تازہ تر ین

مہنگائی لے بیٹھے گی….(2)

قسور سعید مرزا
2009ءسے قرضوں کی بھرمار تو حفیظ شیخ صاحب کی وزارت کے زمانے سے شروع ہوئی تھی۔ اب رہی سہی کسر یہ پوری کر دی گئی ہے کہ کہا جا رہا ہے سی پیک کے حوالے سے معاہدے میں طے کی گئی خفیہ شرائط جوکہ چین نے ظاہر نہ کرنے کیلئے کہا تھا آئی ایم ایف کو فراہم کر دی گئی ہیں ۔ گزشتہ دنوںہی آئی ایم ایف کے سورما نے اسلام آباد میں کہا ہے کہ پاکستان چین پر تجارت میں انحصار کم کرے۔ مقتدر حلقوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ ٹولہ جو امریکہ میں رہتا ہے اور جن کے بچے برطانیہ میں پیدا ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں میں ہمارے دفاعی اور حساس راز کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا سربراہ وزیر خزانہ ہوتا ہے اس کا کام ہے کہ وہ وقت پر معاشی اصلاحی فیصلے کرے۔ اب اسمبلی میں اعلان کیا جا رہا ہے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے 15 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ کیا 22 کروڑ عوام کی ضروریات دو ہزار یوٹیلٹی سٹور پورا کر دیں گے۔ پہلے مہنگائی کا توڑ اتوار بازار اور جمعہ بازار سمجھے گئے وہ ایک الگ کاروبار بن گیا۔ مہنگائی اور زیادہ ہو گئی۔ اپوزیشن نے تو اس حکومت کا کیا بگاڑنا تھا ،یہ مہنگائی اس کو لے کر بیٹھ جائے گی۔
زرعی ملک میں آٹا اور چینی کا بحران کس کی نالائقی اور نااہلی ہے۔ خزانہ، خوراک وزراعت کی وزارتوں میں بیٹھے ہوئے بابوﺅں کو زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہیے۔ ان کی خانہ پری اور اعداد شماری پر عوام لعنت ہی بھیجتی ہو گی۔ دعوے کرتے ہیں کہ معیشت سنبھل رہی ہے اور سٹاک مارکیٹ بہتر ہو رہی ہے۔ اگر معیشت بہتر ہوئی ہے تو مہنگائی اور بے روزگاری اتنی کیوں ہے؟ میرے خیال میں سٹاک مارکیٹ بنیادی طور پر زیادہ تر سٹہ بازوں کا کلب ہے ۔یہ اس طرح کا ایک گاﺅں کے پاس ایک جنگل تھا جس میں بہت بندر تھے۔ ایک کمپنی نے اپنا کیمپ لگایا اور سروے کیا کہ اس جنگل میں کتنے بندر ہیں۔ کمپنی کی جانب سے گاﺅں میں اعلان کر دیا گیا کہ کمپنی 300 روپے کا ایک بندر خریدے گی۔ گاﺅں والوںنے سوچا کہ مفت کا بندر ہے اور 300 روپے ملیں گے۔ گاﺅں والوں نے بندر پکڑنا شروع کر دیئے کمپنی نے چالیس فیصد بندر خریدے اور اعلان کیا اب بندر 400 روپے کا خریدے گی۔ لوگوںنے اور محنت سے بندر پکڑنا شروع کر دیئے ۔کمپنی نے مزید چالیس فیصد بندر خریدے۔ اب جنگل میں بندر بہت کم رہ گئے تھے اور پکڑنا مشکل ہوگیا۔ کمپنی نے اعلان کیا کہ اب بندر 1000 روپے کے حساب سے لے گی اور اس گاﺅں میں اپنا ایک ایجنٹ چھوڑ دیا جو لوگوں کو 400-300 میں خریدا ہوا بندر 700 میں دینے لگا۔ لوگوں نے سوچا بندر پکڑنا اب مشکل ہے۔ اس ایجنٹ سے 700 میں لیکر کمپنی کو 1000 روپے میں بیچ دیتے ہیں۔ کچھ دن کے بعد سارے بندر واپس گاﺅں والوں کے پاس تھے اور کمپنی اپنا کیمپ اٹھا کر غائب ہوچکی تھی۔ گاﺅں بھی وہیں گاﺅں والے بھی وہیں بندر بھی وہیں اور کمپنی مالا مال۔ یہ ہے سٹاک ایکسچینج۔
حفیظ شیخ نے وزیر بنتے ہی سٹاک مارکیٹ میں 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی تھی اور اب پوری قوم کیلئے 15 ارب مختص کئے ہیں کم ازکم عوام کیلئے 50 ارب روپے نکالنے چاہئیں تھے۔ معلوم نہیں حفیظ شیخ کے لئے یہ خبر کتنی ندامت کا باعث ہوگی یا نہیں کہ حکومت کی معاشی ٹیم کو اب ہارون اختر صاحب بریفنگ دیں گے۔ آسمان سے گراکجھور میں اٹکا والی بات ہے۔ اب ہارون اختر کو آگے لایا جارہا ہے۔ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ یہ خود انڈسٹریز سیکٹر سے وابستہ ہیں۔ ان کے بزرگوں کو جو ’ ہذا من فضل ربی‘ ملا تھا اگر وہ سارے کا سارا ریاستی ادارے کو دےدیا جاتا تو آج یہ ادارہ اور زیادہ مضبوط ہوتا اور ملک دشمن کا مو¿ثر انداز سے مقابلے کرنے میں مزید مددگار ثابت ہوتا۔
معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا جن کی ساکھ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے انہوں نے حکومت کی اقتصادی پلاننگ اور دعوﺅں کے سارے پول کھول دیئے ہیں اور حکومت کے کسی بھی حلقے کی جانب سے تردید نہیں کی گئی۔ ایک اجلاس میں حفیظ شیخ اور ڈاکٹر حفیظ پاشا کی آ پس میں تلخی بھی ہوچکی ہے حالانکہ ان کے درمیان استاد شاگرد جیسا رشتہ ہے۔ سلمان شاہ پنجاب میں اقتصادی مشیر ہیں انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ یہ نگران حکومت میں بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ ان کی کوئی ذاتی دلچسپیاں نہیں ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی الزامات ہیں نہ جانے ان سے مستفید ہونے میں وفاقی حکومت کو کیا رکاوٹ ہے۔ یہ وفاقی حکومتوں کا کام نہیں ہوتا کہ روز مرہ استعمال میں آنیوالی اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرے۔ ویسے بھی اٹھارہویں ترمیم کے بعد سب کچھ صوبوں کے پاس جاچکا ہے۔ یہ صوبائی حکومتوں ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرے ۔ یہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر‘ ڈپٹی کمشنر اور اے سی کے کام ہیں۔ حکومت کو سرمایہ داروں‘ تاجروں اور ذخیرہ اندوزوں سے بلیک میل نہیں ہونا چاہیے۔ ایڈمنسٹریشن بہت کمزور ہے۔ انتظامیہ لاپروا اور کاہل معلوم ہوتی ہے۔ تجربہ کار بیورو کریٹس اور سیاستدانوں کو حکومت اہمیت نہیں دیتی یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ چرب زبان، سازشی اور خوشامدیوں کی ایک ٹیم ہے جس نے وزیراعظم کے گرد گھیرا تنگ کیا ہوا ہے۔ یہ ایک خاص قسم کی مخلوق ہے جو بڑی مہارت کے ساتھ واہ واہ کرتی رہتی ہے۔ نہ یہ کسی کے وفادار ہوتے ہیں نہ ان کا کچھ داﺅ پر لگا ہوتا ہے۔ برے وقت میں یہ ہی سب سے پہلے بھاگنے والے ہوتے ہیں اور ان میں سے ہی مسعود محمود پیدا ہوتے ہیں۔ اسد عمر بھی واپس آچکے ہیں۔ حفیظ شیخ‘ رزاق داﺅد‘ ڈاکٹر عشرت‘ شبر زیدی اور رضا باقر نے بھی جو تیر چلانا تھا چلا لیا ہے۔ بابا اگر لوگوں کو راشن کارڈ پر لا رہے ہو تو پیکیج کی رقم بڑھاﺅ۔ بجلی، گیس پٹرول مہنگا ہے تو آٹا چینی گھی کو اور سستا کرو۔ روم میں ایک کہاوت مشہور ہے۔ کہ
People of Rome Must always Have Food And Circus
آج عوام کی ریفریشمنٹ اور تفریح اس سے بڑھ کر کوئی اور نہیں کہ اس کا پیٹ بھرا ہو اور اشیاءخوردنی ہمیشہ وافر مقدار میں کم قیمت پر لوگوں کو دستیاب ہوں اور عوام الناس کو تفریح کے مواقع نصیب ہوں۔ ورنہ یہ مہنگائی حاکموں کو لیکر بیٹھ جائے گی۔ (ختم شد)
(کالم نگارایوان صدر پاکستان کے
سابق ڈائریکٹرجنرل تعلقات عامہ ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved