تازہ تر ین

آہ فصیح الرحمان….

شفیق اعوان
میڈیا بحران کا ایک اور شکار فصیح الرحمان بھی 30 سالہ رفاقت چھوڑ کر چلا گیا۔ بہت نفیس اور خوددار شخص تھا۔ آخروقت تک اپنے مسائل کو خودداری کے پردے میں چھپائے رکھا اور اس دنیا سے گزر گیا۔ اسلام آباد سے جب افضل بٹ نے دل کے دورے کے سبب اس کی وفات کی اطلاع دی تو یقین ہی نہیں آیا۔سلم اور سمارٹ تھا، ساری زندگی کبھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا اور نہ ہی زیادہ وزن لادا۔ بلکہ مجھے کہتا رہتا تھا ڈیڈی وزن کم کریں۔ ابھی ہفتہ پہلے بات ہوئی تھی کہ لاہور آرہا ہوں آیا بھی تو کس حال میں۔
میڈیا بحران کیا ہے اور اس کے ذمہ داران کون ہےں اس پر بھی جلد ہی لکھوں گا۔ اس پر مواد اکٹھا کر رہا ہوں لیکن شاید حاصلِ تحریر کچھ لوگوں اور میڈیا ہاﺅسز کو پسند نہ آئے۔ اس بحران میں ورکنگ جرنلسٹ سے لے کر صحافی تنظیموں اور مالکان سب شامل ہیں۔ میرے نزدیک جن افراد کا صحافت سے کوئی تعلق نہ تھااور محض اپنے دوسرے کاروبار کو بچانے کےلئے انہوں نے مقابلے کی دوڑ اور ریٹنگ کے چکر میں ایک مخصوص ٹولے کو غیر حقیقت پسندانہ مراعات اور تنخواہیں دے کر میڈیا کی بنیادیں کھوکھلی کر دیں جس سے سارا دباﺅ کارکن صحافیوں اور ادارو ں پر آگیا۔ بغیر کسی صحافتی تجربے کے چرب زبان اینکرز آگے بڑھتے گئے جبکہ کارکن صحافی دبتا گیا۔ جن کا پیشہ آبا ءسے سپاہ گری تھا وہ اس میدان میں پسپا ہوتے رہے میری مراد خبریں گروپ، جنگ گروپ، ڈان گروپ اور نوائے وقت گروپ سے ہے جو کہ شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ وقت ٹی وی بند ہو گیا، جنگ گروپ کے کئی اخبار بند ہو گئے کیونکہ ان کا دارومدار صحافت پر تھا جبکہ ایجوکیشن مافیا ، سگریٹ مافیا، گھی مافیا، بیکری مافیا اور پراپرٹی مافیا جو اپنا کاروبار بچانے صحافت میں آئے تھے ‘کو ایسے مسائل کا سامنا نہیں۔ اور ان سب کا جھنڈا بلند کرنے والے بھی صحافی اور صحافی تنظیمیں ہی ہیں جو اپنی خدمات دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ حقیقت پسندی سے سوچنے کی بجائے اکثر تنظیمیں بھی کارکن صحافیوں کی بھلائی کی بجائے مقابلے کی دوڑ میں شریک رہتی ہیں اور مخصوص میڈیا ہاﺅس ہی ان کا ٹارگٹ ہوتا ہے ۔ فصیح الرحمان بھی اس غیر حقیقت پسندانہ مقابلے کی دوڑ کا شکار بنا۔
فصیح الرحمان سے پہلی آشنائی دی نیشن کے رپورٹنگ سیکشن میں ہوئی۔ سوالات بہت پوچھتا تھا ،اس کو ہر چیز کی تہہ تک جانے کی جستجو ہوتی تھی ۔ میری تحقیقاتی رپورٹس ،پریس گیلری اور میرے کالم پڑھ کر کہتا تھا کبھی میں بھی ایسے لکھوں گا۔ میں نے کہا کیوں نہیں بس لگے رہو اور آﺅٹ آف بکس سوچو اور لکھو۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ اس نے دی نیشن اور دی نیوز میں نہ صرف پنجاب اسمبلی کی پریس گیلری بلکہ عامر متین کے بعد دی نیوز کی قوی اسمبلی کی پریس گیلری بھی لکھی اور کمال لکھی۔ اس نے مجھے لکھنے کا طریقہ پوچھا تو استاد محترم حسین نقی صاحب کا کلیہ دہرا دیا کہ سچ لکھتے ہوئے یہ نہ سوچو کہ تمہارے سامنے کتنا بڑالیڈرہے۔سیاسی جماعتوں میں سورس بنانے کا پوچھا تو میں نے جناب ضیا شاہد صاحب کا سبق یاد کرایا کہ لکھتے وقت طاقتور اور سیاست میں مقام رکھنے والوں پر جائز تنقید سے گریزاں نہ ہونا اس سے نیچے والے تم پر اعتماد کرنے لگیں گے۔ مجھے پہلی بار ڈیڈی کا خطاب اسی نے دیا۔
مجھے لگا کہ اس میں کام کرنے اور آگے بڑھنے کی لگن ہے۔ اسی لیے میں جب دی نیوز گیا تو اسے بھی ساتھ لے لیا۔ وہاں اسے پہلی بار اپنے ساتھ مسلم لیگ ن کی سیاسی بیٹ دی تو گھبرا گیا کہ اتنی بڑی ذمہ داری کیسے اٹھاﺅں گا، وہ بھی اس دور میں جب جنگ میں پرویز بشیر، نوائے وقت میں جناب انور قدوائی مرحوم اور دی نیشن میں سرمد بشیر جیسے مہان رپورٹر تھے جن کی پہنچ بلا شبہ نواز شریف اور شہباز شریف تک براہ راست تھی۔ لیکن اس نے اپنی جگہ بنائی۔ پھر جب جیو شروع ہوا تو اس کا نام بھی ابتدائی ٹیم میں ڈلوا دیا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے موافق جیو اسلام آباد کی رپورٹنگ کے بعد ایکسپریس نیوز اور پھر دنیا نیوز اسلام آبادکا بیورو چیف بھی رہا۔
دی نیوز کا سابقہ ساتھی سرمد سفیان بے روزگار صحافیوں کے لیے کبھی کنٹنٹ رائٹنگ اور کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔و ڈیجیٹل میڈیا کا ایک پراجیکٹ شروع کر نے جا رہا تھا جس میں فصیح بھی تھا۔ پہلے سوچا کہ اسے بتا دیں کہ ہم آرہے ہیں لیکن سرمد کہنے لگا اسے جا کر سرپرائز دیتے ہیں ۔پر وہ ہمیں ہی سرپرائز دے گیا۔ اور اسلام آباد جا کر اسے گلے لگانے کی بجائے اسے کندھا دینا پڑ گیا اور ہاتھ ملانے کی بجائے انہی ہاتھوں سے اس کی قبر پر مٹی ڈالنی پڑ گئی۔ اس کی کھلکھلاتی ہنسی کی بجائے اسے آہوں و سسکیوں کے ساتھ رخصت کیا۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ہر ایک کے چہرے پر ایک سوال تھا ۔اگلا شکار کون….
اس کے بیٹے عبداللہ کو دیکھا جس کے کندھوں پر اس کم عمری میں ماں اور تین بہن بھائیوں کا بوجھ پڑ گیا۔ مجھے امید ہے کہ افضل بٹ صاحب ضرور سرکار سے اس کے سر سے یہ بوجھ شیئر کروانے میں مدد کریں گے۔آج فصیح کا نمبر ملایا تو جواب آیا کہ آپ کا مطلوبہ نمبر بند ہے ۔عام حالات میں یہ ایک معمول کا پیغام ہوتا ہے لیکن کیا پتہ کل کس کا نمبربند مل جائے۔ اسی کا نام زندگی ہے….
جنازے پر صحافت سے متعلق لوگ بڑی تعداد میں آئے۔ اعظم چوہدری نے پتے کی بات کی اور کہا کہ آپ کے بے لوث دوستوں کا آپ کے سفر آخرت کے وقت پتہ چلتا ہے کہ شہر میں ہوتے ہوئے کندھا دینے کون کون آتا ہے، جب کفن میں لپٹا شخص ہر احساس سے عاری اگلے سفر کو تنہا رواں ہوتا ہے۔ اسلام آبا پریس کلب کے جناب افضل بٹ، آصف بشیر چوہدری، ابرارعلی سعید ، عاصم رانا، عامر بوبرہ، چوہدری فاروق، شکیل انجم، عامر بٹ نے جنازے میں شرکت کی لیکن لاہور پریس کلب کی قیادت میں سے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ وہ سیاسی رہنما جو اس کے آگے پیچھے پھرتے تھے ،میں سے کسی کو جنازے میں شرکت کی توفیق نہ ہوئی۔
پرانے ساتھیوں میں سے نوائے وقت کے سعید آسی ، طاہر ملک، سرمد سفیان ، نوید نسیم ، امریکن قونصلیٹ سے منسلک اور دی نیشن کے سابق ساتھی حیدر حسن، عطرت بشیر، دی نیوز کے عمران شیخ و عامر ملک، سالک نواز، جیو کے احمد فراز، ایکسپریس سے نعمان شیخ، سماءسے احمد ولید، لاہور پریس کلب کے سابق صدر شہباز میاں ، شاہد شاہ، قمرالزمان بھٹی ، خواجہ آفتاب ، شہزاد حسین بٹ، سالک مجید، عارف بھٹی، عمران میر سمیت کئی دوسرے دوست ،سب ہی دل گرفتہ کھڑے تھے۔ گو کہ فصیح کی خودداری نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہیں دیے لیکن جنازے میں شریک تین چار لوگ اس قابل تھے کہ فصیح کو بیروزگاری کے عفریت سے نجات دلا سکتے تھے۔ اعظم چوہدری نے بھی بتایاکہ اس نے خود ان لوگوں سے فصیح کے لیے بات کی۔ لیکن وہ ان کو فرشی سلام کرنے والوں میں سے نہیں تھا اس لیے حقدار نہ ٹھہرا۔ ہم بوجھل دلوں سے گھروں کو روانہ ہوئے کہ بشرط زندگی اگلا کندھا کس کو دیں گے۔
(کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved