تازہ تر ین

اردو کی عالمی سلطنت کا دارالخلافہ

تابش الوری
کراچی دولت و ثروت ،درآمد و برآمد اور صنعت و تجارت کا تو سب سے بڑا شہر ہے ہی لیکن رنگا رنگ معاشرت اور ادب وثقافت کا بھی ایک اہم ترین مرکز ہے جہاں اکثر و بیشتر سیاسی و سماجی جھمیلے اور ادبی و ثقافتی میلے ٹھیلے ہو تے رہتے ہیں ۔لیکن اس مرتبہ اللہ اور اس کے پیارے رسول کے حوالے سے اس ہنگامہ پرور آبادی میں ایک انتہائی پاکیزہ اور منفرد جشن برپا کرنے کا اہتمام تھا جس میں ملک بھر سے حمد و نعت کی تحقیق و تخلیق کی دنیاکے نامور شعرا، ادبا اور محققین و مصنفین بلائے گئے تھے۔ آرٹس کونسل کراچی کا خوبصورت روشن آڈیٹوریم کل پاکستان حمد و نعت کانفرنس اور حمدیہ و نعتیہ مشاعرے کا مرکز تھا۔ پنجاب سے نعت کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر ریاض مجید اور ڈاکٹر شاکر کنڈان، بلوچستان سے ریاض ندیم نیازی، آزاد کشمیر سے پروفیسر غازی علم الدین ،بہاولپور سے ر اقم الحروف اور کراچی سے پروفیسر منظر ایوبی محسن اعظم ملیح آبادی پروفیسر جاذب قریشی ڈاکٹر عزیز احسن ڈاکٹر شہزاد احمد ڈاکٹر طاہر قریشی اور دیگر روحانی شخصیات مسند صدارت پر رونق افروز تھیں۔ ممتاز حمد ونعت نگار طاہر سلطانی جنھوں نے حمدیہ ادب کے فروغ کےلئے وسیع کام کیا ہے اس تقریب کے مدارالمہام تھے ، خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اس جشن کا پس منظرو پیش منظر پیش کر رہے تھے اور سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عجز و انکسار کی تصویر بنے ہوئے تھے۔
افتتاحی خطاب کا اعزاز مجھے بخشا گیا ۔ میں نے عرض کیا کہ چمنستان حمد و نعت ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام کل پاکستان حمد و نعت کانفرنس اور مشاعرے کا انعقاد ملک کی ادبی تاریخ میں ایک نئی پاکیزہ روایت کا آغاز اور آرٹس کونسل کراچی کے تاج میں سرخاب کا منفرد پر ہے آگے چل کر یقیناًیہ اجتماع ایک مستقل فیچر بنتا چلا جائیگا۔ حمد خالقِ کائنات کی حمد و ثنا سے عبارت ہے اور نعت رسول پاک کی صورت و سیرت اور محبت و عقیدت کا آئینہ خانہ ہے ۔اس حوالے سے ساری دنیا صدیوں سے حمد و مدح اور تعریف و توصیف میں ر طب اللساں ہے مگر ان ہستیوں کی بے پناہی کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا۔راقم الحروف کی تین اہم قراردادوں کو زبردست جوش و خروش سے منظور کیا گیا۔ پہلی قرارداد میں کانفرنس کی جانب سے متفقہ مطالبہ کیا گیا کہ اردو کو قومی سرکاری زبان کی حیثیت سے بلا تاخیر رائج کیا جائے ،اردو اسوقت دنیا کی تیسری بڑی عالمی زبان کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ قائد اعظم کے اعلان کے مطابق ہمارے آئین میں اسے قومی زبان بنایا گیا اور عدالت عظمیٰ نے اسکے فوری نفاذ کا حکم صادر فر ما دیا جس کے بعد لیت و لعل کی کوئی گنجائش نہیں رہی بلکہ ناروا تاخیر توہین عدالت کے مترادف قرار دی جارہی ہے ۔دوسری قرارداد میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تجویز کیا گیا کہ مرکزی و صوبائی دارالحکومتوں میں حمدیہ کانفرنس اور مشاعرے کا سرکاری سطح پر انعقاد کیا جائے اور حمدیہ نثرو نظم کی کتابوں پر قابل قدر نقد انعامات دئے جائیں اور تیسری قرارداد میں سالانہ سیرت کانفرنس کے اہتمام پر وفاقی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سیرت کی نئی کتابوں اور شعری مجموعوں پر دئے جانے والے موجودہ نقد انعامات میں شا یان شان اضافہ کیا جائے نیز تمام صوبوں کی طرف سے بھی ایسی ہی سیرت کانفرنسوں کا انعقاد یقینی بنایا جایے۔
کانفرنس کی تین نشستوں میں حمد کے محرکات و ماخذات، اکیسویں صدی میں حمد کی معنویت ، آداب حمد نگاری، حمدیہ و نعتیہ ہائیکو ، حمد میں نعت کے رنگ، نعت گوئی – ایک امتحان ، نعت کا سفر روایت و جدیدیت کے تناظر میں، آداب نعت خوانی، عساکر پاکستان کے نعت گو، اور ہماری ملی شاعری میں نعتیہ عناصر جیسے اہم تحقیقی موضوعات پر مقالات پیش کئے گئے جن سے مختلف زاویوں اور جہتوں کی کہکشاں سی سج گئی۔ دوسرے دن حمدیہ اور نعتیہ مشاعرے کا اہتمام تھا۔ دل طوالت کے خوف سے لرز رہے تھے، خوبصورت حل یہ نکالا گیا کہ شاعروں کو حمد و نعت کی نشستوں میں تقسیم کردیا گیا البتہ مہمان شعرا مستشنٰی رہے۔ حمد و نعت کی پاکیزگی اور کراچی کے سخن شناسوں کی شائستگی ، سماں بندھا رہا اور دیر تک حمد و نعت کے نئے نئے شعری گلاب محفل کو مہکاتے رہے ۔طاہر سلطانی بے سروسامانی کے با وصف تقریبات کی کامیابی پر نہال تھے اور آخر میں ایک ایک کا نام لیکر شکریہ ادا کر تے رہے۔
کراچی جہاں غریب امیر نواز شہر ہے وہاں بڑا مہمان نواز شہر بھی ہے۔ میری آمد کا پتہ چلا تو دوستوں کو تقاریب کا بہانہ مل گیا۔ ہمارے پرانے عزیز دوست اور سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب نے جو المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ ہیں چائے پر طلب کرلیا۔ یہ ٹرسٹ کیا ہے ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایک رفاہی عجوبہ ہے۔ کراچی کے علاوہ مختلف شہروں میں ہسپتال، کلینکس، سکول، کالج، مدارس، مساجد، مراکز ترقی مہارت اور یتیم خانوں کا جال پھیلا ہوا ہے اور سالہا سال سے کروڑوں کے خرچ کے ساتھ تعلیم سے لیکر صحت تک اور یتیموں کی کفالت سے ضرورتمندوں اور محتاجوں کی معاونت تک لاکھوں لوگ مفت یا معمولی صرفے سے فیضیاب ہو رہے ہیں ۔مخیر حضرات کی فیاضانہ مالی امداد سے المصطفیٰ ٹرسٹ نے حیرت انگیز انتظامی مہارت کیساتھ ایک وسیع وعریض رفاہی کام جس طرح اپنے پروں کے نیچے سمیٹ رکھا ہے وہ بلا شبہ انتہائی قابل رشک اور لائق تحسین ہے ۔مجھے کئی منزلہ مصطفی میڈیکل سنٹر کا معائینہ کرایا گیا جہاں مریضوں کا اژدہام مختلف شعبوں میں جدید سہولتوں سے استفادہ کر رہا تھا۔ چائے کی چسکی کیساتھ سیاسی گفتگو کے چسکے بھی رہے اور شعرو شاعری کے ذائقے بھی ! الحاج شمیم الدین کراچی کی ایک اور ادب دوست شخصیت ہیں دیرینہ رفیق کار اور سابق صوبائی وزیر و مشیر! انھوں نے ظہرانے پر محفل سجائی ۔مقامی شعرا کیساتھ مجھے اور ڈاکٹر ریاض مجید کو بہت محبت سے سنا گیا ۔
کراچی نت نئے معرکوں کے لئے بھی مشہور ہے اور کھانوں کے نرالے ذائقوں کے لئے بھی ! برنس روڈ یہاں کی سب سے پرانی فوڈ سٹریٹ ہے یاروں نے یہاں بھی عام اور خاص ریسٹورانوں میں حلیم ،نہاری، مغز، بریانی، مغلیہ قورمہ، چکن کڑاہی، خفیہ ہانڈی کنّا پستہ قلفی فرنی اور جانے کیا کیا پکوان روشناس کرائے اور بقول کسے حلق میں ذائقے کی لکیر سی کھنچتی چلی گئی جو اب بھی مزہ دی رہی ہے۔ فیروز ناطق خسرو شہر قائد کی ایک نفیس اور نستعلیق شخصیت ہیں پاک فضائیہ کی فضا میں رہے لیکن راس زیادہ انھیں ادب کی فضا آئی، اپنی کتابوں سے ہمیں لاد دیا اور شعرو شاعری کے گلدستے الگ سجائے۔ خسرو ریاض مجید شاکر کنڈان طاہر سلطانی اور راقم الحروف نے وہ خاص نگار شات پیش کیں جو عام محفلوں میں پیش نہیں کی جاتیں ۔ میونسپل آفیسرز کلب عروس البلاد کراچی کا اہم تقریباتی مرکز ہے معروف اینکر، نقیب، افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار رضوان صدیقی نے جو مقامی تقریبات کی پیشانی کا جھومر ہوتے ہیں مختصر سے نوٹس پر میرے اعزاز میں ایک با وقار شعری نشست کا اہتمام کیا جس میں فراست رضوی، رونق حیات، صفدر رضی، تنویر سخن، وقار زیدی، حنیف عابد اور خالد میرجیسے شہر کے متعدد نمائندہ شعرا نے شرکت کی۔ حاجی حنیف طیب مسند صدارت پر متمکن تھے ۔خاکسار نے جذبات تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی اردو زبان و بیان کی عالمی سلطنت کا دارالخلافہ ہے۔ لاہور بلا شبہ اردو کا ایک عظیم مرکز ہے لیکن کراچی نے سخن سنجی اور سخن فہمی کا جو معیار قائم کیا ہے وہ اسی کا اعزازو افتخار ہے ابتک یہاں مشاعرے سینکڑوں ہزاروں سامعین کے ساتھ رات رات بھر جاگتے ہیں اور صبح کی کرنیں جاگتی ہیں تو یہ سوتے ہیں۔ کراچی کے سخن فہموں کا کمال یہ ہے کہ خوبصورت شعروں کی طرح خوبصورت جملوں پر بھی دل کھول کر داد دیتے ہیں۔ رضوان صدیقی اور حاجی حنیف طیب نے خوبصورت اظہار خیال کیا اور میری سیاسی صحافتی اور ادبی خدمات پر جو مبالغہ آرائی فرمائی اس پر شرمسار ہوتا رہا۔ میزبان شعرا کے کلام کی تازگی و شگفتگی لبھاتی رہی اور مہمان شاعر کا اسلوب و خیال چونکاتا رہا۔ اسی دادو تحسین میں یہ شعری نشست اپنی معراج پر پہنچ کر خود بھی یادگار بن گئی اور دورہ کراچی کو بھی یادگار بنا گئی۔
(کالم نگارمعروف شاعراورادیب ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved