تازہ تر ین

چودھری رحمت علی اور لفظ پاکستان

ڈاکٹر صفدر محمود
چند دن قبل چودھری رحمت علی کی برسی آئی اور خاموشی سے گزر گئی۔ کئی برس قبل میں کیمبرج میں تھا‘ تو ایک روز ان کی قبر پر فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب کے لئے حاضر ہوا۔ ان کا وہ گھر بھی دیکھا جہاں وہ طویل مدت تک مقیم رہے۔ کیمبرج کے گلی کوچوں اور ہائی سٹریٹ میں وہ لیٹربکس ڈھونڈتا رہا جو چودھری رحمت علی کے پاکستان بارے لکھے مواد اور پمفلٹوں سے بھر جاتے تھے۔ ہر اعلیٰ مقصد یا عظیم مشن جذبہ چاہتا ہے اور دراصل اگر مشن رگ جان سے قریب ہو تو یہ جذبہ دیوانگی بن جاتا ہے اور دیوانگی کہلاتا ہے۔ آج ایک آزاد ملک میں آزاد زندگی گزارنے والے 1930ءکی دہائی اور انگریز کی غلامی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس خوف‘ جبر اور غلامی کے دور میں ساری ساری رات دسمبر کی شدید سردی میں کرسی پر بیٹھ کر لکھنا‘ ٹائپ کرنا اور برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کے نام لفافے بنانا اور پھر آسمان سے برستی برف سے بے پروا ہوکر ان لفافوں کو دور جاکر لیٹر بکسوں میں ٹھونسنا اس دیوانگی کی ایک معمولی سی علامت تھی۔ قدرت کے اندازبھی نرالے ہیں۔ بعض اوقات قدرت کو اس دیوانگی کی کوئی ادا پسند آجائے تو انسان تاریخ میں امر ہوجاتاہے اور جب امر ہوجائے تو قیامت تک قومی حافظے کا حصہ بن جاتا ہے۔ قدرت نے اس حوالے سے ایک ہی شرط رکھی ہے اور وہ شرط ہے خلوص۔ سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے اور وقت کے دریا میں بہہ جاتا ہے لیکن ضائع نہیں ہوتا تو خلوص۔کیونکہ مالک حقیقی نیتوں کا ثمر ضرور عطا کرتے ہیں اور میرے رب کی عطا کے انداز لاکھوں سے بھی زیادہ ہیں۔
میں چودھری رحمت علی کی قبر کے سرہانے کھڑا قرآنی آیات پڑھ رہا تھا تو مجھے ان کی انگریز سیکرٹری کا بیان یاد آرہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کی انگریز سیکرٹری کو نہ پاکستان سے کوئی غرض تھی‘ نہ الفاظ کو توڑنے موڑنے کی ضرورت تھی اور پھر یہ بیان بھی چودھری صاحب کے انتقال کے کئی برس بعد کا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ چودھری صاحب جب ہندوستان کی تقسیم اور آزاد مسلمان ریاست کے قیام کے عشق میں مبتلا ہوئے تو وہ دن رات اس کے نام پر غور کرنے لگے۔ بقول چودھری رحمت علی کے انہوں نے اس مقصد کے لئے مراقبے کئے‘ نمازوں کے بعد نوافل پڑھ کر اللہ سبحانہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگتے رہے اور پھر ایک دن ان کے ذہن پر لفظ پاکستان (Pakistan) ابھرا جسے انہوں نے حکمت الٰہی سمجھ کر قبول کرلیا۔ ان کی سیکرٹری کے بقول اُس وقت چودھری صاحب ڈبل ڈیکر بس کی اوپر والی منزل پر محو سفر تھے اور گہری سوچ میں گم تھے۔ شاید یہ واقعہ 1930-31 کا ہے کیونکہ 1931ءمیں علامہ اقبال ؒ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن میں موجود تھے‘ جہاں چودھری صاحب اور خواجہ عبدالرحیم اُن سے ملے اور پاکستان اسکیم سے ان کا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے زندہ رُود میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ اقبالؒ نے کہا لفظ پاکستان کے حروف علیحدہ علیحدہ لکھ کر میرے بستر کے اردگرد رکھ جائیں تاکہ اس پر غور کرسکوں(صفحہ 514)۔ میں نے لندن میں دیئے گئے اس ”ڈنر“ کی تصویر بھی دیکھی ہے‘ جو چودھری رحمت علی نے گول میز کانفرنس کے مسلمان مندوبین کے اعزاز میں دیا اور جس میں قائداعظمؒ اور علامہ اقبال ؒ بھی تشریف فرما ہیں۔ تمام تر مساعی کے باوجود مسلمان لیڈر اُس وقت تک نہ پاکستان کے لفظ کو قبول کرنے کے لئے تیار تھے‘ نہ ایک علیحدہ آزاد مسلمان مملکت کے قیام کا مطالبہ کرنے کے لئے تیار تھے۔ سرآغا خان نے سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں اس اسکیم کی خوب مخالفت کی تھی اور مسلم لیگی لیڈران بھی اسے طالب علموں کی اسکیم سے زیادہ وقعت اور اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں تھے۔
دو تین برس تک لیڈران سے ملاقاتیں کرنے کے بعد چودھری صاحب نے پاکستان نیشنل موومنٹ کی بنیاد رکھی اور بالآخر 28 جنوری 1933ءکو 3۔ہیموسٹون روڈ کیمبرج سے ”ناﺅآر نیور“ نامی کتابچہ شائع کیا جس میں ٹھوس دلائل کے ساتھ پاکستان کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ”ہمیں زندہ رہنا ہے یا ہمیشہ کے لئے فنا ہوجانا ہے“ کے الفاظ سے شروع ہونے والا کتابچہ پاکستان کے حصول کو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے زندگی و موت کا مسئلہ قرار دیتا ہے۔ بین ہی یہ بات ہمیں قائداعظم کی ان گنت تقاریر میں ملتی ہے جو انہوں نے قرارداد پاکستان (لاہور‘ مارچ 1940ئ) کے بعد مختلف مقامات پر کیں۔ 1941ءمیں ہفتہ پاکستان مناتے ہوئے بھی انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہمارے لئے زندگی یا موت کا مسئلہ ہے اور ہم پاکستان ہر قیمت پر حاصل کریں گے۔ لطف کی بات ہے کہ چودھری صاحب کو حد درجہ کوششوں کے باوجود پاکستان کے حصول کے لئے لکھے گئے اس کتابچے اور بنائی گئی پاکستان نیشنل موومنٹ کی حمایت میں صرف تین حضرات مل سکے‘ جنہوں نے دستخط کئے۔ جو کتابچہ میرے سامنے رکھا ہے۔ اوپر چودھری رحمت علی کا نام ہے اور نیچے محمد اسلم خٹک‘ عنایت اللہ خان چارسدہ اور صاحبزادہ شیخ محمد صادق کے اسمائے گرامی ثبت ہیں۔ محترم اسلم خٹک اور محترم عنایت اللہ خان کا تعلق سابق صوبہ سرحد سے تھا جبکہ شیخ محمد صادق پنجاب کے رہائشی تھے۔
اسم پاکستان کے حوالے سے بحث ہوتی رہتی ہے۔ بلاشبہ ”لفظ پاکستان“ ضلع ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے علامہ سید غلام حسن شاہ کاظمی نے پہلی بار استعمال کیا جب انہوں نے 1928ءمیں ڈپٹی کمشنر ہزارہ کو ایک ہفت روزہ کے لئے ڈیکلریشن کےلئے درخواست دی جس کا نام پاکستان تھا۔ مجھے علامہ سید غلام حسن شاہ کاظمی کے فرزند نے اس حوالے سے کچھ مواد بھیجا تھا لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں یہ نام ایک ہفت روزے کے لئے تھا جبکہ چودھری رحمت علی اس پاکستان کا تصور پیش کررہے تھے جس میں ہم آج کل آزاد زندگی گزار رہے ہیں۔ ”ناﺅ آر نیور“ کی اسکیم میں بھی بنگال شامل نہیں تھا۔ اس حوالے سے اسکیم بعدازاں بنی۔ لفظ پاکستان کے حوالے سے کئی اور دعوے دار بھی ہیں لیکن میرا فقط ایک ہی سوال ہے کہ اس نام سے سب سے پہلے تحریری اسکیم کس نے پیش کی؟ کس نے پمفلٹ لکھ کر اراکین برطانوی پارلیمنٹ کو بھجوائے؟ کون اس اسکیم کو متعارف کروانے کے لئے بھاگ دوڑ کرتا رہا اور کس نے مسلمان لیڈران کو اس پر قائل کرنے کے لئے کوششیں کیں؟ دعوے کرنے والے تو اس پمفلٹ پر دستخط کرنے کو بھی تیار نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس زبانی دعوﺅں کے علاوہ کوئی ثبوت ہے۔ اگر انہوں نے برطانوی آقاﺅں یا کسی اور مصلحت کے تحت اپنے آپ کو اس نام اور تحریک سے دور رکھا تو اب دعوے کرنے کا کیا فائدہ؟ جو خود بڑھ کر اٹھا لے ہاتھ میں مینا اس کی ہے۔
(کالم نگارممتازمحقق اوردانشورہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved