تازہ تر ین

امریکہ طالبان مذاکرات اور پاکستان

کامران گورائیہ
امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہونے میں اب صرف چند دن حائل ہیں۔ یہ امن معاہدہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات جبکہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں موجود اپنی افواج کے انخلا سے مشروط ہے۔ اگر طالبان امریکہ معاہدہ کا اعلان آئندہ چند دنوں میں کر دیا گیا تو اس طرح امریکہ کی سب سے طویل عرصہ تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمہ کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔ جرمنی کے شہر میونخ میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس کی طرف سے ملنے والے اشارے بھی طالبان امریکہ امن معاہدہ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ امریکہ، طالبان سے امن معاہدہ کو اس لئے بھی یقینی بنانے کا خواہش مند ہے تا کہ دوسری مدت کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند، امریکی فوجیوں کی گھروں میں واپسی کی وجہ سے انتخابی معرکے میں کامیاب ہو سکیں۔ دیکھا جائے تو پچھلے کچھ عرصہ سے افغانستان میں عبرتناک ناکامی کے بعد امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے لئے بہت کچھ داﺅ پر لگا ہوا ہے لیکن افغانستان کا تو پورا سیاسی مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امن معاہدہ کے بعد افغانستان میں کس طرز حکومت کو کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان جس نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا اس پر اس امن معاہدہ کے اثرات کس طرح سے مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ امن معاہدہ کے بعد بھی پاکستان کو ڈو مور کے لئے قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ آئندہ کئی سالوں تک افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس کےلئے اسے پاکستان کی ضرورت ہے، اسی لئے امریکہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی یف جیسے عالمی فورمز کو پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کر رہا ہے لیکن خارجہ پالیسی کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان دانشمندی کا مظاہرہ کر ے اور مکمل طور پر امریکی پالیسیوں کی اطاعت کرنے سے گریز کرے۔ اس احتیاط کی ضرورت پاکستان کو اس لئے بھی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کو اولیت دیتا آیا ہے اور اب بھی وہ وقتی ضروریات کے تحت پاکستان کے تعاون کا خواہاں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہر حال میں آئندہ انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانا ہے اسی لئے انہوں نے بارہا مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی جس کا خمیازہ مظلوم کشمیری طویل کرفیو کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن پاکستان کے مفاد میں ہے اسی لئے ہمیشہ ہماری طرف سے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں اور قیام امن کے لئے بھی ہم نے لازوال قربانیاں دیں۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کی تعریف تو کی گئی لیکن مقبوضہ کشمیر سمیت بہت سے دیگر امور پر امریکہ اور عالمی طاقتوں نے پاکستان کے موقف کی تائید اور حمایت فیصلہ کن انداز سے نہیں کی جس کا نقصان اس ملک کو ان گنت شہادتوں اور ہلاکتوں کی صورت میں اٹھانا پڑا۔ ان تلخ تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ اور عالمی قوتوں کے سامنے طالبان امریکہ معاہدہ کے اعلان سے پہلے اپنی شرائط بھی منوائے جس میں مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت کی بحالی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے استصواب رائے کا حق دلانا بھی شامل ہے۔ پاکستان پچھلے 40 برس سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کر رہا ہے جس کا اعتراف سیکرٹری اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے بھی اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں کیا اور پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ بھارت میں متنازع شہریت بل کی منظوری کے بعد مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم سے ایک بڑا خطرہ لاحق ہے کہ مودی سرکار کے جبرو تشدد سے تنگ بھارتی مسلمان ہجرت کر کے پاکستان کا رخ کریں گے اگر ایسا ہوا تو پہلے ہی سے بہت سے بحرانوں میں مبتلا پاکستان کو سنگین ترین معاشی بحران کا سامنا ہوگا جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے بے شمار وسائل درکار ہوں گے۔ اس لئے پاکستان کو امریکہ اورطالبان کے درمیان امن معاہدہ سے پہلے اپنے مطالبات سامنے رکھنا ہوں گے۔ جس انداز اور احساس ذمہ داری کے ساتھ پاکستان نے جنوبی ایشیا اور دنیا بھر میں امن کے قیام کے لئے اپنی فورسز کو خدمات انجام دینے کے لئے بھیجا اسی طرح بھارت کے جارحانہ عزائم کو بھی ناکام بنانے کے لئے عالمی قوتوں سے کردار ادا کرنے کے لئے شرط عائد کی جاسکتی ہے جسے اس وقت ٹرمپ انتظامیہ منظور کرنے پر مجبور بھی ہوگی۔
طالبان سے امن مذاکرات سے پہلے بھارت افغانستان میں اپنا اثرورسوخ اس حد تک بڑھا چکا تھا کہ اسے افغان حکومت کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگئی اور بھارت افغانستان گٹھ جوڑ کی وجہ ہی سے پاکستان میں بہت سے ناقابل فراموش سانحات رونما ہوئے۔ یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھارت کو ہمیشہ امریکہ کی حمایت حاصل رہی۔ پچھلے ہی دنوں امریکہ اور بھارت کے درمیان جدید ترین فضائی، دفاعی اور میزائل سسٹم کا معاہدہ ہوا ہے جس سے خطے میں امن کا توازن بگڑنے کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ دنیا کو اچھی طرح سے علم ہے کہ پاک افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہے یہ ملک ایٹمی قوت ہے ،پاک فوج ایک بہترین اور پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والی فورس ہے۔ اس لئے ہمیں کسی سے ڈرنے یا کسی کے آگے جھکنے کی ہرگز ضرورت نہیں لیکن اس ملک کو درپیش معاشی بحران نے ایک بری شکل پیدا کی ہوئی ہے اور عوام کو مہنگائی، بیروز گاری جیسے طوفانوں کا سامنا ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے ہاتھ باندھنے پر مجبور ہے اور انہی مالیاتی اداروں کو امریکہ کی آشیر باد حاصل ہے اور وہ عالمی سیاسی منظر نامہ میں من مانی تبدیلیوں کے لئے پاکستان پر اپنا دباﺅ بڑھا رہے ہیں لیکن مشکل کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں۔ پاکستان اب اس پوزیشن میں ہے کہ اسے عالمی قوتوں کو مطلوب مفادات کے تابع ہو کر چلنے کی ضرورت نہیں۔ قیام امن کے لئے امریکہ، طالبان امن معاہدہ ناگزیر ہے لیکن اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاکستان کے کردار کا اعتراف کروانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور سفارتی حلقوں نے ہمیشہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر مایوسی کا اظہار کیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے پاکستان اس وقت اقوام عالم میں ایک اہم پوزیشن پر براجمان ہو چکا ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کے بعد پاکستان نے ایک بار پھر امریکہ اور طالبان پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے امن مذاکرات دوبارہ شروع کریں اور پاکستان اس مقصد میں بھی کامیاب ہوا۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ افغانستان میں تنازع کے نتیجے میں افغانستان کے بعد پاکستان سے زیادہ کسی اور نے نقصان نہیں اٹھایا۔ نتیجتاًپاکستان سے زیادہ افغان امن مذاکرات میں کسی اور کو دلچسپی نہیں ہو گی۔ پاکستان نے طالبان پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ صرف مذاکرات کا راستہ ہے۔موجودہ حکومت کی متنازع اور غیر تسلی بخش پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے اندرونی حالات، بشمول معیشت کوئی قابلِ رشک تصویر پیش نہیں کر رہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے افغانستان میں امن کا قیام وقت کی اشد ضرورت ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved