالک کی فہرست سے نکل کر کم از کم درمیانی آمدن والے ممالک کی فہرست میں ہی شمار ہو پاتا۔
نامور تجزیہ نگار عمران کامیانہ کے مطابق وطن عزیز میں ایک ترقی یافتہ صنعتی سماج کی معاشرتی بنیادیں تعمیر کرنے کے لئے بھی جتنے بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن وہ سرمایہ داری کے تحت مہیا نہیں ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ سی پیک جیسے دیوہیکل منصوبے بھی اس ضرورت کے سامنے بہت معمولی معلوم ہوتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ سطحی، نمائشی اور ادھوری ترقی ہی دے سکتے ہیں۔
پسماندہ معیشتوں کا بنیادی مسئلہ آخری تجزئیے میں کم پیداواریت (Productivity) ہوتا ہے جس کے پیچھے تکنیکی پسماندگی کارفرما ہوتی ہے اور جس کی وجہ سے ایک طرف داخلی سطح پر سماجی و صنعتی ترقی کے مطلوبہ وسائل حاصل نہیں ہو پاتے۔ دوسری طرف بیرونی سطح پر ایسی پسماندہ معیشتیں عالمی منڈی میں مقابلہ بازی کی سکت سے عاری ہوتی ہیں جس سے تجارتی خسارے جنم لیتے ہیں۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک طرف تو سابق نوآبادیاتی ممالک کی معیشتیں داخلی طور پر بحران کا شکار تھیں‘ دوسری طرف ’بریٹن ووڈز سسٹم‘ کے تحت عالمی معیشت کے طریقہ کار اور قوانین یوں مرتب کیے گئے کہ یہ پسماندہ خطے مسلسل سامراجی ممالک اور ان کے گماشتہ اداروں پر منحصر رہے۔
نامور معیشت دان ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق 2003ءمیں پاکستان 100ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 125 تا 130 ڈالر کی درآمد کرتا تھا۔ یوں 25 سے 30 ڈالر کا فرق تھا۔ لیکن آج یہی فرق 125 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ دوسرے الفاظ میں درآمدات‘ برآمدات کے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔
عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک عشرے کے دوران عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ 1.45 فیصد سالانہ گھٹتا گیا ہے اور 2010ءکے بعد سے برآمدات کم و بیش منجمد ہیں جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ پاکستانی سرمایہ داری کا بحران گھمبیر ہی ہوا ہے۔
بعض حوالوں سے پاکستان کی سرمایہ دارانہ معیشت کا بحران خطے کے دوسرے پسماندہ ممالک سے زیادہ گہرا ہے۔ مثلاً پاکستان میں سرمایہ کاری کی جی ڈی پی سے شرح 15 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ہندوستان میں یہ شرح 32 فیصد، سری لنکا میں 36 فیصد اور بنگلہ دیش میں 40 فیصد تک ہے۔ اس حوالے سے 175 ممالک میں سے پاکستان کا 151 واں نمبر بنتا ہے۔ اس کم سرمایہ کاری کی وجہ سے پھر کم پیداواریت کا مسئلہ جنم لیتا ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق ملکی معیشت ایک ایسے گھن چکر میں پھنسی ہوئی ہے جس میں کم سرمایہ کاری کی وجہ سے شرح نمو کم ہے اور کم شرح نمو کی وجہ سے پھر بچتیں (Savings) بھی کم ہوتی ہےں جو ایک بار پھر کم سرمایہ کاری کے مسئلے کو جنم دیتی ہیں۔ سٹیٹ بینک کی اسی رپورٹ کی مطابق ملکی تاریخ میں بلند شرح نمو کے جتنے بھی ادوار آئے ہیں وہ بیرونی عوامل پر منحصر تھے (جن میں بیرونی قرضے، سامراجی امداد اور ترسیلات زر شامل ہیں) اور اسی وجہ سے یہ شرح نمو زیادہ لمبے عرصے تک برقرار نہیں رہ سکی۔
ملک کی برآمدات کے حجم میں 2005ءکے بعد سے کوئی اضافہ نہیں ہو پایا ہے جس کی وجہ سے معیشت کا دارومدار درآمدات پر بڑھتا چلا گیا ہے اور معیشت دان عاطف میاں کے الفاظ میں ”پاکستان صارفین کی قوم بن چکا ہے جس کی پیداواری تخلیق کرنے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔“
یہ کیفیت ہمیں یہاں کے سرمایہ دار طبقے کے بدلتے ہوئے معاشی کردار میں بھی نظر آتی ہے جو اب زیادہ تر سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل جیسے غیر پیداواری شعبوں میں ہی کرتا ہے۔ زرعی زمینوں پر بے ہودہ اور بے ہنگم ہاﺅسنگ کالونیاں بنائی جا رہی ہیں جبکہ صنعتی یونٹ بند کر کے وہاں شاپنگ مال یا بیرونی مصنوعات کے گودام تعمیر کیے جا رہے ہیں۔اس سے حکمران طبقے کی ساری ترکیب بھی بدل گئی ہے اور صنعت سے وابستہ پرانے سرمایہ دار گھرانوں کو پچھاڑ کے رئیل اسٹیٹ سے وابستہ بدعنوان نودولتیے ملک کے امیر ترین لوگ بن گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی سکت کے لحاظ سے پاکستان کل 137 ممالک کی فہرست میں 115 ویں نمبر پر آتا ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭

چمڑے کی مصنوعات پاکستان کی اہم برآمدات سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم چمڑے کی صنعت کو ایک مثال کے طور پہ لیں تو یہاں کی صنعت کا زوال بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ مثلاً 2008ءمیں چمڑے کی برآمدات 1.22 ارب ڈالر تھیں جن میں دس سالوں بعد بھی کوئی اضافہ تو درکنار الٹا کمی ہی ہوئی ہے 2019ءمیں یہ بنگلہ دیش سے بھی کم ہو کر 850 ملین ڈالر رہ چکی ہیں۔
ایسے میں ملک بار بار دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچتا رہا ہے اور یہاں کے حکمرانوں کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے اداروں سے بھیک کے لئے رجوع کرنا پڑتا رہا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ 1980ءکی دہائی کے اواخر کے بعد سے پاکستان 13ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے۔
ایسے ہر موقع پر یہ سامراجی ادارے ان حکمرانوں کو ڈانٹ پلاتے ہیں اور معیشت کو ’نظم و ضبط‘ میں لانے کے لئے ’سٹرکچرل اصلاحات‘ کے منصوبے مرتب کیے جاتے ہیں۔ یہ منصوبے درحقیقت بحران کا سارا بوجھ محنت کش طبقے پر لادنے کی واردات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہر بار یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ آخری بیل آﺅٹ پیکیج ہو گا جس کے بعد معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔ لیکن جیسا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر کچھ سالوں بعد یہاں کے تاریخی طور پر حکمران ایک بار پھر ان اداروں کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں۔
بار بار دہرائے جانے والے اس عمل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سامراجی اداروں کی ’اصلاحات‘بھی ان معیشتوں کو زیادہ سے زیادہ وقتی سہارا ہی دے سکتی ہیں اور بنیادی مسئلہ حل کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ مسئلے کا اس نظام کی حدود و قیود میں حل ممکن نہیں ہے۔
اس حکومت کے آنے کے بعد بورژوا اپوزیشن اور کچھ تجزیہ نگاروں میں یہ چلن بھی چل نکلا ہے کہ معیشت کے بحران کو حکمرانوں کی ’نا تجربہ کاری‘ یا ’نا اہلی‘ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ سراسر سطحی‘ بلکہ بھونڈی تجزیہ نگاری ہے۔ نظام کے اندر ایک خاص گنجائش ہوتی ہے جس کے اندر ہی افراد حرکت کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی نااہلی سے قطع نظر پاکستان کی معیشت نامیاتی طور پہ بحران سے دوچار ہے۔
انتہائی محتاط اور مستند سمجھے جانے والے ماہرین کے مطابق بھی پاکستان میں ک±ل معیشت کا 70 فیصد کالی معیشت پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ کالی معیشت‘ سرکاری اعداد و شمار میں نظر آنے والی معیشت کے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
اس معیشت کا وسیع حصہ ہر طرح کی کرپشن، بدعنوانی، رشوت ستانی، ٹیکس چوری اور منشیات جیسے دھندوں پر مشتمل ہے۔ یہاں سمگلنگ اور ڈرگ ٹریفکنگ جیسی قانونی طور پر ناجائز سرگرمیوں کے حجم کا تخمینہ پانچ ہزار ارب روپے تک ہے لیکن یہ دیوہیکل کالی معیشت ساری کی ساری ایسے جرائم پر مبنی نہیں ہے بلکہ ٹھیلے والے اور پرچون فروش سے لے کر کنسٹرکشن اور بڑے پیمانے کی صنعت تک ہر ایسی سرگرمی جو سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے اِس کالی معیشت میں شمار ہوتی ہے۔
جیسا کہ مقداری تناسب سے بھی ظاہر ہے ملک کا اکثریتی روزگار (چھوٹے کاروباروں یا نوکریوں کی شکل میں) اسی معیشت سے وابستہ ہے لیکن ان زیادہ تر عارضی نوکریوں میں استحصال کی شدت کہیں زیادہ ہے۔
اِس کالی معیشت کا اپنا ایک سائیکل ہے جو نہ صرف یہ کہ سفید معیشت پر حاوی ہو چکا ہے بلکہ اس کے بغیر منڈی سکڑ جائے گی اور ساری معیشت ہی دھڑام ہو جائے گی۔
کالی معیشت صرف پاکستان کا نہیں بلکہ بالعموم ہر پسماندہ سرمایہ داری کا مسئلہ ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق ہندوستان میں کالی معیشت کا حجم، جو 1955ءمیں جی ڈی پی کا صرف 5 فیصد تھا، اس وقت 62 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے خطوں میں بھی کم و بیش یہی صورتحال نظر آتی ہے۔
کالی یا غیر دستاویزی معیشت کو ’ڈاکومنٹ‘کرنے ‘ یعنی سرکاری لکھت پڑھت میں لا کر ٹیکس نیٹ کا حصہ بنانے کی موجودہ حکومت کی کوششیں پچھلی حکومتوں کی طرح ناکام نظر آتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک طرف تو تاجروں کی مزاحمت آڑے آئی ہے جس کے سامنے حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ دوسرا یہ غیر دستاویزی معیشت زیادہ تر چھوٹے کاروباروں پر مشتمل ہے جن کی شرح منافع اتنی نہیں ہے کہ ٹیکس نیٹ میں آنے کے بعد وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔ زرعی شعبے میں بھی 80 فیصد تک چھوٹے کاشتکار ہیں۔
برسر اقتدار آنے سے پہلے تحریک انصاف نے معیشت کو ”ٹھیک“ کرنے کے بہت وعدے کیے تھے۔ لیکن سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اسی نظام میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اسے اسی طرح چلا نا چاہتی ہے تاہم اس صورتحال کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جو اس کے تحت حکمرانی کرنے والوں کو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اصلاح پسندانہ سوچ نظام کو بدلنے کی بجائے ٹھیک کرنے پہ یقین رکھتی ہے۔ اور ایک طبقاتی نظام کو ”ٹھیک“ کرنے کی قیمت ہمیشہ محکوم طبقات ہی ادا کرتے ہیں۔
ویسے تو روزِ اول سے ہی ملک کی معاشی پالیسیوں کا تعین سامراجی ادارے کرتے رہے ہیں لیکن اس وقت معیشت عملاً آئی ایم ایف کے کنٹرول میں ہے جس نے نہ صرف حفیظ شیخ کو دوبارہ امپورٹ کر کے مشیر خزانہ لگوایا ہے بلکہ رضا باقر کی شکل میں سٹیٹ بینک کا گورنر بھی اپنے خاص بندے کو تعینات کروایا ہے۔ یعنی کرنسی نوٹ، جو چھاپنے کا اختیار کسی ریاست کا سب سے کلیدی حق تصور کیا جاتا ہے، اب آئی ایم ایف کے ایک ملازم کے دستخطوں سے قانونی سند حاصل کریں گے۔
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں حکومت کی مجموعی آمدن کا 90 فیصد تک عام لوگوں پر اِن ڈائریکٹ ٹیکس لگا کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یعنی غریب آدمی ماچس کی ڈبیہ تک پہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ جبکہ حکمران طبقات کم و بیش کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے موجودہ حالت میں حکومت کے لیے یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved