تازہ تر ین

جائیں تو جائیں کہاں؟

ضمیراحمدقریشی
6فروری کی اشاعت کا روزنامہ خبریں ملتان میرے سامنے ہے، شوبز کے صفحہ پر چھپی ہوئی ایک خبر اور دوسرے ادارتی صفحہ پر جناب ریاض صحافی کا کالم یہ دونوں میرے فکر کو مہمیز لگارہے ہیں، ایک طرف میں ملکی اخبارات میں شائع ہونیوالے وزیراعظم کے بیان پڑھ کر حیران ہوتا ہوں ملک میں سب کچھ ٹھیک، عوام سکھ کی سانس لے رہی ، معیشت کا پہیہ تیزی سے ترقی کررہاہے، بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہورہاہے، تو دوسری یہ خبر بھی ہے کہ پی ٹی وی پاکستان کے ذرائع ابلاغ کا بصری اہم ترین ادارہ ہے ، جس کے مالی حالات تاحال خراب ہیں، پی ٹی وی لاہور کے ملازمین کا میڈیکل فنڈ ایک طویل عرصہ سے بند ہے، فنکاروں ،ہنرمندوں کے معاوضے کی ادائیگی بھی نہیں ہورہی ، جس سے وہ نہایت مشکلات سے دوچار ہیں، اسی طرح ریڈیو پاکستان لاہور بھی مالی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، حکومت کی جانب سے فنڈ نہ جاری ہونے کی وجہ سے ملازمین اور پنشنرز حضرات کے میڈیکل فنڈ بھی ایک طویل عرصہ سے بند ہیں، ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی اپنے عروج پر ہیں، یوں سمجھ لیں بس نوکری چل رہی ہے، کنٹریکٹ پر کام کرنیوالے جزوقتی ملازمین سازندے اور ہنرمند اور دیگر ملازمین معاوضے نہ ملنے کی وجہ سے بھوکے مر رہے ہیں۔
(دوسری خبر کالم نگار ریاض صحافی کا کالم ہے )
موصوف لکھتے ہیں….وہ سادہ سے پرانے کپڑوں میں ملبوس تھیں کچھ کے سروں پر چادریں توکچھ کالے سفید ٹوپیوں والے برقعے پہنے ہوئے تھیں، کئی خواتین کی گود میں شیر خوار بچے دودھ کے مارے بلک رہے تھے، یہ وہ چہرے تھے جو کوئی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں کے باسی تھے، کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگ رینگ کر زندگی گزارنے والی خواتین کو تحریک انصاف نے (وی آئی پی پی) شخصیات بنارکھاتھا، جو وزیروں، وڈیروں ،مشیروں کی نشستوں پر بیٹھی اچھے مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان کے پہلو میں بیٹھی ہوئی ایک بے آسرا خاتون کا بچہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھا اسکی چپل سے کھیل رہاتھا، یہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ احساس کفالت پروگرام کے مناظر تھے، جہاں وزیراعظم عمران نے اپنے خطاب میں کہا ہم احساس کفالت کے تحت دو کھرب روپے کے سب سے بڑے فلاحی منصوبے کا آغاز کررہے ہیں، اس کے تحت 70لاکھ مستحق خواتین کو خود کفیل بنایاجائیگا، 25کروڑ کی آبادی کے پاکستان کی 70لاکھ مستحق خواتین 2کھرب روپے کے فنڈ سے مستفید ہونگی، جبکہ عوام کی اکثریت دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے ترس رہی ہے، اور جس ملک میں مزدور اور غریب طبقہ کی تعداد سب سے زیادہ ہو اور جو موجودہ اور عمران خان کے دور میں 90روپے کلو آٹا خریدنے کی استطاعت نہ رکھتی ہو، اس ملک کی 70لاکھ خواتین کو خود کفیل بنایاجائیگا، اور باقی گئیں بھاڑ میں۔
اس وقت پاکستان بھر میں 46ریڈیو اسٹیشن دنیا بھر میں اپنی نشریات بکھیر رہے ہیں، اسی طرح ملک کے پی ٹی وی اسٹیشن اپنے بصری تقاصوں کے ذریعے عوام اور بیرون کے لوگوں کو تفریح مہیا کر رہے ہیں، ان اداروں میں لاکھوں افراد ملازمین ہیں، جو دن رات اپنے منصبی کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں، میاں نوازشریف کے دور حکومت میں 2015سے میڈیکل سہولت کا فقدان ہوگیاتھا، مگر ان سے پہلے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے دور حکومت میں ملازمین کو اپنی خوشحالی بہت بڑی خوشخبری ملی تھی، وہ یہ کہ انکی تنخواہوں میں یکدم 50 فیصد اضافہ کر دیا گیا تھا، جبکہ پنشنرزحضرات کو صرف 20فیصد اضافہ پر ٹرخادیاگیاتھا، یوں سمجھ لیجئے آصف علی زرداری کے دور میں جو ملازمین پچاس ہزار تنخواہ لے رہاتھا اسکی تنخواہ یکدم ایک لاکھ ہوگئی تھی، جو ملازم اپنی موٹرسائیکل پر دفتر آتے تھے وہ اپنی کار میں آنے لگے تھے، کتنی خوشحالی کا دور تھا۔
میں چونکہ خود ریڈیو پاکستان کا ریٹائرڈ پنشنر ہوں اور 18سال کا عرصہ ہوگیا ہے ریڈیو پاکستان ملتان سے ریٹائرڈ ہوئے ،میری ریٹائرمنٹ کے تین سال بعد میرا اوپن ہارٹ آپریشن پی آئی سی لاہور کے ہسپتال میں ہواتھا، جس کا پورا خرچہ دو لاکھ اکسٹھ ہزار روپے ریڈیو پاکستان نے اداکیے تھے، اور دیگر میڈیکل سہولت اسی طرح بحال تھیں ، ایک ہزار 5ہزار تک کی میڈیکل ادویات باآسانی مل جاتی تھیں، ناکوئی فکر نہ کوئی فاقہ تھا۔مگر یکدم یہ تمام سہولتیں دورہوتی چلی گئیں، 2015سے تاحال ریڈیو پاکستان ملتان 265ریٹائرڈ ملازمین اور تقریباً 70کے قریب ریگولر ملازم ان سہولیات کو ترس رہے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ آخر وہ کونسے عوام تھے جب آٹا 30سے 40روپے کلو دستیاب تھا، حکومت کی طرف سے سرکاری ملازمین کو دی گئی سہولتیں بدستور جاری تھیں، یہ یکدم انقلاب کیسا آگیا ، نیا پاکستان کا خواب دیکھنے والا عمران خان کے دورحکومت میں آٹا 70روپے کلو پہنچ گیا، ادویات سرکاری ہسپتالوں سے غائب ہوگئیں، اور انکی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں۔
دو کھرب روپے کے فلاحی منصوبے کے اعلان کرنیوالے وزیراعظم پاکستان ذرا ملک کی 25 کروڑ آبادی کو مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے دیکھ لیتے، پاکستان بھر سے شائع ہونیوالی خبروں پر ہی نظر دوڑالیتے تو انہیں ملک میں تیل گھی کا بھاو¿ معلوم ہوجاتا۔
مگر ایک اخبار میں چھپنے والی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے اس بیان کو پڑھ کر رونا آگیا ، ہر روز میرے خلاف افواہیں پھیلائی جاتی ہیں،میں تنقید سے گھبرانے والا نہیں ہوں، اور نا ہی حالات سے سمجھوتہ کرونگا، آپ لوگ نااخبارات پڑھیں اور نہ ہی ٹی وی دیکھیں۔
آئے دن کے بڑھتے ہوئے سوئی گیس بجلی کے نرخ اور اشیائے خورد و نوش کی آسمان سے چھوتی اڑان، قانون کی ناانصافی ، پولیس کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی خواتین کی بے حرمتی کیا یہی پاکستان کے عوام کی قسمت میں رہ گیا ہے۔
آج جس سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کو نیب کے ہاتھوں اربوں کروڑوں دولت لوٹنے، ملک سے باہر بنکوں میں منتقل کرنے کی پاداش میں مقدمات قائم کیے ہوئے ہیں اسی زردار ی کے دور حکومت میں سرکاری ملازمین نے خوشحالی کا دور دیکھا تھا، اور اب کیا دیکھ رہے ہیں ، اب تو ہمیں اپنی پنشن کے خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہو رہی ہے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved