تازہ تر ین

پٹرول، بجلی ، گیس قیمتوں میں کمی لانا ضروری

وزیر احمد جوگیزئی
بات دراصل یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ ہی معاشی ہے ،اور یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے بلکہ شروع دن کا ہی ہے 47ءکے بعد پاکستان کے ابتدائی دنوں میں نواب آ ف بہاو لپور کی ،نظام آف حیدر آباد اور آغا خان کی مدد سے ہمارے ابتدا کے دو تین سالوں کے بجٹ بنے ،ان اشخاص کا پاکستان کے بجٹ بنانے میں کلیدی کردار تھا ۔پنجاب ابتدا میں ایک صحرا تھا ما سوائے اس علاقے کے جس میں کہ کینال سسٹم موجود تھا جو کہ سندھ تک پھیلا ہوا تھا ۔زراعت بھی کچھ خاص نہیں تھی اور کاٹن انڈسٹری بھی محدود تھی ۔سکھر میں بسکٹ بنانے والی کچھ کمپنیاں موجود ضرور تھی لیکن کہنے کا مقصد ہے کہ پاکستان کا کاروباری اور پیدا واری شعبہ نہایت ہی محدود تھا ۔لیکن آج کے دور سے اس دور میں ایک بڑا اور واضح فرق یہ تھا کہ اس دور کی بیوروکریسی نہایت ہی فعال اور متحرک تھی اور حالات بیو رو کریسی کے قابو میں تھے ،اور اس وقت کی بیو رو کریسی نے نہایت ہی مضبوط اور مربوط پلاننگ کی اور پاکستان کو ابتدا میں ہی ایک درست راستے پر ڈال دیا اور اس بیو رو کریسی کی مضبوط پلاننگ کا ثمر ایک مارشل لا ءکو نصیب ہوا اور اس مارشل لا ءنے اس بیو رو کریسی جو کہ پاکستان کی ایڈ منسٹریشن کی بنیاد تھی ۔اس کو اکھاڑ کر پھینک دیا ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شروع میں ہم اقتصادی طور پر کمزور تو تھے ہی لیکن پلاننگ ایسی کی گئی کہ دیکھتے دیکھتے پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر ابھرنے لگا ۔لیکن اس کے بعد مارشل لا ءکے نفاذ کے باعث اس گروتھ کو آگے نہیں بڑھایا جا سکا ۔جو بیو رو کریسی ٹرینڈ تھی اور معیشت کو بھی سمجھتی تھی ان کو فارغ کر دیا گیا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ قابل سیاست دان جو کہ تحریک پا کستان سے ہی ساتھ تھے اور قابلیت رکھتے تھے ان کو بھی فارغ کر دیا گیا ۔اور اس طرح ہم راستے سے ہٹتے گئے اور معیشت کو سنبھالنے والے تجربہ کا ر ہاتھوں سے محروم ہوتے گئے ۔اور پھر چل سو چل اس کے بعد جو رہی سہی کسر بچی تھی وہ اس کے بعد آنے والے نیشنلا ئزیشن کے دور نے پوری کردی ۔
اس کے بعد پاکستان کی انڈسٹری انڈسٹری نہیں رہی اور نہ ہی پاکستان کی ترقی کی وہ رفتار رہی ۔جب کسی ملک کے اکابرین میں ملک کی ترقی کے حوالے سے ذاتی مفادات شامل ہو جائیں تو ملک ترقی نہیں کر سکتا ،ملک کی ترقی کے لیے ایک بالکل ہی ( benin) یعنی کہ بالکل ہی بے غرض سوچ چاہیے ۔لیکن چونکہ ہمارا رخ خود غرضی کی جانب مڑ گیا اس لیے ہمارا ملک وہ بن گیا جو نہیں بننا چاہیے تھا ۔اب موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف دینے کے نام پر یو ٹیلیٹی اسٹورز کا ڈھول عوام کے سامنے رکھ دیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے اس ادارے کے ذریعے عوام کو مہنگائی کے اس دور میں ریلیف ملے گا ،سہولت ملے گی ۔لیکن اس حوالے سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یو ٹیلیٹی سٹورز اس وقت صرف پچاس لاکھ لوگوں کو ہی میسر ہیں ،اگر پچاس لاکھ عوام کو یہ سہولیت مل بھی جاتی ہے تو باقی 22کروڑ کہاں جائیں گے ۔حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے یہ حکومتی اقدام ناکافی ہے ۔اس پیکج کے تحت 15ارب روپے جو کہ اس پیکج میں دیے جا رہے ہیں اس کا 80فیصد حصہ یا تو کسی نہ کسی کی جیب میں چلا جائے گا یا پھر ضا ئع ہو جائے گا اگر موجودہ حکومت اگر حقیقی معنوں میں عوام کو مہنگائی کی وجہ سے ریلیف فراہم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے کچھ دیگر اقدامات لینے کی ضرورت ہے ۔اس حوالے سے ٹیکسوں میں کمی ہو نی چاہیے ،اس کے ساتھ ساتھ عوام کوپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریلیف دینے کی اشد ضرورت ہے اس سے عوام کو نہ صرف براہ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ زراعت کو بھی فائدہ ہو گا ۔اس کے ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی کمی کی جانی چاہیے ۔اس 15ارب روپے کے پیکج سے نہ تو زراعت کو کو ئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی عام آدمی کو ۔
انڈسٹری کی بہتری کے لیے بجلی سستی ہو نی بہت ضروری ہے ۔ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں صنعت کیوں پنپ نہیں رہی آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں انڈسٹری فروغ نہیں پا رہی ۔اس کی بنیادی وجہ حکومتی پا لیسیوں میں تسلسل کا نہ ہونا ہے ۔کاروبار اس ملک میں فروغ پاتے ہیں جن میں سرمایہ کار اور تاجر اپنے کام میں اس طرح مصروف ہوں کہ ملک کی ترقی ہو رہی ہو۔تاجر اور صنعت کاروں کی ترقی قوم کی ترقی ہے ۔اگر کسی بھی حکومت کو غذائی اجناس سمیت دیگر اشیا ءکو عوام کی دسترس میں لانا ہے تو صنعت اور زراعت کو بے لاگ ترقی دینی ہو گی اس بات کی پرواہ نہیں ہو نی چاہیے کہ زراعت اور صنعت کی ترقی کی وجہ سے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ زیادہ فائدہ کس کو ہوگا ،جب ترقی ہو تی ہے تو اس کا فائدہ بالآخر سب کو ہی ہو تا ہے ۔نقصان کسی کا نہیں ہو تا ۔اور عوام کی خوشحالی کے لیے حکومت سے تعاون بھی ایک لازمی عنصر ہے ۔عوام کو ہنر مند بنانا ان کو بنیادی ضروریات کی فراہمی اور صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی بھی حکومت کا بنیادی فرض ہے ۔میں یہاں پر افرادی قوت کو ڈویلپ کرنے کی بات کر رہا ہوں اس کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں ہے ۔عوام الناس کو ہنر مند بنانا حکومت کا اولین فرض ہے اور حکومت کی اولین ترجیح بھی ہو نی چاہیے ۔عوام ہنر مند ہوں گے تب ہی زراعت بھی ترقی کرے گی اور انڈسٹری کا پہیہ بھی چلے گا ۔لنگر خانے کھولنے سے اور لنگر خانوں میں عوام کو دو وقت کی روٹی کھلانے سے ملک ترقی نہیں کرے گا اور نہ ہی ہمارے مسائل حل ہو ں گے ۔اور یوٹیلیٹی سٹورز کو اربوں روپے دے کر عوام کو سستی اشیا ءخوردنوش کی فراہمی بھی یقینی نہیں بنائی جا سکتی ۔حکومت کو اپنی ترجیحات اور پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہو گی ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved