تازہ تر ین

تعلیم ،نصاب کی اہمیت اور کردارکی تعمیر

ڈاکٹر صفدر محمود
کہا جاتا ہے کہ نصاب یا کری کولم ایک سانچے کی مانند ہوتا ہے جس میں آنے والی نسلوں کو ڈھال کر عملی وقومی زندگی میں خدمات سرانجام دینے کےلئے تیار کیا جاتا ہے۔ ذہنی تربیت جیسی ہوگی ویسی ہی شخصیت ہوگی۔ اگر چہ انسانی کردار کی تشکیل اور تعمیر، گھر اور معاشرے سے شروع ہوتی ہے۔لیکن سکول کا ماحول، استاد کا علمی تبحر، شخصیت اور کورس سلیبس اس میں اہم کردار ادا سرانجام دیتے ہیں۔ بچپن اور سکول کی سطح تک طالب علموں کا ذہن ایک ایسی صاف سلیٹ کی مانند ہوتا ہے جس پر جو بھی نقش و نگار بنادیئے جائیں وہ ساری زندگی ساتھ نبھتے اور انسانی رویوں کی تشکیل کرتے رہتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی شخصیت پندرہ سال کی عمر تک جیسی بنادی جائے بقایا زندگی تقریباً ویسی ہی رہتی ہے۔ چہ جائیکہ زندگی میں کوئی انقلاب آجائے یا انقلابی صورت سے پالاپڑجائے۔ میرا تجربہ ہے کہ کم سے کم انسان کی اخلاقی شخصیت آغاز ہی میں تشکیل پاتی اور سانچے میں ڈھلتی ہے۔ جسے بچپن ہی سے سچ بولنے، برائیوں سے بچنے ، چوری اور دھوکے دہی سے دور رہنے کی عادت پڑجائے وہ تقریباً ساری زندگی ان اصولوں کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ البتہ اس کا ذہنی معیار تعلیم کے حصول اور زندگی کے تجربات و مشاہدات کے ساتھ ترقی پاتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ تعلیم انسان کی کردار سازی میں سکول کی سطح کو فیصلہ کن اہمیت دیتے ہیں ۔اسی کے پیش نظر ترقی یافتہ ممالک میں سکول کے نصاب میں اخلاقی اصولوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی ضروریات کو بھی جگہ دی جاتی ہے۔ سکول کے نصاب اور تربیتی سرگرمیوں میں بچوں کو نظم و ضبط، قانون کے احترام ، اخلاقی اقدار، حسنِ سلوک، دوسروں کے حقوق، سچائی کی اہمیت کے ساتھ ساتھ نصاب میںٹریفک، صفائی، فضائی آلودگی وغیرہ جیسے مضامین پر بھی مواد شامل کیا جاتا ہے۔ مسلمان معاشرے میں یہ کام قدرے آسان ہے کیونکہ ہم سکولوں کی نصابی کتب میں اسوئہ حسنہ سے آسان واقعات منتخب کرکے شامل کرسکتے ہیں جن سے بچوں میں اخلاقی اقدار بھی پروان چڑھیں گی اور مذہب سے وابستگی بھی قائم ہوگی۔ مطلب یہ کہ بچپن ہی سے بچوں میں سچائی ، ایمانداری اور حب الوطنی پیدا کرنے کے لئے نصاب کو ان خطوط پر تیار کیاجائے تاکہ پاکستان کی آئندہ نسلیں کردار کے حوالے سے معزز ٹھہریں۔ مغربی ممالک کو ہم برائی کے مراکز قرار دیتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ ان ممالک میں جھوٹ، ملاوٹ، دھوکہ دہی ، باہم نفرتیں اور سینہ زوری، ہمارے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ان ممالک میں جہاں اکثر آپ کو حسنِ اخلاق ملے گا وہاں ہر طرف نظم و ضبط اور قانون کا احترام بھی ملے گا۔ یہ صرف سکول کے نصاب کا ہی کرشمہ نہیں بلکہ گھریلو اور معاشرتی تربیت کی دین ہے اور اس میں استاد بنیادی کردار سرانجام دیتا ہے۔
اخلاقی تربیت اور کردار سازی کے علاوہ نصاب کا اہم ترین کردار طالب علموں کو معیاری اور کار آمد تعلیم دینا ہے تاکہ سکول، کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر وہ قومی زندگی اور قومی ترقی میں حصہ ڈال سکیں۔ وہ اعلیٰ درجے کے سائنس دان ، اکانومسٹ، انجینئر، ڈاکٹر، بزنس مین، صنعت کار، سیاسی رہنما اور سول و ملٹری آفیسر بنیں۔ ان میں مطالعے، تحقیق اور غور و فکر کی صلاحیت پیدا ہو۔ ان میں اختراع اور نئی نئی راہیں ڈھونڈنے کے ساتھ ایجادات کی صلاحیت پیدا ہو۔ نصاب عالمی سطح کا ہو تاکہ ہمارے فارغ التحصیل طلباءدوسرے ممالک کے ساتھ مقابلے میں پیچھے نہ رہیں اور ان کو عالمی رینکنگ کی یونیورسٹیوں میں داخلے مل سکیں۔
قیامِ پاکستان کے وقت ہمیں برطانوی حکمرانوں سے جوتعلیمی ڈھانچہ اور نصاب ملا وہ اخلاقی اور مذہبی حوالے سے تو ہمارے تقاضے پورے نہیں کرتا تھا مگر ریاضی، سائنس ، انگریزی اور سوشل سٹڈیز وغیرہ میں ترقی یافتہ ممالک کے تقریباً ہم پلہ تھا۔ چنانچہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بیس بائیس سال بعد تک ہمارے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں براہِ راست انہی کلاسز یا درجوں میں داخلہ ملتا تھا لیکن پھر ہم تعلیمی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے۔ کیونکہ دنیا بھر میں تعلیم کے شعبے میں نئی نئی تیکنیکس متعارف کروائی گئیں، امتحانات کا انداز بدل گیا اورصرف ”رٹے “کے بجائے مضامین کی صحیح تفہیم (Understanding) اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کے امتحان پر زور دیا جانے لگا۔ حتیٰ کہ امتحانی سوالات کی شکل بھی بدل دی گئی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر آزادانہ بحث و مناظرے، تحقیق، تخلیقی سرگرمیوں اور Innovations پرزور دیا جانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج امریکہ اور برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیاں نئی نئی ایجادات اور ریسرچ میں آگے آگے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ان کو ریسرچ کےلئے فنڈز دیتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں کی کامیابی کی بڑی وجہ جہاں نصاب کا اعلیٰ معیار ہے وہاں اساتذہ کا اپنا اعلیٰ علمی معیار، ریسرچ کروانے کی صلاحیت اور یونیورسٹیوں کا سازگار ماحول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم کے ادارے سازشوں، دھڑے بندیوں اور جہالت کے مراکز بن چکے ہیں۔ تحقیق کا رجحان زوال پذیر ہے اور ماحول حوصلہ شکن۔ اول تو نصاب کو ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ کرنا اور ہر سال اس پر نظرثانی کرکے عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ دوم جب تک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں علمی اور ریسرچ کا ماحول پیدا نہیں کیا جاتا اس وقت تک محض نصاب کا اعلیٰ معیار قومی مقاصد پورے نہیں کرے گا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ غیر ممالک سے پی ایچ ڈی کرکے واپس آتے ہیں تو یہاں آنے کے بعد ان میں ریسرچ کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔ جب تک بیرون ملک ہوتے ہیں تحقیقی مضامین بھی لکھتے ہیں ، تازہ کتابیں بھی پڑھتے ہیں لیکن واپس آتے ہی سرقہ اور نقل کا کاروبار کرنے لگتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ریسرچ کی سہولیات کا فقدان اور منفی ماحول ہے۔ جب تک ان علمی عوارض کا علاج نہیں کیا جاتا محض نصاب بدلنے سے مقصدپورا نہیں ہوگا۔ لیکن نصاب کو دنیا کے برابر لانا بہرحال ناگزیر ہے۔ ورنہ ہمارے طلبہ کو بیرون ممالک تعلیم کے ماحول میں حددرجہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستان میں تعلیم کے متوازی دھاروں کا مسئلہ بھی اسی لئے ہے کہ نجی شعبے اور سرکاری شعبے کے نصاب، معیارِ تعلیم اور ماحول میں نمایاں فرق ہے۔ علاوہ ازیں سیکڑوں مدرسوں میں تعلیم پانے والے لاکھوں طلبہ کا سلیبس بھی موجودہ تعلیمی معیار سے ہم آہنگ نہیں۔ کیونکہ مدارس میں سائنس ،حساب ، معاشیات اور ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے مضامین نہیں پڑھائے جاتے اورنہ ان کے پاس ایسے اساتذہ اور تجربہ گاہیں موجود ہیں۔ قوم کو باطنی اور ذہنی طور پر ایک قوم بنانے اور قومی کردار کی تعمیر کرنے کےلئے ایک جیسا نصاب ضروری ہے جو ایک جیسی سوچ پیدا کرے۔ اخلاقی تربیت کی ضمانت دے اور جس کا سائنسی معیار ترقی یافتہ ممالک کے نصاب سے ہم آہنگ ہو۔ جہاں تک لسانی اور معاشرتی علوم کا تعلق ہے ان کا نصاب بناتے ہوئے ہمیں اپنی قومی ضروریات اور ترجیحات کو اولیت دینی ہے۔ پاکستان کا روشن مستقبل بہرحال تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور ریسرچ کے امکانات سے وابستہ ہے۔ جتنی اعلیٰ اور معیار ی تعلیم ہوگی اتنی ہی قومی ترقی کی رفتارتیز ہوگی۔ ہر سطح کے نصاب کو مسلسلUpdateکرنا ایک مستقل مشق اور مقدس فرض ہے۔ اس مقصد کے لئے وفاقی سطح پر ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہے جس میں ماہرینِ تعلیم سکول، کالج اوریونیورسٹی کی سطح تک کا نصاب ہمہ وقت بہتر بنارہے ہوں۔ تعلیم چونکہ صوبائی شعبہ اور Subject ہے اس لئے صوبوں کے تعاون کے بغیر یہ منزل حاصل نہیں ہوسکتی۔ البتہ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ نصاب سازی، ”کری کولم “ کا شعبہ وفاقی حکومت کی تحویل میں رہناچاہئے، تاکہ سارے ملک میں ایک ہی جیسا نصاب پڑھایا جائے اور نصاب میں علاقائیت یا صوبائیت کا عنصر شامل نہ ہو۔ اٹھارویں آئینی ترمیم سے قبل نصاب وفاقی حکومت کے پاس تھا۔ بہتر ہوگا اس نظام کو بحال کردیا جائے۔ نصاب وفاق کی سطح پر مرتب ہو اور اس نصاب کے مطابق کتابیں صوبے لکھوائیں۔ وفاق کی سطح پر کوئی ایسی تعلیمی اتھارٹی موجود ہو جو نصاب کی Revision کے ساتھ ساتھ اس کی روشنی میں لکھی جانی والی ٹیکسٹ بکس کی نگرانی کرے اور معیار کو یقینی بنائے۔
(بشکریہ:ہلال)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved