تازہ تر ین

لمحہ فکریہ!

نجیب الدین اویسی
2018ءکا پورا سیشن گزر گیا ۔ میری من کی مراد پوری ہوئی، خواہش تھی ایم این اے ہوں مگر اپوزیشن میں ہوں۔شاید جس وقت دل میں یہ خواہش مچلی تھی رب کریم کی رحمت جوش میں تھی اس بندہ ناچیز کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے اس ذات کریم نے ضرور فرمایا ہوگا جا ، یہ مزہ بھی چکھ لے۔ کہنے کو تو ہم بھی پی ٹی آئی کی طرح کے ایم این ایز تھے۔جیسے وہ الیکشن لڑ کر منتخب ہو ئے تھے ویسے ہی ہم نے انتخاب میں حصہ لیا۔ مگر کیا کہنے میرے ملک کے دستور، رواج، اخلاقیات کے۔ افسر ہم سے یوں دور بھاگتے ہیں جیسے ہم کرونا وائرس کے مریض ہوں۔ جس دفتر میں قدم رکھتے ہیں افسر کی خواہش ہوتی ہے یہ جلدی جلدی ہمارے دفتر سے نو دو گیارہ ہوں۔ افسر کوشش کرتے ہیں ہم سے فون پر بات نہ ہو کہیں کوئی ایجنسی رپورٹ نہ کر دے۔ میرے حلقے کے رہائشی ایک واپڈا انجینئرپچھلے پانچ سال میری تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔میں نے واپڈا حکام کو جب لیٹرز تحریر کیے، بجلی میں اضافہ کرتے ہوئے بوسیدہ تاروں کو بھی تبدیل کر دیں۔ تاکہ آپکا ڈسٹری بیوشن نظام درست ہو۔آپ بجلی کی پیداوار میں جتنا اضافہ کر لیں جب تک یہ پرانا بوسیدہ کنڈکٹرز(تاریں) ہیں یہ اضافہ بے معنی، بے فائدہ رہیگا۔چند دنوں بعد جب میں انکے دفتر گیا تو حیران ہو ا، میرا لیٹر انہوں نے اپنے آفس نوٹس بورڈ پر چسپاں کیا ہوا تھا ۔ مجھے اس خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کیا کمال ہے آپ کے ویژن کا ! میں آپکی سوچ کو سلام پیش کرتا ہوں۔جونہی 2018ءکے الیکشن کا رزلٹ آیا ، تابعدار انجینئر صاحب نے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ ہمارے ایک ہارے ہوئے صوبائی اسمبلی امیدوار جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر تھے انہیں سر پر بٹھا لیا۔ اب انہیں وہ بڑے قابل ،سمجھ دار، علاقے کا درد رکھنے والے شخص نظر آنے لگے۔ ہم اگر انہیں کہیں فلاں شخص کو ڈیمانڈ نوٹس تو عطا کردیں وہ اس درخواستی بچارے کو اتنے چکر لگواتے کہ وہ پریشان ہوجاتا۔خیر اسی طرح بہت سے افسر ہیں کس کس کی بات کی جائے۔ میرے ضلع میں ایک ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعینات رہے ہیں بڑے ہینڈسم، بہت نفیس انسان ، سمجھ دار۔ میں اسلام آباد تھا میرے گھرکے سامنے سے گزر تے ہوئے انہوں نے مجھے فون کیا۔ آپ کے گھر کے سامنے (سڑک پر میرے گھر کے راستے کا بورڈ آویزاںہے) گزر رہا ہوں بورڈ پڑھا آپ کو فون کر رہا ہوں۔ ایک چھوٹے سے موبائل پیغام پر کسی بھی پولیس والے کا تبادلہ فرما دیتے تھے۔ جونہی ہم حکومتی بنچوں سے اپوزیشن بنچوں پر آکر بیٹھے ، انہوں نے فون سننا گناہِ کبیرہ سمجھ لیا۔
لوگ کتنی جلدی بدل جاتے ہیں اسکا خوب تجربہ ہوا۔میں اپنے ان کمزور دل ، فیلڈ میں تعینات رہنے کی دلی خواہش دل میں پالنے والے افسروں پر دل ہی دل میں ہنستا رہتا ہوں ۔ ہاں اس مادہ پرستی کے دور میں اچھے لوگ بھی ہیں۔ ایسے ایسے عظیم لوگ آج بھی موجود ہیں جو پہلے سے زیادہ عزت ، محبت ، پیار اور خلوص کیساتھ پیش آتے ہیں۔
”2018ءکا سیشن اختتام پذیر ہوا۔ 2023ءکے الیکشن کا اعلان ہوچکا۔ میڈیا نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کو خوب اٹھادیا۔ 2013ءکی طرح محسوس ہو رہا تھا اس مرتبہ مسلم لیگ پھر اقتدار میں آنے والی ہے۔ دس سال بعد ہواﺅں کا رخ تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ 80-Hماڈل ٹاﺅن پر ٹکٹیں حاصل کرنے والوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ میں بھی وہاں موجود تھا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے شہباز قلندر کا میلہ ہو۔اتنا آدم! تمام سڑکیں عوام سے بھری ہوئی تھیں۔ ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے ۔ 2018ءمیں مسلم لیگ سیکریٹریٹ میں چیدہ چیدہ اشخاص نظر آتے تھے۔کئی حلقوں میں پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواستیں بھی نہ تھیں۔ 2023ءمیں ایک ایک حلقے سے بارہ سے بھی زیادہ درخواستیں موجود تھیں۔ میں نے اپنے ایک کولیگ سے پوچھا یار یہ لوگ پارٹی ٹکٹ لینے آئے ہیں یا جنت کا! وہ بولا: بھائی جی یہ پارٹی ٹکٹ نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی ٹکٹ ہے، آج مسلم لیگ کھمبے کو ٹکٹ دے تو وہ بھی منتخب ہو جائیگا ۔ انکی یہ بات سن کر میں حیران ہوا مجھے یاد آگیا میں نے جنوری میں ” سیاسی مجبوریاں“ کالم میں اپنے ایک دوست (کولیگ) کے بارے میں پارٹی سے معمولی اختلاف کی بات کی تو وہ اتنے ناراض ہوئے اللہ معافی۔ انکے تین چار دوستوں نے اتنا غصے کا اظہار کیا مجھے محسوس ہوا کہیں زبان سے تھک کر وہ غصے میں آکر مجھ پر ہاتھ ہی نہ اٹھا لیں۔آج مجھے یہ سمجھ آئی یہ میرے دوست اتنے خوفزدہ کیوں تھے؟ الیکشن ختم ہوا ۔پنجاب کی واضح اکثریت مسلم لیگ کے حصہ میں آئی۔ مسلم لیگ نے میاں شہباز شریف کو وزیراعظم کیلئے چن لیا۔ اب انہوں نے اپنی کابینہ تشکیل دینی تھی۔ ایک دن مجھے پیغام ملاآپ کو وزیر بنایا جارہا ہے آپ نے اسلام آباد رہنا ہے۔ یہ خبر جونہی مجھے ملی میں نے میاں شہباز شریف سے ملاقات میں بغیر تمہید کے انہیں کہا میں نے وزیر نہیں بننا۔ میاں شہباز شریف نے بڑے غصے سے کہا کیوں ؟ آپ ہمارے دیرینہ اور وفادار ساتھی ہیں ۔ بڑے میاں صاحب کی خواہش ہے آپ کو وزیر بنا یا جائیے۔ میں نے کہا میں آپکا اور بڑے میاں صاحب کا بہت شکر گزار ہوں مگر میں وزیر نہیں بننا چاہتا۔ میاں شہباز شریف: ہم نے آپ کو وزیر مملکت نہیں بلکہ وفاقی وزیر کیلئے چنا ہے۔ میں:آپکا شکریہ مگر میں نے نہیں بننا۔ میاں صاحب :آخر کیوں؟ میں: اسلیے کہ آپ کے گزشتہ ادوار کو دیکھتے ہوئے میں نہیں چاہتا میں صرف گاڑی پر جھنڈا لہراتے ہوئے ادھر ادھر گھومتا پھروں ، میرے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہوں،میرا سیکریٹری میرے لکھے ہوئے احکامات کو رعونت سے پھاڑ کر ردی میں پھینک دے۔ میاں صاحب: آخر آپ کیا چاہتے ہیں ؟ میں: سر اگر آپ نے مجھے وزیر بنانا ہے تو با اختیار وزیر ہونگا،میری وزارت میں کوئی بھی مداخلت نہیں کریگا خواہ آپ ہی کیوں نہ ہوں۔ میاں شہباز شریف نے فرمایا مجھے وقت دیں میں سوچ کر آپکو بتا دونگا ۔ میں واپس جاتے بڑا خوش تھا شُکر ہے جان چھوٹی۔ اب وزارت جیسا بوجھ میرے کندھوں سے اتر گیا۔ دو دن بعد مجھے پیغام ملا کل آپ نے حلف اٹھا نا ہے۔ دل میں یہ سوچ کر حلف اٹھا یا کہ میری شرائط منظور ہوگئیں۔پانچ چھ ماہ وزارت کے دوران بڑے سکون سے گزرے۔ ایک دن میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا مجھے وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری کا فون آیا، انہوں نے ایک فائل پر میری طرف سے اثبات میں احکامات جاری کرنے کا فرمایا۔میں نے فائل منگوائی ، وہ کام درست نہ تھا، میں نے وہ کام نہ کیا۔ اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے واپسی پیغام بھجوادیا۔ دو تین ماہ پھر سکون سے گزر گئے۔ پھر ایک دن مجھے وفاقی سیکرٹری آکر ملے انہوں نے مجھے اکیلے میں کہا ہمارے فلاں ایڈیشنل سیکریٹری ہمیں پیشگی اطلاع دیے بغیر وزیر اعظم سے جا کر ملے ہیں۔میں نے انہیں کہا اسے معطل کیا جائے۔ ایک دیانتدار آفیسر کو انکوائری آفیسر بنا کر پندرہ دن کے اندر رپورٹ تیار کی جائے۔چھ ماہ مزید گزر گئے۔ایک دن آپریٹرنے مجھے بتایا تارڑ صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میاں صاحب کیا حال ہے؟ میں ٹھیک ہوں۔ کل گیارہ بجے حمزہ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ آپ انکے دفتر تشریف لائیں۔ میں نے ٹال دیا ۔ مزید کچھ عرصہ سکون گزرا۔ ایک دن وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کا فون آیا۔ فرمایا وزیراعظم کی خواہش ہے آپ کل صبح ان کیساتھ ناشتہ کریں۔ میں نے ٹائم پوچھا مجھے بتایا گیا صبح آٹھ بجے ‘میں نے بڑے ادب سے کہا میں فجر کی نماز کے بعد سوکر ساڑھے نو بجے اٹھتا ہوں ۔ دن دس بجے سے دوپہر تین بجے ، شام سات بجے سے بارہ بجے تک جب وزیراعظم چاہیں میں حاضر ہو جاﺅنگا۔ وزیر اعظم کے سیکریٹری نے منہ میں کچھ بڑبڑایا یقینا وہ میرے لیے کوئی اچھے الفاظ نہیں کہہ رہا تھا۔ اسی طرح ساڑھے تین سال گزر گئے۔ پھر اچانک ایک دن وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری میرے آفس میں تشریف لائے۔انہوں نے علیحدگی میں بات کرنے کا کہا۔ جب ہم دو رہ گئے انہوں نے کہا وزیر اعظم آپ سے ناراض ہیں۔ وزیر اعظم نے ایک کام آپ کو کہا آپ نے نہیں کیا۔ 2۔حمزہ صاحب کو آپ ملنے نہیں گئے۔ 3۔ آپ نے وزیر اعظم کا ناشتہ قبول نہیں کیا۔ آپ پر سب سے بڑا الزام یہ ہے آپ نے اپنے فیلڈ آفیسران کو ہدایت جاری کی ہے پارلیمینٹیرین جوجائز ناجائز کام کہیں فوری طور پر کیا جاوے۔ وزیر اعظم کا فرمان ہے یہ ہماری پارٹی پالیسی کے خلاف ہے، اکثر وزراءنے بھی شکایت کی ہے اس طرح اراکین ان سے آکر ناراض ہوتے ہیں آپ ایسے احکامات جاری کیوں نہیں کرتے۔ اویسی صاحب، جب اراکین کے کام آپ یا وزیر اعظم سے ملے بغیر ہوجاتے ہیں وہ آپ یا وزیر اعظم کے پاس کیوں آئیں ؟ کیا آپ نہیں چاہتے اراکین آپ کے پاس آئیں آپ انکے کاموں کے بارے میں احکامات جاری کریں تاکہ وہ آپکے ممنون و مشکور ہوں۔ میں نے انہیں جواب دیا میں ایسے احسانات کا قائل نہیں۔ میں یا وزیر اعظم پہلے ممبر قومی اسمبلی ہیں بعد میں وزیر یا وزیر اعظم جتنی ہماری عزت و توقیر ہے اتنی ہی باقی اراکین کی۔ آخر وہ بھی عوام کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے بھی عوام سے ووٹ لیے ہیں۔ سیکریٹری بولے بہر کیف وزیر اعظم آپ سے بہت نالاں ہیں۔ میں نے کہا میں نے حلف کے بعد اپنا استعفیٰ ٹائپ کر کے جیب میں رکھا ہوا ہے صرف تاریخ درج کرنی ہے۔ جب چاہیں آپ کو استعفیٰ پیش کر دیا جائیگا۔ مگر میں اپنا مزاج، عادات و اطوار نہیں بدل سکتا۔ سیکریٹری نے ایک سرد آہ بھری یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑے ہوئے آپ کی مرضی جیسا آپ بہتر سمجھیں میرا فرض تھا آپ کو حالات سے آگاہ کرتا“۔
یہ سارا کچھ میرے ذہن کا اختراع ہے ، یہ سوچ ہے 2023ءمیں ایسا ہوگا۔ شاید میری چھٹی حس ایسا کہہ رہی ہے ۔ یہ سوچ کر پریشان بھی ہوجاتا ہوں اس وقت اراکین کی کتنی بے توقیری ہوگی۔
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved