تازہ تر ین

عثمان بزداراورپنجاب میں تبدیلی

خدا یار خان چنڑ
سردارعثمان بزدارجب سے پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ہیں رات دن محنت کولگے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے سیاست میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کوسیاسی ڈگڈگی بجانی آتی ہو، یہ خاموش طبیعت اورشریف النفس انسان کے بس کی بات نہیں۔ شہبازشریف اگرایک کروڑروپیہ لگاتاتھا تودس کروڑکاشورمچاتاتھا۔ہروقت میڈیا پرجلسے جلسوں میں اوراس کی پوری میڈیاکی ٹیم ترقیاتی کاموں کو بڑھاچڑھا کر عوام کے سامنے پیش کرتے تھے۔ آئے دن شہبازشریف جھوٹی موٹھی کے مختلف منصوبوں کے افتتاح کرتارہتاتھا جن کاسرے سے کوئی وجودہی نہیں ہوتا تھا ۔ہر وقت سوشل میڈیااورالیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پرشورشرابہ کرتارہتاتھا۔ عوام سمجھتی تھی کہ شہباز شریف بہت محنتی ہے جو عوام کےلئے دن رات کوشش کرتا رہتا ہے حالانکہ یہ سراسرڈرامہ بازی ہوتی تھی اسی لیے توبعض لوگ اسے شوبازشریف کہتے تھے، شہبازشریف کی پوری سیاسی ٹیم بھی شورشرابہ کرنے کی بڑی ماہرتھی۔ اب موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکویہ ڈرامے کرنے نہیں آتے جس کی وجہ سے عوام میں یہ تاثرجارہاہے کہ عثمان بزدارپنجاب کےلئے کچھ نہیں کررہااورانتہائی افسوس ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی میڈیاٹیم بھی میرے خیال میں اتنی نااہل ہے کہ عثمان بزدارنے جوبڑے کام کیے ہیں وہ بھی عوام کو نہیں بتا سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب عثمان بزدارشہبازشریف سے کافی بہتراورتیزی سے کام کررہے ہیں مگرافسوس کہ عثمان بزدار کی پوری ٹیم عوام کوباخبررکھنے اورکاموں کوشو کرانے میں ناکام ہیں۔ اس کے بغیربھی گزارانہیں ، اپنے کاموں کو اجاگر کرنایہ بھی سیاست کاحصہ ہے ورنہ عوام مطمئن نہیں ہوتی ۔کوئی بھی کام ہویاکوئی افتتاح اس پرتختیاں کیوں لگائی جاتی ہیں؟ نام کیوں لکھے جاتے ہیں؟ اسی لیے کہ عوام کوپتہ چلے کہ یہ کام فلاں شخص اورفلاں پارٹی نے کروایاہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کوبھی متحرک ہوناچاہیے ،میڈیاکا سامناکرناچاہیے، ہرکام کومیڈیاکے ذریعہ عوام تک پہنچاناچاہیے اورخاص طورپروزیراعلیٰ کی جو ایڈوائزری کمیٹی ہے ان کوبھی متحرک کرناچاہیے ۔یہ ایڈوائزری کمیٹی کاکام ہوتاہے کہ تمام کاموں کوعوام تک آگاہ کرنا ۔ابھی جوفیاض الحسن چوہان صوبائی وزیرنے جوترجمان پنجاب حکومت کی کمیٹی بنائی ہے مجھے تواس میں کوئی شخص ترجمانی کرتے ہوئے نظرنہیں آرہاپھرکمیٹی بنانے کا کیا فائدہ جب وہ کام ہی نہیں کررہی۔ ہاں البتہ اس کمیٹی میں سمیراملک ایڈووکیٹ کوبھی نامزدکیاگیاہے یہ پڑھی لکھی اورٹیلینٹڈخاتون ہےں، جب سے ان کانوٹیفکیشن ہواہے وہ پنجاب حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے نظرآرہی ہے۔ عثمان بزدارکے کیے ہوئے کام جوپایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں ان کوعوام تک پہنچانے میں بھرپورکرداراداکررہی ہےں ۔پچھلے دنوں میرے ساتھ ان کی تفصیلی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب جوترقیاتی کام مکمل کرواچکے ہیں مجھے اسکی لسٹ دی اسے پڑھ کرحیران رہ گیاکہ اتنے کام ہونے کے باوجودعوام کہہ رہی ہے کہ بزدارصاحب کام نہیں کرارہے ۔دراصل عوام کو ان کاموں کے حوالے سے روشناس ہی نہیں کرایا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کاجوترقیاتی 54نکاتی ایجنڈاہے یہ مکمل پایہ تکمیل کوپہنچ چکاہے۔
پنجاب میں تبدیلی توآئی ہے مگرعوام کونظرنہیں آرہی اورکچھ منصوبوں پرکام تیزی سے شروع ہوگیاہے جوجلدپایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے جن میں کچھ اہم منصوبہ جات کا ذکر کر رہا ہوں ۔ساڑھے تین کروڑ سے زائدافرادکے لیے صحت انصاف کارڈکی فراہمی،لاہورسمیت دیگرڈویژن میں پناہ گاہوں کے قیام کاعمل،احساس پروگرام، معذوروں کےلئے ”ہمقدم “ بزرگوں کےلئے ”باہمت بزرگ “ خواجہ سراﺅں کیلئے ”مساوات “ تیزاب گردی کاشکارلوگوں کےلئے ”نئی زندگی “۔لودھراں، چشتیاںاوررینالہ خوردمیں نیاپاکستان ہاﺅسنگ سکیم کا اجراء، کلین اینڈگرین پاکستان مہم کے تحت صوبے بھرمیں شجرکاری کاآغاز،صاف پانی کی فراہمی کےلئے آب پاک اتھارٹی کاقیام ،کاشتکاروں کےلئے ایگری کریڈٹ کارڈسکیم کاآغاز۔گندم اورگنے کے امدادی نرخ میں اضافہ ،عوام کوبراہ راست اجناس فروخت کرنے کےلئے کسان کاﺅنٹرکاقیام، عوام کےلئے سرکاری ریسٹ ہاﺅس میں قیام وطعام کی سہولت کااجرائ، نیاپاکستان منزلیں آسان کے تحت دیہات کی1500کلومیٹرطویل سڑکوں کی تعمیروتوسیع، 10800سکولوں کی سولرانرجی پرمنتقلی کاعمل، کوہ سلیمان سمیت صوبہ کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ڈیم کی تعمیر۔جلال پورسمیت نئی نہروں کے پراجیکٹ 10سال تک نہروں کی ٹیل تک پانی کی فراہمی کاہدف، صوبے میں 10سپیشل اکنامک رومز کا قیام، فیصل آبادچارہزارایکڑپرعلامہ اقبال انڈسٹریل زون کاقیام ،چینی کمپنیوں کوصنعتیں قائم کرنے کےلئے 22ہزارایکڑسے زائداراضی کی فراہمی ،ٹیکسزکی آن لائن وصولی کاعمل ،تجاوزات کے خلاف مہم ،جیلوں میں اصلاحات کاآغاز،معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہائی کاعمل ،پولیس کی کارگردگی بہتربنانے کےلئے کیمروں کی تنصیب اورفرنٹ ڈیسک کا قیام ، پولیس موبائل خدمت مراکزکاقیام ، سپیشل ایجوکیشن کے اداروں کےلئے 14نئی بسوں کی فراہمی ،صوبہ بھرمیں پانی کی فراہمی656سکیموں کی بحالی کاعمل جس کی لاگت 33کروڑروپے ،سموگ کے خاتمے کےلئے بھٹوں کوزگ زیگ ٹیکنالوجی پرمنتقل کرنے کافیصلہ، محکمہ صحت میں ڈاکٹروں سمیت 25ہزارخالی اسامیوں پربھرتیاں، ہسپتالوں میں 9ہزارسے زائدبیڈز کااضافہ،5 مدراینڈچائلڈہسپتالوں سمیت9نئے ہسپتالوں کاقیام، دیہات میں 194طبی مراکزمیں24گھنٹے طبی سہولتوں کی فراہمی کاعمل، محکمہ صحت میں13ارب سے زائدلاگت کے16میگاپراجیکٹ کی تکمیل،میرٹ پر15یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی تعیناتی کاعمل،اساتذہ کے تبادلوں کے لیے ای ٹرانسفرسسٹم کاقیام، صوبے بھرمیں 2800سے زائدکلاس رومزکی تعمیر کاپراجیکٹ ،اس کے علاوہ اوربھی کئی محکموں میں تیزی سے کام شروع ہوگیاہے۔چیف منسٹرہنرمندنوجون پروگرام ،انسانی حقوق واقلیتی امور،محکمہ خصوصی تعلیم اورمحکمہ اوقاف میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ۔لیکن یہ سارے کام ہونے کے باوجودمیڈیااورعوام تک پہنچانے میںعثمان بزدار کی ٹیم ناکام ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکواس طرف توجہ دینی چاہیے اوراپنی پوری کابینہ اورکمیٹیوں کومتحرک کرناچاہیے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved