تازہ تر ین

یکساں نصاب کے نام پر!

پروفیسر ملک محمد حسین
وفاقی حکومت نے پورے ملک میں یکساں نظامِ تعلیم اور یکساں نصابِ تعلیم کے نفاذ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس ضمن میں مرکزی وزارتِ تعلیم نے پرائمری جماعتوں کے مجوزہ نصاب کا مسودہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق :
٭ پہلی اور دوسری جماعت میں انگریزی ، اردو ، ریاضی اورمعلومات عامہ (جنرل نالج) کے مضامین تجویز کیے گئے ہیں۔ جنرل نالج میں معاشرتی علوم، سائنس اور اسلامیات کی معلومات دی گئی ہیں۔
٭ تیسری جماعت میں انگریزی، اردو، ریاضی، معلومات عامہ اور اسلامیات کے مضامین تجویز کیے گئے ہیں۔
٭ چوتھی اور پانچویں جماعت میں انگریزی، اردو، ریاضی ، سائنس، اسلامیات، معاشرتی علوم کے مضامین تجویز کیے گئے ہیں۔
نصابی تجاویز میں ’اقداری تعلیم‘ ( Value Education)کے نام سے ایک علیحدہ نصابی کتابچہ فراہم کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجوزہ قدریں (Values) سارے نصاب اور سارے مضامین میں اساسی فکر کے طور پر نصابی وجود میں پھیلی ہوں گی اور یہی قدریں طلبہ و طالبات کی شخصیت کا حصہ بنائی جائیں گی۔
نصاب کے باقی حصوں پرتبصرہ بعد میں کیا جائے گا پہلے ’اقداری تعلیم‘ (ویلیو ایجوکیشن) کو دیکھتے ہیں کیونکہ اس کی تفصیلات پہلی سے بارھویں جماعت تک دی گئی ہیں۔ حقیقتاً ’ویلیو ایجوکیشن‘ کا یہ کتابچہ حکومت کی نصابی پالیسی کی بنیاد ہے۔اقداری تعلیم، معلوماتِ عامہ، معاشرتی علوم وغیرہ کی تفصیلات دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ نصاب کی تشکیل ہیومنزم (Humanism)کے فلسفے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اقداری تعلیم میں جن اقدارکو طلبہ کی شخصیت اور ان کے فکر وخیال میں راسخ کرنے کا عزم کیا گیاہے وہ اساسی اقدار ہمدردی اورنگہداشت یادیکھ بھال، راست بازی اور امانت داری، ذمہ دارانہ شہریت ہیں۔ ان کے بعد بعض ذیلی اقدار کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ نصابی دستاویز میں جابجا کہا گیا ہے کہ مذکورہ اقدار پورے نصاب میں ایک راسخ اور مضبوط دھارے کے طور پر پھیلا دی جائیں گی۔ جب ہم معلوماتِ عامہ، معاشرتی علوم، حتیٰ کہ اسلامیات کے مجوزہ نصاب پر نظر ڈالتے ہیں تو ’اقداری تعلیم‘ کے یہ تصورات ہرطرف نظر آتے ہیں۔ یہ بات علمی حلقوں میں واضح ہے کہ ہیومنزم (Humanism)باقاعدہ ایک فلسفہ ہے، جس کا ایک اپنا تصورِ جہاں اورتصورِ کائنات ہے اور یہ کسی خدائی نظام کو نہیں مانتا۔ یہی آج کے دور میں مغرب کا نظامِ حیات ہے۔ ہیومنزم اپنے عملی اقدامات میں انسانوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہے: پہلی قسم ہے انسان (Humans)، دوسری قسم ہے تابع انسان(Sub Human) اور تیسری قسم ہے منفی انسان( Non Humans)۔ مغربی لوگ اپنے آپ کو ’انسان‘ کہتے ہیں۔ ایشیائی لوگ ان کے نزدیک ’تابع انسان‘ ہیں اور غیر ترقی یافتہ معاشرے، مثلاً افریقی ’منفی انسان‘ ہیں۔ دنیا میں اس وقت جو جنگ وجدل ، قتل وغارت اور ظلم وستم نظر آرہا ہے، وہ ہیومنزم کے انھی تصورات کی وجہ سے ہے۔ ہمارے مقتدرحلقے ہیومنزم کے فلسفہ حیات کو اور ہیومنزم کی اقدار کو ہماری تعلیم کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں: ہمارا نظامِ حیات، ہمارا تصورِ جہاں اور ہمارا آئین اور معاشرتی نظام، جس فلسفہ حیات پر مبنی نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم کو تشکیل دینا چاہتے ہیں وہ اسلام ہے۔ نظریہ پاکستان ، قائد اعظم کے تصورات، قرار دادِ مقاصد، دستوراسلامی جمہوریہ پاکستان کا آرٹیکل31 تقاضا کرتا ہے کہ ہمارا قومی نظامِ تعلیم اور ہمارا قومی نصاب اسلام کے نظامِ حیات پر مبنی ہوگا، جس کی اساسی اقدار توحید ،رسالت ، ا?خرت اور عبادت ہیں۔ ان اقدار کے مطابق انسان بنیادی طور پر اللہ کا بندہ ہے اور اس کا مقصد ِزندگی اللہ کی عبادت، یعنی بندگی اور اطاعت ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو پورے نصاب کے تانے بانے میں پھیلانا ہوں گی اور تعلیم کا مقصد انھی اقدار کو نئی نسل کے رویوں اور فکروعمل میں جاری وساری کرنا ہے۔
تاہم، یہاں بالکل مختلف ذہن اس نصابی کام پر حاوی ہے جو ہماری آیندہ نسلوں کو اپنے دین، اپنے کلچر، اپنی روایات اور اپنے تصورِ کائنات سے دور لے جانا چاہتا ہے۔اگر ہم پچھلے چندبرسوں پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ مغربی وسائل پر پلنے اوران کے ایجنڈے کو لے کر چلنے والی این جی اوز نے ہماری تعلیمی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
مجوزہ نصابات پر ایک نظر
اسلامیات کا نصاب : اسلامیات کا نصاب پہلے بھی ہمارے ہاں اپنے حجم اور تنوع کے لحاظ سے بہت مختصر ہوتا ہے، جس سے طالب علم کے ذہن میں نہ اسلامی عقائد راسخ ہوتے ہیں اور نہ اسلامی نظام حیات کا کوئی واضح اور مربوط تصور پیدا ہوتا ہے۔ زیر غور نصاب میں پہلی سے پانچویں تک ناظرہ قرآن شامل کیا گیا ہے جو فی الحقیقت 1960ءسے لازمی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے لیے سکولوں میں زیرو پیریڈ ہوا کرتا تھا، جس میں ناظرہ قرآن پڑھایا جاتا تھا۔ عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا رہا۔ اب حکومت نے تدریس القرآن کے متعلق بل پاس کیا ہے، جس سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ پانچویں جماعت تک ناظرہ قرآن اور اعلیٰ ثانوی درجے تک ترجمہ قرآن کی تکمیل ہوگی۔ زیر غور نصاب میں اچھا ہوتا اگر تدریس القرآن کو علیحدہ حیثیت دی جاتی، نیز اسلامیات کے نصاب میں بنیادی تصورات زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ دیے جاتے۔
اس کے بعد اردو کے نصاب پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اردو دانی کے لحاظ سے تنوع ہے۔ اردو بعض بچوں کی مادری زبان ہے۔ بعض گھروں میں اگرچہ اردو مادری زبان نہیں ہے لیکن گھر میں والدین بچوں کے ساتھ اردو میں بات کرتے ہیں۔ اس طرح سکول میں آنے والے بچوں کا اردو زبان کے لحاظ سے پسِ منظر مختلف ہے۔ لہٰذا نصاب میں اس کا مناسب طور پر خیال رکھا جانا چاہیے، لیکن پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے، اور اب جبکہ ’یکساں نصاب‘ کی بات ہورہی ہے، تو اردوکے نصاب میں بچوں کے مختلف پسِ منظر کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ذخیرہ¿ الفاظ کے لحاظ سے نصاب میں طے کیا گیا ہے، کہ” تیسری جماعت کے بچے اڑھائی ہزار الفاظ کو جانتے، سمجھتے اور استعمال کرتے ہوں گے، جبکہ پانچویں جماعت کے بچے پانچ ہزار الفاظ کو بولنے لکھنے پڑھنے میں استعمال کرسکیں گے۔ اب یہ اڑھائی ہزار یا پانچ ہزار الفاظ کون سے ہوں گے؟ اس ذخیرہ الفاظ کی فہرست موجود نہیں ہے۔ یہ تحقیق کا کام ہے اور مختلف پس منظر کے بچوں کے لیے اس طرح کے ذخیرہ الفاظ کی فہرستیں تیار کرنا بڑی مہارت اور جاں فشانی کا کام ہے۔ انگریزی کا نصاب اگر دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی لسانی پالیسی نہیں ہے۔ نیز ذہنی سطح کے لحاظ سے شاید ان بچوں کو سامنے رکھا گیا ہے، جن کے گھرو ںمیں ماں باپ زیادہ تر انگریزی الفاظ اپنی بول چال میں برتتے ہیں اور ان کے گھر میں انگریزی میڈیا کے پروگرام دیکھے سنے جاتے ہیں۔ المختصر یہ کہ انگریزی کا نصاب بچوں کی ضروریات اور ذہنی سطح کے مطابق نہیں ہے، بلکہ کسی انگلش بولنے والے ملک کے لیے ہے۔ انگریزی ، اردو، اسلامیات ، معاشرتی علوم اور معلوماتِ عامہ کے نصابات کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں افقی اور عمودی ربط غائب نظر آتا ہے۔ سارے مضامین اور سارا نصاب تو ایک ہی بچے نے پڑھنا ہوتا ہے، لہٰذا یہ ربط اشد ضروری ہے۔ معلومات میں خلا یا تکرار نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرتی علوم کا نصاب مکمل طور پر گنجلک نظر آتا ہے۔ ’اقداری تعلیم‘ میں دی گئی قدروں کو بچوں کے ذہنوں پر ٹھونسنے کی وجہ سے زبان وبیان میں پیچیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سب باتیں بچوں کے ذہنوں کے اوپر اوپر سے ہی گزر جائیں گی۔ معاشرتی علوم، معلوماتِ عامہ اور انگریزی کے نصاب میں کمپیوٹر کی مدد سے مختلف جگہوں پر نقل کرتے ہوئے چسپاں کا کمال زیادہ ہے۔ بعض امریکی ریاستوں ، سکولوں اور سکول سسٹمز کے نصابی خاکے اٹھا کر ڈال دیے گئے ہیں۔ ویب سائٹس اور حوالے جو بطور رہنمائی دیے گئے ہیں، ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امریکی سکولوں کے نصاب کو پاکستانی بنائے بغیر بڑے پھوہڑپن سے شامل کر دیا گیا ہے۔ سائنس اور ریاضی کے نصاب کے متعلق مختصر تبصرہ یہ ہے کہ ان میں عمودی ربط کا فقدان ہے۔ اسی طرح بعض تصورات غیر ضروری اور ماحول سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اصل میں مسئلہ وہی ہے کہ امریکی سکولوں کا نصاب اٹھا کر شامل کر دیا گیا ہے، جس سے مقامی ماحول سے ان کی نامناسبت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اردو اور انگریزی کا نصاب بچوں میں مطلوبہ لسانی صلاحیتیں پیدا نہیں کرسکے گا۔ خصوصاً متوسط اور نچلے متوسط گھرانوں کے بچے، دیہاتی سکولوں کے بچے اور اساتذہ اس نصاب کے تقاضوں سے عہدہ برآ نہیں ہوسکیں گے۔
اس نصاب کو قبول کرنے کے بجائے حکومتی زعما کو احساس دلایا جائے کہ یکساں نظامِ تعلیم کا مستحسن فیصلہ، اس نصاب کے ہوتے ہوئے نافذ نہیں ہوپائے گا۔ نیز ضروری ہے کہ اگر کوئی یکساں نظامِ تعلیم اور یکساں نصابِ تعلیم نافذ ہونا ہے تو وہ سب کی شراکت، مشاورت اور رضامندی سے نافذ ہو۔
(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved