تازہ تر ین

شناخت کا کرب

علی سخن ور
گیت ہو یا کہانی، یا پھر کوئی تحریر یا تصویر۔شاعر، مصور، لکھاری یا کسی بھی فنکار کے لیے اولاد کی طرح ہوتی ہے۔ تخلیق کسی بھی تخلیق کار کی شناخت ، پہچان اور حوالہ ہوتی ہے۔ اگر اس حوالے کو مٹانے یا تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے تو تخلیق کار کےلئے اس سے بڑھ کر کوئی بھی ظلم نہیں ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ برسوں پہلے پاکستان کے ایک انگریزی اخبار میں میری ایک تحریر شائع ہوئی، موضوع جاندار تھا، پڑھنے والوں نے بہت سراہا لیکن پھر ایک دن یونہی گوگل پر اپنے کسی مضمون کی تلاش کے دوران مجھ پر منکشف ہوا کہ میری وہی تحریر نیپال کے ایک اخبار میں نہایت نمایاں جگہ پر شائع ہوئی لیکن اس پر مصنف کی جگہ میری بجائے کسی اور کا نام لکھا تھا۔ یقین کیجیے میں نے خود کو اس لمحے سے زیادہ بے بس لاچار اور مجبور کبھی محسوس نہیں کیا۔بہر حال میں نے مذکورہ اخبار تک ای میل کے ذریعے اپنی شکایت پہنچائی، اخبار کی انتظامیہ نے جواب بھی دیا، معذرت بھی کی لیکن تب تک انٹرنیٹ کے ذریعے وہ تحریر اس دوسرے مصنف کے نام سے دنیا بھر میں گھوم چکی تھی۔ایک اور دلچسپ بات بھی آپ کے ساتھ شیئر کرتا چلوں کہ سی آئی اے، را اور اسی قسم کی دوسری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایسے نہایت منظم قسم کے تھنک ٹینک بنا رکھے ہیں جو ان لکھنے والوں کی تحریروں کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کے ملک کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوں۔ دس بارہ سال پہلے میں نے ایک اخبار میں پاکستان کے ان اقدامات پر مضمون لکھا جو پاکستان دہشتگردی کے خلاف برسوں سے کر رہا تھا۔ مضمون کا پہلا جملہ یہ تھا،Pakistan is doing all its best to curb the menace of terrorism میرا وہی مضمون میرے ہی نام سے اور اسی عنوان سے انٹرنیٹ پر ایک جگہ اس ابتدائی جملے کے ساتھ شائع ہواPakistan is doing nothing to curb the menace of terrorism یعنی یوں سمجھ لیں کہ جہاں میں نے yesلکھا وہاں noلکھ دیا گیا،اچھے کو برا بنا دیا گیا اور برے کو اچھا۔آسان لفظوں میں یہ کہ میں نے اپنے ملک کی قربانیوں اور امریکا اور بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کی زیادتیوں کی بات کی لیکن تبدیلی کرنے والے نے میری ہی تحریر کو میرے ہی ملک کے خلاف تحریر بنادیا۔تاہم جس دنیا میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے۔
شناخت، پہچان اور حوالے کی بات ہورہی ہے تو آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ آجکل بھارت میں ہر دس سال بعد ہونے والی مردم شماری کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اس سے پہلے 2011ءمیں مردم شماری ہوئی تھی ، اب 2021ءمیں مردم شماری کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔مردم شماری کا بنیادی مقصد آبادی کی کل تعداد کا اندازہ لگا کر آئندہ برسوں کے لیے وسائل کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جمہوری معاشروں میں اسمبلی کی نشستوں اور ان میں متناسب نمائندگی کا حساب کتاب بھی مردم شماری کے ذریعے ہوتا ہے۔ بھارت میں متوقع مردم شماری کے حوالے سے آبادی کے ایک مخصوص طبقے میں نہایت اضطراب کی کیفیت ہے۔ آپ میں سے اکثر نے بھارت میں آباد آدیواسیوں کے بارے میں ضرور سن رکھا ہوگا۔ان لوگوں کا دراصل ان قبائل سے تعلق ہے جو صدیوں سے جنگلوں میں رہ رہے ہیں۔ بھارت سرکار انہیں کسی طور بھی دیش میں آباد ایک قدیم مقامی نسل کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں، یہی سبب ہے کہ انہیں عموماً کسی بھی قسم کے بنیادی انسانی حقوق سے مسلسل محروم رکھا جاتا ہے۔آدیواسی قبائل ہندو معاشرے میں اچھوت قوم کے لوگ شمار ہوتے ہیں۔ 2011ءکی مردم شماری کے مطابق بھارت کی کل آبادی کا 8.6فیصد آدیواسیوں پر مشتمل ہے یعنی ان کی تعداد 104ملین کے قریب ہے۔زمانہ جدید میں یہ قبائل زیادہ تر آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات،جھڑکنڈ، مدھیہ پردیش،مہاراشٹر، اڑیسہ اور مغربی بنگال میں آباد ہیں۔بھارت میں آئے روز عیسائیوں کو مختلف حیلے بہانوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسیحی مبلغ نہایت جانفشانی سے آدی واسیوں کو عیسائی بنانے میں مصروف ہیں، یہ بات ہندو انتہا پسندوں سے برداشت نہیں ہوتی۔ 2011اور اس سے پہلے ہونے والی مردم شماری میں مذہب کے خانے میں ہندو مسلم، سکھ اور عیسائی کے علاوہ ایک خانہ اور بھی ہوتا تھا جس پر ’کوئی اور‘ یعنی otherلکھا ہوتا تھا۔ 2011کی مردم شماری میں اپنے ساتھ مسلسل ہونے والی زیادتیوں پر احتجاج کی غرض سے آدیواسیوں کی اکثریت نے ’ ہندو‘ کی بجائے ’کوئی اور‘ یعنی ‘other’والے خانے میں نشان لگادیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوﺅں کی کل تعداد پہلے کے مقابلے میں0.7فی صد کم ہوکر79,8فی صد رہ گئی۔تعداد میں مزید کمی سے بچنے کےلئے 2021میں ہونے والی مردم شماری میں آر ایس ایس اور اسی طرح کی دیگر انتہا پسند تنظیمیں آدی واسیوں کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ مذہب کے خانے میں خود کو ہندو لکھیں۔آدی واسیوں کو یہ احساس بھی دلایا جارہا ہے کہ برسوں پہلے ان کے آباﺅ اجداد شہری آبادیوں سے فرار ہوکر جنگلوں کی طرف اس لیے گئے تھے کہ مسلمان انہیں زبردستی دھرم تبدیل کرنے پر مجبور کرتے تھے تاہم آدی واسیوں کے لیے یہ دلیل کسی طور بھی قابل قبول نظر نہیں آتی۔ وہ اس بات پر قائل ہیں کہ کم تر ذات کے اچھوت شمار ہونے کے سبب انہیں اعلیٰ ذات کے ہندوﺅں کے ظلم و ستم اور استحصال کا سامنا رہتا تھا اس لیے ان کے آباﺅ اجداد جان بچا کر جنگلوں کی طرف پناہ کے لیے نکل گئے تھے۔RSS یعنی راشٹریہ سیواماک سانگھ نے سکھوں کو بھی یہ بات باور کرانے کی ایک کوشش شروع کر رکھی ہے کہ سکھ ازم کوئی الگ سے دھرم نہیں، یہ بھی ہندو مت کا حصہ ہے۔ سکھوں سے بھی کہا جارہا ہے کہ وہ مردم شماری کے دوران خود کو ہندو شمار کروائیں۔
بھارت میںحال ہی میں متعارف کرایا جانے والاAA C قانون ہو یا پھر NRCترمیم، یا پھر مقبوضہ جموں کشمیر میں آرٹیکل 35Aاور آرٹیکل 370کی منسوخی، یہ تمام اقدامات بھارت کو ایک خالص ہندو ریاست کا درجہ دینے کے لیے کیے جانے والی جدوجہد کا حصہ ہیں۔لگتا ہے نریندرمودی اپنے دور اقتدار کی تکمیل سے پہلے بھارت سے مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کے لیے زمین کو اس انداز میں تنگ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ یہ تمام اقلیتیں بھارت کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوجائیں گی۔مسلمانوں کے لیے بہر حال پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک موجود ہیں جو کسی نہ کسی طور ان کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوسکتے ہیں، عیسائیوں کے لیے بھی مغربی ممالک کے دروازے کھول دیے جائیں گے لیکن اصل مسئلہ سکھوں کا ہوگا۔ ان کے پاس اپنے لیے ایک الگ ریاست کے حصول کے سوا اور کوئی بھی راستہ نہیں ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ سکھ آر ایس ایس کی خواہش کے مطابق خود کو ہندو دھرم کا حصہ قرار دینے میں اپنی عافیت سمجھیں گے یا پھر ایک آزاد ریاست میں عزت اور خود داری کے ساتھ جینے کو فوقیت دیں گے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved